’ہم سعودی عرب میں ہیں، ڈرو مت‘: خطرے کے پیغام پر بچے کیسے ردعمل دیتے ہیں؟
’ہم سعودی عرب میں ہیں، ڈرو مت‘: خطرے کے پیغام پر بچے کیسے ردعمل دیتے ہیں؟
بدھ 14 اکتوبر 2026 7:14
بچوں کی ویڈیو کو 12 گھنٹوں کے اندر چھ لاکھ 50 ہزار سے زائد بار دیکھا گیا (فوٹو: سکرین گریب)
سعودی عرب میں جب ایک گھر کے اندر موبائل فون پر ایمرجنسی الرٹ کی آواز گونجی تو ایک بچے نے یہ کہہ کر دوسرے بچے کو تسلی دی کہ ’ہم سعودی عرب میں ہیں، ڈرو مت۔‘
منگل کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دو بچوں کو اپنے گھر میں سکون سے بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے کہ اسی دوران سکیورٹی وارننگ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ خوفزدہ ہونے کے بجائے ایک بچہ اپنے ساتھ بیٹھے دوسرے بچے کو تسلی دیتا ہے اور حوصلہ بڑھاتا نظر آتا ہے۔
ایکس پر ’@labeebhubb‘ نامی اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی اس ویڈیو کو 12 گھنٹوں کے اندر چھ لاکھ 50 ہزار سے زائد بار دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے بچے کے اعتماد اور بے ساختہ انداز میں دوسرے بچے کو تسلی دینے کے الفاظ کو سراہا۔
تاہم سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیے جانے والے اس لمحے سے ہٹ کر ہنگامی حالات اور خطرے سے متعلق وارننگز پر بچوں کے ردعمل نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان میں یہ سوالات بھی شامل ہیں کہ بچے ممکنہ خطرات کو کس حد تک سمجھتے ہیں، کن باتوں سے خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور والدین انہیں ایسی غیر مانوس صورتحال کے بارے میں کس طرح سمجھا سکتے ہیں۔
علاقائی تنازع کے وسیع تناظر میں سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے دوران نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کی جانب سے ممکنہ خطرات سے متعلق شہریوں کو پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔ ایسے میں خاندانوں کو بچوں کے ساتھ ان موضوعات پر بات چیت کرنا پڑ رہی ہے جن کا سامنا ممکن ہے کہ بہت سے بچے پہلی بار کر رہے ہوں۔
بعض بچوں کے لیے یہ الرٹ میسجز تجسس کا باعث بنتے ہیں جبکہ کچھ بچے ان آوازوں یا اپنے اردگرد موجود بڑوں کے ردعمل سے خوفزدہ ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ کسی بچے کا پُرسکون ردعمل اطمینان کا باعث بن سکتا ہے تاہم ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ بچے غیر یقینی صورتحال کو اپنی عمر، سمجھ بوجھ اور پچھلے تجربات کی بنیاد مختلف انداز میں سمجھتے ہین اور اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
موبائل فون پر احتیاطی تدابیر سے متعلق پیغام (فوٹو: عرب نیوز)
10 برس کے عبداللہ القحطانی نے بتایا کہ الرٹ کا میسج موصول ہونے پر سب سے پہلے جس چیز نے ان کی توجہ حاصل کی، وہ فون کی آواز تھی۔
انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھا تھا کہ اچانک فون بجنے لگے۔ ابتدا میں مجھے سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیا ہے، اس لیے میں نے اپنے والد سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک وارننگ ہے اور ہمیں گھر کے اندر رہنا چاہیے۔‘
یہ پوچھے جانے پر کہ آیا وہ خوفزدہ ہوئے تھے، عبداللہ نے بتایا کہ ابتدا میں وہ گھبرا گئے تھے لیکن والد کی جانب سے صورتحال کی وضاحت کرنے کے بعد انہیں اطمینان محسوس ہونے لگا۔
انہوں نے کہا کہ ’میں تھوڑی دیر کے لیے ڈر گیا تھا کیونکہ آواز بہت تیز تھی لیکن جب میرے والد نے بتایا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے تو مجھے بہتر محسوس ہونے لگا۔‘
ان کی والدہ ماھا العتیبی نے کہا کہ اس تجربے نے انہیں احساس دلایا کہ بچے غیر مانوس صورتحال میں اپنے والدین کے ردعمل کو کتنے غور سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’جب الرٹ میسج موصول ہوا تو میرا پہلا ردعمل یہ تھا کہ میں دیکھوں اس میں کیا لکھا ہے۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ میرا بیٹا مجھے دیکھ رہا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا کچھ برا ہونے والا ہے۔‘
ان کے مطابق بیٹے کے سوالات کو نظر انداز کرنے کے بجائے انہوں نے اسے سمجھایا کہ اس وارننگ کا مقصد لوگوں کو محفوظ رہنے میں مدد دینا ہے۔
عالمی سطح پر ریاض ایئرپورٹ پر حملے کی مذمت کی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ماھا العتیبی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اسے خوفزدہ نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن جب ہمیں الرٹ موصول ہو رہا تھا تو میں اسے یہ بھی نہیں کہنا چاہتی تھی کہ پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔‘
سعودی سول ڈیفنس کے زیرِ انتظام نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم ’سیل براڈکاسٹ ٹیکنالوجی‘ کے ذریعے براہِ راست موبائل فونز پر وارننگ پیغامات بھیجتا ہے۔ ان پیغامات کے ساتھ ایک مخصوص آواز بھی سنائی دیتی ہے۔ اس نظام کا مقصد شہریوں کو ممکنہ خطرات سے فوری طور پر آگاہ کرنا اور انہیں بتانا ہے کہ اپنی حفاظت کے لیے انہیں کیا اقدامات کرنے چاہییں۔
تاہم کم عمر بچوں والے خاندانوں کے لیے سرکاری الرٹ کے پیغامات موصول ہونے کا معاملہ صرف ہدایات پر عمل کرنے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ والدین کو یہ فیصلہ بھی کرنا پڑتا ہے کہ بچوں کو صورتحال کے بارے میں کتنی معلومات دینی چاہییں۔
9 برس کی ریم الدوسری نے بتایا کہ انہوں نے ایمرجنسی الارم کی آواز سنی تھی لیکن اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ ’جب میں نے یہ آواز سنی تو اپنی والدہ سے پوچھا کہ کیا ہمیں گھر سے باہر جانا ہوگا؟ انہوں نے بتایا کہ ہمیں گھر کے اندر رہنا چاہیے اور محفوظ ہونے تک انتظار کرنا چاہیے۔‘
ریم نے کہا کہ ’میں نے اپنی دادی کے بارے میں پوچھا کیونکہ وہ کسی دوسری جگہ رہتی ہیں۔ میں جاننا چاہتی تھی کہ کیا انہوں نے بھی یہی آواز سنی تھی۔‘
نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم براہِ راست موبائل فونز پر وارننگ پیغامات بھیجتا ہے (فوٹو: پکسینیو)
ریم کی والدہ ھدیٰ حسین نے بتایا کہ خطرہ ٹلنے کے بعد بھی ان کی بیٹی کے سوالات جاری رہے۔
انہوں نے کہا ’وہ جاننا چاہتی تھی کہ الرٹ کیوں جاری کیا گیا، کیا سب لوگوں کو یہ موصول ہوا تھا اور اگر ایسا دوبارہ ہوا تو ہم کیا کریں گے۔ مجھے احساس ہوا کہ صرف ایک مرتبہ صورتحال سمجھانا کافی نہیں تھا۔ وہ یہ جاننا چاہتی تھی کہ اگلی بار ایسی صورتحال پیش آنے پر ہم کیا کریں گے۔‘
الرٹ میسج پر بچوں کے مختلف ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہی صورتحال کو بچے مختلف انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ کوئی بچہ الرٹ کی آواز پر توجہ دیتا ہے، تو کسی کو اپنے رشتہ داروں کی سلامتی کی فکر ہوتی ہے۔ کچھ بچے خطرے کی وجہ جاننا چاہتے ہیں جبکہ بعض بڑوں سے تسلی اور اطمینان چاہتے ہیں۔
کم عمر سعودی بچے کی ویڈیو اس کے پُراعتماد ردعمل کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہنگامی صورتحال میں تمام بچے ایک جیسا ردعمل نہیں دیتے۔ کچھ بچے اپنے مانوس ماحول اور خاندان کے افراد کی موجودگی سے مطمئن ہو جاتے ہیں جبکہ بعض کو صورتحال سمجھنے کے لیے مزید وضاحت، تسلی اور سنی یا دیکھی گئی باتوں کو سمجھنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔