Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی مہم نے خوف اور غصہ کیوں پیدا کیا؟

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری ووٹرز پر ڈال دی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا میں ووٹر فہرستوں کی بڑے پیمانے پر نظرثانی نے سیاسی تنازع کو جنم دے دیا ہے اور اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن پر لاکھوں افراد کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کا خطرہ پیدا کرنے کا الزام عائد کر رہی ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جون 2025 میں شروع کی گئی سپیشل انٹینسیو ریوژن (ایس آئی آر) مہم کا مقصد انتخابی فہرستوں سے دہرے اندراجات، فوت شدہ اور دیگر نااہل ووٹرز کے نام نکالنا ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری ووٹرز پر ڈال دی گئی ہے، جس کے تحت لاکھوں افراد کو اپنی اہلیت دوبارہ ثابت کرنا پڑ رہی ہے اور غلط طور پر فہرستوں سے خارج کیے جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
رواں ماہ ہزاروں افراد نے دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ان کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں ردوبدل وزیراعظم نریندر مودی کی حکمراں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظرثانی کا عمل قانون کے مطابق ہے اور کسی ووٹر کا ابتدائی فہرست سے خارج ہونا مستقل طور پر نام حذف کیے جانے کے مترادف نہیں۔
2024  کے عام انتخابات میں 96 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے تقریباً 65 کروڑ نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا تھا۔
عام طور پر ووٹر فہرستوں میں اموات، پتے کی تبدیلی یا نئے ووٹرز کے اندراج کے باعث تبدیلیاں کی جاتی ہیں لیکن ایس آئی آر مہم اس سے کہیں آگے جاتی ہے۔
اس عمل کے تحت تقریباً تمام ووٹرز کو اضافی فارم بھرنے اور پرانی ووٹر فہرستوں سے اپنے تعلق کے ثبوت فراہم کرنے کی ضرورت پیش آئی۔
سابق الیکشن کمشنر اشوک لواسا کے مطابق یہ طریقہ کار ماضی میں اختیار کیے گئے طریقوں سے بالکل مختلف ہے۔

اپوزیشن کی درخواستوں کے مطابق 13 کروڑ 30 لاکھ سے زائد نام نظرِثانی شدہ ووٹر فہرستوں سے خارج کیے گئے (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے بتایا کہ ’یہ طریقہ کار ماضی میں کیے جانے والے عمل سے مکمل طور پر مختلف ہے۔‘
ان کے مطابق پہلے گھر گھر جا کر تصدیق کی جاتی تھی، لیکن لوگوں سے دوبارہ اپنی اہلیت ثابت کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جاتا تھا۔
شفافیت کی کارکن انجلی بھاردواج کا کہنا ہے کہ اس عمل کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور کمزور طبقات پر پڑا ہے، کیونکہ دستاویزات فراہم کرنا اکثر ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’زیادہ تر معاملات میں دستاویزات کا بحران غریب لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔‘
ان کے مطابق خواتین، اقلیتیں اور پسماندہ طبقات اس مہم سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ ان کے لیے اپنی شہریت ثابت کرنے والی دستاویزات فراہم کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
انڈین میڈیا کی رپورٹس اور عدالت میں جمع کرائی گئی اپوزیشن کی درخواستوں کے مطابق 13 کروڑ 30 لاکھ سے زائد نام نظرِثانی شدہ ووٹر فہرستوں سے خارج کیے گئے۔
تاہم الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان تمام کیسز کو حتمی حذف شدہ ووٹرز قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اہل افراد اب بھی دوبارہ اندراج کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دہلی میں تقریباً 20 فیصد ایسے ووٹر مسلمان تھے جن کے ریکارڈ میں مبینہ تضادات پائے گئے (فوٹو: اے ایف پی)

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ اندراجات فوت شدہ افراد کے تھے، جبکہ ایک کروڑ 4 لاکھ اندراجات دہرے ریکارڈ قرار دیے گئے۔ مزید لاکھوں افراد کو غیر موجود، منتقل شدہ یا ناقابلِ شناخت قرار دیا گیا۔
اشوک لواسا نے کہا کہ اگر مقصد نااہل افراد کو نکالنا تھا تو الیکشن کمیشن کو واضح کرنا چاہیے کہ آخر کتنے افراد واقعی نااہل پائے گئے۔
اس مہم کے دوران لاکھوں ووٹرز کو اضافی جانچ پڑتال کے لیے بھی نشان زد کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے خودکار نظام استعمال کرتے ہوئے ناموں اور خاندانی معلومات میں مبینہ تضادات کی نشاندہی کی۔
آزاد تجزیوں کے مطابق مسلمانوں کا تناسب ان افراد میں غیر معمولی طور پر زیادہ رہا جنہیں مشکوک قرار دیا گیا۔
اخبار دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق دہلی میں تقریباً 20 فیصد ایسے ووٹر مسلمان تھے جن کے ریکارڈ میں مبینہ تضادات پائے گئے، جبکہ ووٹرز میں ان کا مجموعی تناسب 13.6 فیصد تھا۔
مغربی بنگال میں صابر انسٹیٹیوٹ کے مطابق 27 لاکھ سے زائد ووٹرز کے جن کیسز کی جانچ کی گئی، ان میں تقریباً 70 فیصد مسلمان تھے، حالانکہ ریاستی ووٹرز میں ان کا تناسب تقریباً 27 فیصد ہے۔
ادارے کے سربراہ صابر احمد نے کہا کہ ’متعدد اعداد و شمار یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کے نام سب سے زیادہ حذف کیے جا رہے ہیں۔‘


بی جے پی اس نظرثانی مہم کی بھرپور حمایت کرتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ یہ مشق غیر ملکی شہریوں کو ووٹر فہرستوں میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے ضروری ہے۔
بی جے پی رہنما طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن، خصوصاً مسلمان، دھوکے سے انتخابی فہرستوں میں شامل ہوئے ہیں۔ بی جے پی اس نظرثانی مہم کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔
اس معاملے میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ لسانی اور سماجی تنوع رکھنے والے ملک میں مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام ہمیشہ درست نتائج نہیں دے سکتے۔
صابر احمد کے مطابق ’انہوں نے ایسی مصنوعی ذہانت نافذ کی ہے جس کا مناسب تجربہ نہیں کیا گیا۔‘
ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مقامی افسران کے فیصلوں کو نظرانداز کر سکتی ہے، حالانکہ وہ مقامی ووٹرز اور کمیونٹیز کے بارے میں بہتر معلومات رکھتے ہیں۔
انجلی بھاردواج نے بھی ووٹرز کی نشاندہی کے لیے استعمال ہونے والے الگورتھمز کے بارے میں شفافیت نہ ہونے پر تنقید کی ہے۔
اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیق کے مطابق الیکشن کمیشن کے تین میں سے دو ارکان نے بارہا خدشات ظاہر کیے کہ سافٹ ویئر پر مرکزی کنٹرول کی وجہ سے مقامی افسران کے اختیارات محدود ہو رہے ہیں۔

ریاستی حکام نے ہدایت دی ہے کہ ووٹر فہرستوں سے خارج افراد کو فلاحی سہولیات فراہم نہ کی جائیں (فوٹو: اے ایف پی)

الیکشن کمیشن نے ان الزامات کی تردید کی ہے لیکن سسٹمز کا آزادانہ تکنیکی آڈٹ کرانے کا حکم دیا ہے۔
انڈیا کی سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ ووٹر فہرست سے نام خارج ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ شخص غیر شہری قرار دے دیا گیا ہے۔
تاہم انڈین میڈیا نے ایسے واقعات رپورٹ کیے ہیں جن میں مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں سے خارج کیے جانے والے بعض افراد کو بعد میں حراست میں لیا گیا اور بعض معاملات میں انہیں بنگلہ دیشی سرحد کی طرف بھی دھکیل دیا گیا۔
ریاستی حکام نے سرکاری اہلکاروں کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ ووٹر فہرستوں سے خارج افراد کو فلاحی سہولیات فراہم نہ کی جائیں، جبکہ بعض رپورٹس میں پاسپورٹ منسوخ کیے جانے کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ان پیش رفتوں نے اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے کہ ووٹر فہرستوں کی صفائی کے نام پر شروع کیا گیا عمل ووٹنگ کے حق سے کہیں بڑھ کر دیگر سنگین نتائج بھی پیدا کر سکتا ہے۔

 

شیئر: