توانائی کی ترسیل کے راستے کوئی ایک ملک تنہا محفوظ نہیں بنا سکتا: سربراہ آرامکو
توانائی کی ترسیل کے راستے کوئی ایک ملک تنہا محفوظ نہیں بنا سکتا: سربراہ آرامکو
پیر 12 اکتوبر 2026 16:58
امین ناصر کے مطابق ’بحران کے وقت مقامی پیداوار معیشت کے لیے ایک اہم محرک ثابت ہوتی ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی آرامکو کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ناصر نے کہا ہے کہ دنیا کو درکار توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور سپلائی روٹس کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے اور کوئی ایک ملک اکیلے یہ ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا۔
عرب نیوز کے مطابق ریاض میں 25ویں ڈبلیو پی سی انرجی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اپنی توانائی کی سپلائی کے تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، لیکن ’کوئی بھی ملک، چاہے وہ ہماری طرح کتنا ہی قابل اور پراعتماد کیوں نہ ہو، اکیلے ان کا تحفظ نہیں کر سکتا۔‘
امین ناصر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دنیا کے تقریباً نصف تصدیق شدہ تیل کے ذخائر اور 90 فیصد سے زائد اضافی پیداواری صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’مارکیٹیں سپلائرز کو متنوع بنا سکتی ہیں، جغرافیہ کو نہیں۔ اس لیے جب اس خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشتوں تک پہنچتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ حالیہ بحران کے دوران بھی سعودی عرب کا توانائی نظام مؤثر انداز میں کام کرتا رہا۔ ان کے مطابق اس مضبوطی کی بنیاد سخت حفاظتی معیارات، اضافی پیداواری صلاحیت، متنوع برآمدی راستوں، سائبر سکیورٹی، مالی استحکام اور افرادی قوت پر رکھی گئی تھی۔
امین ناصر نے کہا کہ آرامکو وزارتِ توانائی کے ساتھ مل کر خام تیل کی برآمد کے مزید راستوں اور بیرونِ ملک ذخیرہ کرنے کی سہولتوں میں اضافے کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ تنصیبات کے معائنے اور بحالی کے عمل کو تیز بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔
امین ناصر نے کہا کہ کمپنی ہائیڈروجن، کاربن کیپچر اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں بھی کام کر رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے کہا کہ مقامی صنعت کے فروغ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران آپریشنز کی بحالی کے لیے استعمال ہونے والے 90 فیصد سے زیادہ مواد سعودی عرب کے اندر سے حاصل کیا گیا، جس کے باعث مرمت کا کام ہفتوں اور مہینوں کے بجائے گھنٹوں اور دنوں میں مکمل ہو سکا۔
ان کے مطابق ’بحران کے وقت مقامی پیداوار معیشت کے لیے ایک اہم محرک ثابت ہوتی ہے۔‘
مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے امین ناصر نے کہا کہ آرامکو 2030 تک 2021 کے مقابلے میں گیس کی فروخت کے لیے پیداواری صلاحیت میں تقریباً 80 فیصد اضافہ کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قومی قابلِ تجدید توانائی پروگرام کے ساتھ مل کر اس حکمتِ عملی کا مقصد دہائی کے اختتام تک سعودی عرب میں بجلی کی پیداوار کو گیس اور قابلِ تجدید توانائی کے درمیان مساوی بنیادوں پر تقسیم کرنا ہے۔
امین ناصر نے کہا کہ کمپنی ہائیڈروجن، کاربن کیپچر اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں بھی کام کر رہی ہے۔
امین ناصر نے کہا کہ ’توانائی کی کمی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے زور دیا کہ تیل اور گیس آنے والے برسوں میں بھی عالمی توانائی کے نظام کا بنیادی حصہ رہیں گے، جبکہ توانائی کی منتقلی کے عمل میں ترقی پذیر ممالک کی معاشی ترقی کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
ان کے مطابق ’توانائی کی کمی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ توانائی کے نظام میں لچک اور استحکام پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی اہمیت کو تسلیم کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس کے فوائد پوری عالمی معیشت کو حاصل ہوتے ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر امین ناصر نے بحیرۂ احمر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی سمندری حیات انتہائی سخت حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور آرامکو بھی اسی طرح دباؤ کے حالات میں لچکدار اور مضبوط رہنے کی کوشش کر رہی ہے۔