حائل میں انار کی کاشت سے زرعی پیداوار میں اضافہ
انار کے درخت پر کھلنے والے پھول دلکشی میں اضافے کا باعث ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
حائل ریجن میں متنوع زرعی پیداوار خطے میں دستیاب قدرتی وسائل اور پیداواری صلاحیتوں کے فروغ کی نمایاں مثال ہے۔ یہاں انار کی کامیاب کاشت کی جا رہی ہے جو زرعی معیشت کو بڑھا رہے ہیں۔
یہاں جدید زرعی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ چار ہزار 760 ٹن سے زائد انار کی بہترین اقسام کی پیداوار حاصل کی جا رہی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ریجن میں انار کے ایک باغ کے مالک علی العنزی کہا کہ ’انار کے درخت پر کھلنے والے پھول قدرتی حسن و دلکشی میں اضافے کا باعث ہوتے ہیں۔‘
علی العنزی نے بتایا کہ ’وہ انار کی کاشت سے گزشتہ 38 برس سے منسلک ہیں۔ ان کا باغ 198 دونم رقبے پر پھیلا ہوا ہے جہاں انار کے تین ہزار کے قریب درخت ہیں جن کی سالانہ پیداوار 150 ٹن تک پہنچتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’باغ میں انار کی مختلف اقسام کاشت کی جاتی ہیں جن میں طائف کا سبز انار، سیاہ انار، ارمش، الساتان اور سرخ الشربان شامل ہیں جو اس علاقے کی نمایاں اقسام میں شامل ہیں۔‘
سعودی کاشتکار کا کہنا تھا کہ ’انار کا فصل کا سیزن اگست سے شروع ہو کر نومبر تک جاری رہتا ہے جس کا انحصار پھلوں کے پکنے کے مراحل پر ہوتا ہے۔‘

علاقے کے ایک اور کاشتکار موسی القاسم نے بتایا کہ ’انار کی پیداوار کا تجربہ علاقے میں زرعی ترقی کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔‘
ان کے مطابق یہ کامیابی مختلف اقسام کے مطالعے اور مقامی ماحول سے مطابقت رکھنے والے جدید زرعی طریقوں کے استعمال سے حاصل ہوئی ہے۔

واضح رہے حائل ریجن اپنے زرعی تنوع اور کسانوں کی مقامی پیداوار بڑھانے کی کوششوں کے ذریعے زرعی شناخت کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔ مقامی مصنوعات کی مارکیٹنگ کا دائرہ وسیع کرنے پر بھی کام جاری ہے۔
