Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بی جے پی حکومت نے کولکتہ کی سڑکوں کے کمیونسٹ نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

مغربی بنگال کی کمیونسٹ حکومت نے 1970 کی دہائی میں ویت نام جنگ کے دوران ان سڑکوں کے نام کمیونسٹ رہنمائوں کے نام پر رکھے تھے (فوٹو: آئی سٹاک)
انڈیا کی ہندو قوم پرست حکومت والی ریاست مغربی بنگال میں حکام نے بدھ کو کہا ہے کہ کولکتہ کی اُن سڑکوں کے نام تبدیل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جو ماضی میں ریاست پر حکمرانی کرنے والی بائیں بازو کی حکومتوں نے کمیونسٹ رہنماؤں کے نام پر رکھے تھے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، 10 رُکنی کمیٹی کے سربراہ سوامی پردیپتانند نے کہا کہ ’ہمیں لینن، کارل مارکس اور ہو چی منہ کے ناموں سے منسوب سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کی متعدد تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ہم اب ان تجاویز پر عمل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔‘
وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مئی میں پہلی مرتبہ 10 کروڑ سے زائد آبادی والی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں اقتدار حاصل کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پاپولسٹ جماعت ترنمول کانگریس کی 15 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا، جس نے خود بھی کمیونسٹ پارٹی کو حکمرانی سے ہٹا کر ریاست میں اقتدار قائم کیا تھا۔
کمیٹی کے سینیئر رکن اور انڈین ریاستوں تریپورہ اور میگھالیہ کے سابق گورنر تاتھاگتا رائے نے کہا کہ ’کمیٹی بائیں بازو کے لوگوں کی جانب سے کیے گئے شرپسندانہ اقدامات کی تلافی کرنے کی کوشش کرے گی۔‘
انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’لینن، مارکس اور ہو چی منہ کے نام پر رکھی گئی سڑکوں کے نام یقینی طور پر تبدیل کیے جائیں گے۔‘
یہ نام مغربی بنگال کی کمیونسٹ حکومت نے 1970 کی دہائی میں اُس وقت رکھے تھے جب ریاست میں کمیونسٹ جماعت برسراقتدار تھی اور ویت نام جنگ جاری تھی۔
ہو چی منہ سارانی کا سابق نام ہیرنگٹن سٹریٹ تھا، بنگالی زبان میں لفظ سارانی کا مطلب سڑک ہے۔ یہ نام برطانوی نوآبادیاتی دور کے ایک عہدیدار کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اُس وقت کولکتہ کو کلکتہ کہا جاتا تھا اور یہ برطانوی ہندوستان کا دارالحکومت تھا۔
تاتھاگتا رائے نے کہا کہ ’ہیرنگٹن سٹریٹ کا نام ہو چی منہ کے نام پر اس لیے رکھا گیا تھا تاکہ امریکیوں کو چڑایا جا سکے کیونکہ امریکی قونصل خانہ اسی سڑک پر واقع ہے۔‘
انہوں نے تجویز دی کہ اس کا نام تبدیل کرکے امریکی شہری حقوق کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے نام پر رکھا جا سکتا ہے۔
لینن سارانی کا سابق نام دھرم تلہ سٹریٹ تھا۔ یہ نوآبادیاتی دور کا نام تھا جس سے کسی مقدس مقام کی طرف اشارہ ملتا تھا۔ سال 1970 میں روسی انقلابی رہنما ولادیمیر لینن کی پیدائش کی سوویں سالگرہ کے موقعے پر اس کا نام تبدیل کرکے لینن سارانی رکھا گیا تھا۔
سرکلر گارڈن ریچ روڈ کا نام تبدیل کرکے جرمن فلسفی کارل مارکس کے نام پر کارل مارکس سارانی رکھا گیا تھا۔
تاتھاگتا رائے نے تجویز دی کہ لینن سارانی کا نام آنجہانی دیباپرساد گھوش کے نام پر رکھا جا سکتا ہے، جو ریاضی دان اور بھارتیہ جن سنگھ کے سابق صدر تھے۔ بھارتیہ جن سنگھ وہ سیاسی جماعت تھی جو بعد میں مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کی پیش رو بنی۔

لینن سارانی کا سابق نام دھرم تلہ سٹریٹ تھا۔ یہ نوآبادیاتی دور کا نام تھا جس سے کسی مقدس مقام کی طرف اشارہ ملتا تھا (فوٹو: گلف نیوز)

تاتھاگتا رائے کے مطابق مارکس کے نام سے منسوب سڑک کا نام 19 ویں صدی کے معروف بنگالی شاعر مائیکل مدھوسودن دت کے نام پر بھی رکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’کمیٹی سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کے لیے اِن شخصیات کی انڈین اور بنگالی ثقافت سے مطابقت کو مدِنظر رکھے گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری سفارشات غور کے لیے ریاستی قانون ساز اسمبلی کو بھیجی جائیں گی۔

شیئر: