انڈیا : ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا احتجاج، ابھیجیت دپکے اور یوٹیوبر دھرو راٹھی زیرحراست
انڈیا : ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا احتجاج، ابھیجیت دپکے اور یوٹیوبر دھرو راٹھی زیرحراست
ہفتہ 10 اکتوبر 2026 7:49
انڈین پولیس نے سنیچر کو الیکشن کمیشن کے خلاف ہونے والے بڑے احتجاج سے قبل ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے سربراہ کو حراست میں لے لیا ہے۔ پارٹی کے مطابق ابھیجیت دپکے اور دو دیگر رہنماؤں کو نئی دہلی پہنچنے والی پرواز سے اترنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ مظاہرے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری اپوزیشن مہم کا نتیجہ ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں لاکھوں ووٹرز حق رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں اور اس کا فائدہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پہنچ سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خصوصی نظرثانی مہم کا مقصد صرف دہرے اندراجات اور نااہل ووٹرز کے نام فہرستوں سے نکالنا ہے۔
اپوزیشن جماعت عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے کہا کہ ’اب یہ بات سرکاری طور پر واضح ہو چکی ہے کہ ہم مودی کے زیر حکومت ایک مکمل آمریت میں رہ رہے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ پرواز سے اترتے ہی کارکنوں کی گرفتاری حکومت کے خوف کو ظاہر کرتی ہے۔
جمعے سے نئی دہلی میں سخت سکیورٹی نافذ ہے۔ حکام نے ہزاروں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں، درجنوں میٹرو سٹیشن بند کر دیے گئے ہیں، کئی ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ احتجاجی مقام کے اطراف موبائل انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
ٹی وی فوٹیج میں پولیس کو مرکزی دہلی کے مختلف علاقوں میں مظاہرین کا تعاقب کرتے اور انہیں گاڑیوں میں بٹھا کر لے جاتے ہوئے دکھایا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق اب تک 200 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
موجودہ احتجاج کو جولائی میں ہونے والی اسی تحریک کی عوامی مہم کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایک امتحانی سکینڈل کے بعد بھارتی وزیر تعلیم مستعفی ہو گئے تھے۔ اس بار مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مودی کو ایک نیا سیاسی چیلنج
بی جے پی کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی مقبولیت اور انڈیا کی معاشی ترقی اس کی انتخابی کامیابیوں کی بنیادی وجوہات ہیں، جبکہ اپوزیشن اپنی انتخابی ناکامیوں کی وجہ سے ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ صبح 10 بجے نئی دہلی کے مرکز میں واقع جنتر منتر پر جمع ہوں گے (فوٹو: اے ایف پی)
اس کے باوجود اپوزیشن کی جانب سے تقریباً روزانہ ہونے والے احتجاج مودی حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن چکے ہیں۔ چند ماہ قبل بھی اسی نوعیت کے عوامی دباؤ کے نتیجے میں لیک ہونے والے امتحانی پرچوں کے معاملے پر وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب 2027 کے اوائل سے مختلف اہم ریاستی انتخابات شروع ہونے والے ہیں، جن میں بی جے پی کے زیرِ اقتدار انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش بھی شامل ہے۔
احتجاج کی اجازت نہیں ملی، لیکن مظاہرین پرعزم
خود کو’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کہنے والے مظاہرین کا گروپ، جو ابتدا میں ایک آن لائن طنزیہ تحریک کے طور پر سامنے آیا تھا، نے اعلان کیا ہے کہ وہ صبح 10 بجے نئی دہلی کے مرکز میں واقع جنتر منتر پر جمع ہوں گے جو حکومتی طور پر احتجاج کے لیے مختص مقام ہے۔
دہلی پولیس نے جمعے کو کہا کہ احتجاج کے لیے اجازت نہیں دی گئی کیونکہ درخواست وقت پر جمع نہیں کرائی گئی تھی، ماضی کے احتجاجوں میں سی جے پی اپنی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کر چکی ہے، اور انتظامیہ کو قانون و امن برقرار رکھنا ہے۔
پولیس نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے پابندی کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
احتجاجی مقام کے چار کلومیٹر کے دائرے میں جمعے کی رات سے سنیچر کی رات تک موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی (فوٹو: اے ایف پی)
تاہم سی جے پی قیادت نے پولیس کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج ان کا بنیادی آئینی حق ہے اور وہ ہر حال میں مظاہرہ کریں گے۔
ٹرینیں منسوخ، میٹرو سٹیشن بند، انٹرنیٹ معطل
مظاہرین کی نئی دہلی اور مرکزی کاروباری علاقے تک رسائی محدود کرنے کی کوشش کے طور پر جمعے کو شہر آنے والی کئی طویل فاصلے کی ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ جمعے کی رات سے57 میٹرو سٹیشن بھی بند کر دیے گئے۔
خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق سرکاری حکم نامے کے تحت احتجاجی مقام کے چار کلومیٹر کے دائرے میں جمعے کی رات سے سنیچر کی رات تک موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی۔