Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایران کے ساتھ کاروبار سے باز رہیں‘، امریکہ کی غیرملکی مالیاتی اداروں کو وارننگ

امریکہ نے اگست کے آخر سے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی مہم تیز کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ نے غیرملکی مالیاتی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے ایران کے ساتھ کاروبار کیا تو واشنگٹن ان پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جو غیر ملکی مالیاتی ادارے پابندیوں کے شکار ایرانی اداروں کے ساتھ لین دین جاری رکھیں گے، انہیں کسی بھی وقت بغیر پیشگی اطلاع کے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایسے اداروں کو فوری طور پر یہ سرگرمیاں اور تعلقات ختم کرنے چاہییں۔
امریکہ نے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی جس میں ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور ایران سے جوہری سرگرمیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اس کے بعد جنگ کا دائرہ مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک تک بھی پھیلا۔ ایران نے جوابی کارروائی میں خلیج میں موجود امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا جبکہ ایک اہم سمندری راستہ آبنائے ہرمز بند ہونے سے عالمی سطح پر توانائی اور کھاد کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات بھی ہوتے رہے تاہم اب یہ سلسلہ بھی عملی طور پر رکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
امریکہ نے اگست کے آخر سے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی مہم تیز کی ہے۔ واشنگٹن نے اپنے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ایرانی حکومت کے ساتھ لین دین جاری رکھتے ہیں تو انہیں بھی ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی محکمۂ خزانہ نے اس مہم کے تحت ایران کے مالیاتی، کرپٹو کرنسی، ریلوے، گاڑیوں اور صنعتی شعبوں پر نئی پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔
امریکہ کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور ترکیہ کے دو بینکوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے جن پر ایران کی حکومت کی مبینہ مدد کرنے کا الزام ہے۔
امریکی وزارت خزانہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے نام نہاد ’خفیہ بینکاری‘ کے ذرائع استعمال کر رہی ہے اور غیرملکی اداروں کو ایسی سرگرمیوں سے نہ صرف بچنا چاہیے بلکہ ان کی نشاندہی بھی کرنی چاہیے۔
 

شیئر: