Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الباحہ کا انار: ثقافتی ورثے سے معاشی ترقی تک کا سفر

فیسٹیول میں انار کی مجموعی فروخت 10 ہزار ٹن سے تجاوز کر چکی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
الباحہ ریجن میں انار کی کاشت غیرمعمولی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ انار کا سفر اس کے باغات سے شروع ہوتا ہے۔ کاشت، کٹائی، چھانٹی، درجہ بندی، مارکیٹنگ اور پروسسینگ کے مراحل ایک اقتصادی چکر مکمل کرتے ہیں۔
القری کمشنری میں سالانہ انار فیٹسیول میں کاشتکاری سے لے کر مارکیٹنگ تک کے سفر کے مراحل کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق الباحہ ریجن میں وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے ڈائریکٹر انجینئرفہد الزھرانی نے بتایا یہ ریجن انار کی کاشت کے حوالے سے اہم  ہے۔ ماحولیاتی اور موسمی صورتحال انار کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔
علاقے میں انار فیسٹیول کے 14 ایڈیشن کامیابی سے منعقد ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران کاشتکاروں کی معاونت کرتے ہوئے نہ صرف معیار کو بہتر کیا گیا بلکہ مارکیٹنگ کے حوالے سے بھی اہم کردار ادا کیا گیا۔
 وزارت کا ریجنل دفتر انار کے کاشتکاروں کی مدد کرتا ہے۔ تربیتی ورکشاپس اور پروگرام کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جدید زرعی طریقوں کے نفاذ کی حوصلہ افزائی کے علاوہ پائیدار دیہی ترقی اور نامیاتی زراعت کے پروگراموں کے ذریعے مالی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

انار کی وسیع پیداوار کے لیے مارکیٹنگ کے شعبوں کو بھی مستحکم کیا جا رہا ہے۔ مقامی اقسام کے انار کے پودوں کی افزائش کے لیے سات ہزار مربع میٹر کا رقبہ نرسری کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
الباحہ میں انار کی کوآپریٹیو سوسائٹی کا قیام 1439 ہجری میں عمل میں آیا جس نے علاقے کی زرعی شناخت کو مزید مستحکم کیا ہے۔
سوسائٹی انار کے درختوں پر پھولوں کے آنے کے بعد مناسب انداز میں دیکھ بھال کرتی ہے۔ درست زرعی طریقوں، مارکیٹنگ کی مہارت اور زرعی ادویات کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہی و تربیتی پروگرام موجود ہیں۔ 

علاقے کے کاشتکار انوار الزھرانی کا کہنا تھا کہ علاقے میں انار کی کاشت نسل درنسل چلی آ رہی ہے۔ حکومتی معاونت سے کاشتکاروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
ایک اور کاشتکار احمد عبداللہ الزھرانی نے بتایا کہ انار کے درخت عام طور پر موسمِ بہار یا موسمِ خزاں کے آغاز میں لگائے جاتے ہیں۔ انار کی پیداوار عموماً 15 سے 20 سال کی عمر میں عروج پر پہنچتی ہے جبکہ درخت کی عمر 70 برس یا اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
ان کے بقول کاشتکار اور انار کے درخت کا تعلق ایک ایسے لمبے سفر کی مانند ہے جو بچپن سے شروع ہو کر بڑھاپے تک جاری رہتا ہے۔ انار کی کاشت بیک وقت محنت طلب اور منافع بخش ہے۔

الباحہ انار فیسٹیول کا آغاز 2021 میں ہوا تھا جو تسلسل سے جاری ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران فیسٹیول میں انار کی مجموعی فروخت 10 ہزار ٹن سے تجاوز کر چکی ہے۔
یہ فیسٹیول وادی بیدہ، مراوہ اور وادی تربہ کے کاشتکاروں کے لیے ایک اہم اور بڑے ایونٹ کی حیثیت رکھتا ہے، ان علاقوں میں انار کے پانچ ہزار 550 سے زیادہ کھیت موجود ہیں جہاں 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد درخت ہیں۔
ان باغات سے سالانہ ایک ہزار ٹن سے زائد انار پیدا ہوتا ہے جسے براہ راست کھیتوں سے فروخت کے لیے مارکیٹوں میں لایا جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باغوں کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔

 

شیئر: