چین نے انڈیا کی طرف سے لداخ میں 28 مقامات کے ناموں کی تبدیلی کو ’غیر قانونی اور بے اثر‘ قرار دے دیا
چین نے انڈیا کی طرف سے لداخ میں 28 مقامات کے ناموں کی تبدیلی کو ’غیر قانونی اور بے اثر‘ قرار دے دیا
منگل 13 اکتوبر 2026 17:42
ماؤ ننگ کے مطابق انڈیا کے تازہ انتظامی اقدامات متنازع علاقوں کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے (فوٹو: اے ایف پی)
چین نے لداخ میں 28 مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کے ناموں کو سرکاری انڈین نقشے میں شامل کرنے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نام نہاد انڈین’یونین ٹیریٹری آف لداخ‘ کو کبھی تسلیم نہیں کرتا اور نئی دہلی کی یکطرفہ علاقائی کارروائیوں کو غیر قانونی اور غلط سمجھتا ہے۔
چینی نیوز ایجنسی ’شِن ہَوا‘ کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے منگل کو پریس بریفنگ میں کہا کہ انڈیا کی جانب سے متنازع علاقوں، بشمول ان علاقوں جو چین کے مؤثر کنٹرول میں ہیں، کے لیے نام مقرر کرنے کی مخالفت کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’چین نے انڈیا کی جانب سے یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر قائم کیے گئے نام نہاد ’یونین ٹیریٹری آف لداخ‘ کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔‘
ماؤ ننگ کے مطابق انڈیا کے تازہ انتظامی اقدامات متنازع علاقوں کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’انڈیا کے یہ اقدامات غیر قانونی اور کالعدم ہیں اور اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے کہ چین انڈیا سرحد کے مغربی سیکٹر کے متعلقہ علاقے ہمیشہ سے چین کا حصہ رہے ہیں۔‘
یہ بیان بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان متنازع ہمالیائی سرحد، خصوصاً مغربی سیکٹر پر جاری اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔
’لداخ انڈیا کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے‘
دوسری جانب انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق انڈیا نے 2 اکتوبر کو باضابطہ طور پر لداخ کے 28 اہم مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کو سرکاری انڈین نقشے میں شامل کیا۔ ان میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے قریب واقع اہم سرحدی کشیدگی کے مقامات گوگرا اور ہاٹ سپرنگ بھی شامل ہیں۔
انڈین حکومت کے مطابق یہ اقدام لداخ انتظامیہ کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا تاکہ سرکاری نقشہ سازی کو مؤثر بنایا جا سکے، حساس سرحدی علاقوں کی درست شناخت ممکن ہو اور عوام میں ان علاقوں کے بارے میں بہتر آگاہی پیدا کی جا سکے۔
چینی فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں کم از کم 20 انڈین اور چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈین وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ان مقامات کی لداخ کے سرکاری نقشے میں باضابطہ شناخت کا مقصد ان کی درست پہچان اور عوامی آگاہی کو فروغ دینا ہے۔‘
گوگرا اور ہاٹ سپرنگ 2020 میں انڈین اور چینی افواج کے درمیان کشیدگی کے دوران اہم تنازعے کے مراکز رہے تھے اور یہ مقامات ایل اے سی پر انڈین گشت کے لیے اہم تصور کیے جاتے ہیں۔
انڈین وزارتِ خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات دہرائی جاتی ہے کہ یونین ٹیریٹری آف لداخ انڈیا کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔ چینی فریق کی کسی بھی سطح کی تردید اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔‘
15 اور 16 جون 2020 کو وادیٔ گلوان میں انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں کم از کم 20 انڈین اور چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ 1975 کے تلنگ لا واقعے کے بعد یہ چین اور انڈیا کی سرحد پر پہلی شدید فوجی جھڑپ تھی۔