سال 2011 میں یمن کے دارالحکومت صنعا کے ’تبدیلی کے چوک‘ پر، میں نے ہزاروں نوجوان یمنی مظاہرین کے ساتھ جمہوریت، عزتِ نفس اور انسانی حقوق کے حق میں نعرے لگائے۔
لیکن تین سال بعد ایک مختلف قوت اِسی دارالحکومت میں داخل ہوئی۔ یہ لوگ مسلح تھے، منظم تھے اور اُن مطالبات میں سے کسی میں بھی دلچسپی نہیں رکھتے تھے جن کے لیے ہم آواز بلند کر رہے تھے۔
آج اِن کے پاس بیلسٹک میزائل اور ڈرونز ہیں اور یہ دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ خود کو ’انصار اللہ‘ یعنی اللہ کے مددگار کہتے ہیں، لیکن یہ دنیا بھر میں زیادہ تر حوثیوں کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
یہ اِس سفر کی کہانی ہے کہ وہ یہاں تک کیسے پہنچے؟
سنہ 893 عیسوی میں شمالی یمن کے پہاڑوں میں شیعہ اسلام کے ایک مکتبِ فکر ’زیدیت‘ نے جڑیں پکڑیں۔
زیدیت درحقیقت شیعہ اسلام کا وہ مکتبۂ فکر ہے جو اہلِ سنت کے عقائد سے سب سے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔ اس کے پیروکار ان 12 آئمہ پر یقین نہیں رکھتے جو ایران میں رائج مرکزی شیعہ عقیدے کی بنیاد ہیں۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ سیاسی اقتدار پر حقِ حکمرانی پیغمبر اسلام ﷺکی نسل کو حاصل ہے اور یہ حق ووٹ دینے والوں سے نہیں بلکہ خاندانی نسب سے وابستہ ہے۔
یمن میں امامت کے نام سے معروف زیدی سلطنت ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے تک وقفے وقفے سے حکمران رہی۔
صدیوں کے دوران یہ سلطنت کئی بار زوال کا شکار ہوئی لیکن اِس کے بنیادی سیاسی نظریات سال 1962 تک برقرار رہے۔ اِسی سال ایک جمہوری انقلاب نے امامت کا تختہ الٹ دیا اور ایک جدید قومی ریاست قائم کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔
شمالی یمن کے نام سے معروف یمن عرب جمہوریہ نے نئے سکول، نئے ہسپتال، نئے قوانین اور ایسا آئین متعارف کرایا جس کی بنیاد ذات پات کی بجائے شہریت پر تھی۔
لیکن زیدی مذہبی اشرافیہ کے پرانے حلقے کے نزدیک یہ پیش رفت نہیں بلکہ اُن کے وجود کا خاتمہ تھا۔
سال 1990 میں جب شمالی اور جنوبی یمن ایک نئے جمہوری آئین کے تحت متحد ہوئے تو بیشتر زیدی علما نے نئے نظام کو قبول کر لیا لیکن ایک سخت گیر دھڑے نے ایسا نہیں کیا۔
اِن میں ایک عالم بدرالدین الحوثی بھی تھے، جن کے بیٹوں نے اس مزاحمت کو جنگ میں تبدیل کر دیا۔

1990کی دہائی کے اوائل میں شمالی یمن کے صوبے صعدہ میں زیدی مذہبی احیا کی ایک تحریک ابھری، جسے ’الشباب المؤمن‘ یعنی مومن نوجوان کہا جاتا تھا۔ اِس کا مقصد نئی جمہوری ریاست کے تحت قدیم زیدی عقیدے کو زندہ رکھنا تھا۔
اِس تحریک کے سب سے زیادہ اثرانداز ہونے والے ارکان میں بدرالدین الحوثی کے بیٹے حسین الحوثی شامل تھے۔ وہ 1990 کی دہائی میں پارلیمان کے رکن رہے، لیکن سال 1995 میں اپنے والد کے ہمراہ ایران کے دورے کے بعد اُن کی سوچ میں بنیادی تبدیلی آئی۔ وہ صرف مذہبی اعتبار سے نہیں بلکہ نظریاتی طور پر بھی ایک نئے تصور کے ساتھ واپس آئے۔
اُنہوں نے روایتی زیدی عقائد کو ایک نئے نظریے کے ساتھ جوڑ دیا، جسے خمینیت کہا جاتا ہے۔ یہ ایران کے 1979 کے انقلاب سے جنم لینے والا انقلابی اور مغرب و اسرائیل مخالف نظریہ تھا، جس کا نام ایران کے اولین سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی کے نام پر رکھا گیا۔
حسین الحوثی نے زیدی تحریک کے اصل بانیوں کو پسِ منظر میں دھکیل دیا اور اسے اپنے نظریات کے مطابق ازسرنو تشکیل دیا۔
سال 2000 کے بعد یہ تحریک صرف مذہبی تعلیم و مطالعے کے حلقے تک محدود نہ رہی بلکہ ایک مسلح ملیشیا کی شکل اختیار کرنے لگی، جسے لبنان کی حزب اللہ کی طرز پر تقریباً دانستہ طور پر منظم کیا گیا۔
سال 2004 میں حوثیوں اور یمنی ریاست کے درمیان جنگ چھِڑ گئی۔ اسی سال یمنی فوج کے ساتھ ایک جھڑپ میں حسین الحوثی مارے گئے۔
اس کے بعد تحریک کی قیادت اُن کے ایک کم عمر بھائی کے ہاتھ میں آگئی، جسے دنیا بعد میں اچھی طرح جاننے لگی۔ اُن کا نام عبدالملک الحوثی تھا۔
سال 2004 سے سال 2010 کے درمیان چھ جنگیں ہوئیں۔ حوثیوں کو اگرچہ کئی محاذوں پر پسپائی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اُن کی تحریک ختم نہ ہو سکی۔

اُنہوں نے صعدہ کے پہاڑوں میں کچھ ایسا حاصل کر لیا جسے ختم کرنا یمنی ریاست کے لیے آسان نہیں تھا: یعنی وہ اِس علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب رہے۔
پھر 2011 کا سال آیا اور عرب بہار کی تحریک شروع ہوئی۔ ایک لمحے کے لیے ایسا لگا کہ حوثی یمن کے جمہوری مستقبل کا حصہ بن جائیں گے۔
یمن کے شہری سال 1990 میں ملک کے اتحاد کے بعد سے صدر چلے آ رہے علی عبداللہ صالح کے 33 سالہ اقتدار کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔
سول سوسائٹی کے رہنماؤں کو امید تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ وسیع سیاسی اتحاد قائم کر سکیں گے، چنانچہ اُنہوں نے حوثیوں کو بھی اِس میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ بیشتر کارکنوں کی نظر میں حوثی ایک صوبائی شورش پسند گروہ سے تعلق رکھتے تھے، جنہیں مرکزی حکومت سے شکایات تھیں، وہ انہیں ملک کے لیے کسی بڑے خطرے کے طور پر نہیں دیکھتے تھے۔
عبدالملک الحوثی نے اعلان کیا کہ ان کی تحریک نوجوانوں کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے، جس پر مظاہرین نے ان کا خیرمقدم کیا۔
یہ ایک تباہ کن غلط اندازہ ثابت ہوا۔
جب ملک کی توجہ دارالحکومت صنعا پر مرکوز تھی، حوثیوں نے یمن کے ایک قبائلی اسلحہ سمگلر فارس منّاع کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ اقوامِ متحدہ اور امریکہ نے سال 2010 میں فارس منّاع پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اُن پر الزام تھا کہ اُنہوں نے اسلحے کی پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’براہِ راست یا بالواسطہ طور پر صومالیہ کو اسلحہ یا اس سے متعلق سامان فراہم کیا، فروخت کیا یا منتقل کیا۔‘

اِس معاہدے نے حوثیوں کے لیے پہلی بار شہر صعدہ پر قبضہ کرنے کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے فارس منّاع کو گورنر مقرر کیا اور اس کے بدلے شہر کے فوجی ڈھانچے پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ یوں صعدہ حوثیوں کے مکمل اقتدار میں آنے والا یمن کا پہلا صوبہ بن گیا۔
اسی سال بعد میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ایک منصوبے کے تحت علی عبداللہ صالح اقتدار سے دست بردار ہونے پر رضامند ہو گئے۔ اس کے بدلے انہیں قانونی کارروائی سے استثنا دیا گیا اور ایک عبوری حکومت نے اقتدار سنبھال لیا۔
لیکن حوثیوں نے اِس معاہدے کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے اسے یمن کے انقلاب کے خلاف مغرب اور سعودی عرب کی سازش قرار دیا اور ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔
اس کے کچھ ہی عرصے بعد ایسا واقعہ پیش آیا جس کی پیش گوئی تقریباً کسی نے نہیں کی تھی۔ علی عبداللہ صالح، جن کے خلاف حوثی ایک دہائی تک لڑتے رہے تھے، نئی حکومت کے خلاف اُن کے سٹریٹیجک اتحادی بن گئے۔
فروری 2012 میں ایک ایسی پیش رفت ہوئی جسے خطرے کی گھنٹی سمجھا جانا چاہیے تھا۔ روایتی زیدی علما نے حوثیوں کے ساتھ ایک نئی دستاویز پر دستخط کیے، جسے ’فکری و ثقافتی منشور‘ کہا گیا۔ اِس منشور میں تحریک کے حقیقی نظریات اور حکمرانی کے تصور کو واضح کیا گیا تھا۔
اس کے مطابق اقتدار پر حق صرف پیغمبر اسلام ﷺ کی نسل کو حاصل تھا، نہ کہ منتخب عہدے داروں یا آئین کو۔

یہ اب صرف ایک ایسا گروہ نہیں رہا تھا جو کسی مخالف حکومت سے صعدہ کا دفاع کر رہا ہو۔ یہ ایک ایسی تحریک بن چکی تھی جس کے پاس پورے ملک پر حکمرانی کے لیے ایک مذہبی و نظریاتی خاکہ موجود تھا۔
اسی عرصے میں ایران نے حوثیوں پر زیادہ توجہ دینا شروع کر دی۔ سال 2011 سے 2012 کے دوران ایران نے یمن سے متعلق معاملات ایک ایسی تنظیم کے سپرد کر دیے جسے بیرونِ ملک اپنے حمایت یافتہ گروہوں کو چلانے کا گہرا تجربہ حاصل تھا: حزب اللہ۔
لبنان سے تعلق رکھنے والے حزب اللہ کے ارکان نے یمنی کارکنوں کے لیے سیمینار منعقد کیے، جن کا بظاہر موضوع عرب بہار تھا۔
حقیقت میں ان سیمینارز کے ذریعے ممکنہ بھرتیوں کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔ اِس عمل میں مرکزی کردار حزب اللہ کے ایک کمانڈر کا تھا، جو ابو مصطفیٰ کے فرضی نام سے کام کرتا تھا۔ اس کا اصل نام خلیل یوسف حرب تھا۔ بعد میں امریکہ نے اِسے عالمی دہشت گرد قرار دیا اور اِس کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر 50 لاکھ ڈالر انعام مقرر کیا۔
ممکنہ طور پر بھرتی کے لیے موزوں امیدواروں کو اگلے مرحلے میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ایک اہلکار کے حوالے کیا جاتا تھا، جو بیروت میں مقیم تھا۔ بعدازاں انہیں طیاروں کے ذریعے ایران منتقل کیا جاتا تھا۔
2012 سے 2014 کے درمیان حوثیوں کے وفود تربیت حاصل کرنے کے لیے باقاعدگی سے ایران اور لبنان جاتے رہے جن میں فوجی کمانڈر بھی شامل تھے۔ اِس تربیت میں مواصلاتی نظام، میزائل ٹیکنالوجی اور ڈرون جنگ کے طریقے شامل تھے۔
جنوری 2013 میں یمنی حکام نے امریکی معاونت سے ایک ایسے جہاز کو روک لیا جس پر ایران سے بھیجے گئے اسلحے کی بھاری کھیپ لدی ہوئی تھی اور جسے حوثیوں تک پہنچایا جانا تھا۔ اس کھیپ میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، فوجی استعمال کا اعلیٰ درجے کا دھماکا خیز مواد اور راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ شامل تھے۔ تہران نے تمام الزامات مسترد کر دیے، لیکن شواہد مسلسل سامنے آتے رہے۔
ستمبر 2014 تک حوثی پوری طرح تیار ہو چکے تھے۔ انہوں نے بالآخر جب دارالحکومت کی طرف پیش قدمی کی تو تقریباً کسی نے اُن کا راستہ نہیں روکا۔

حکومت نے برائے نام مزاحمت کی، اور سال 2011 میں حوثیوں کا خیرمقدم کرنے والے سول سوسائٹی کے کارکن ہی اگلا نشانہ بن گئے۔
حوثیوں نے یمن کی سول سوسائٹی کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع کر دیں۔
فرار ہونے سے بچ جانے والے لوگوں کو حراست میں لے کر تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔ اِن میں سے بہت سے افراد تشدد کے دوران ہلاک ہو گئے۔
ستمبر 2015 تک عبدالملک الحوثی نے ایک نیا ہدف مقرر کر لیا تھا: صحافت۔
انہوں نے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں اپنے پیروکاروں سے کہا کہ صحافی دشمن کے جنگجوؤں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ اِس کے بعد 80 سے زیادہ ذرائع ابلاغ کے ادارے بند کر دیے گئے۔
مذہبی اقلیتیں ابتدا ہی سے حوثیوں کے نشانے پر تھیں۔ یمن کی قدیم یہودی برادری، جو ساڑھے تین ہزار سال سے زیادہ عرصے سے اس ملک میں آباد تھی، کو ہراساں کیا گیا، تذلیل کا نشانہ بنایا گیا اور بالآخر ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ مارچ 2021 میں اس برادری کے آخری تین خاندان بھی یمن سے چلے گئے۔
بہائی برادری کو بھی قید و بند اور ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا۔
لیکن حوثیوں کو عام باغی حکومتوں سے مختلف بنانے والی بات یہ تھی کہ انہوں نے ریاست کی جگہ کوئی نیا نظام قائم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے اِس کی بجائے ریاستی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا اور اِس کے متوازی اپنا نظام چلاتے رہے۔
ہر وزارت، ہر صوبے اور ہر محلے میں ایک عہدہ دار مقرر کیا گیا، جسے ’نگران‘ کہا جاتا تھا۔ یہ نگران کاروباری اداروں سے بھتہ وصول کرتے، ایندھن کی غیرقانونی منڈیوں کا انتظام چلاتے اور اپنے اوپر موجود نیٹ ورک کے سوا کسی کو جواب دہ نہیں تھے۔
اس کے نتیجے میں بنیادی عوامی خدمات کا نظام تباہ ہو گیا۔
ہر نگران پر لازم تھا کہ وہ تین چیزیں اِس نیٹ ورک کو فراہم کرے: اپنی آمدنی کا ایک حصہ، مسلسل نظریاتی تلقین کی مہم اور نئی بھرتیوں کا سلسلہ۔
خاندانوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ انسانی امداد حاصل کرنے کے بدلے اپنے بچوں کو حوثیوں کی صفوں میں بھرتی ہونے کے لیے بھیجیں۔
آج صورت حال یہ ہے کہ حوثی یمن کے شمال مغربی علاقوں کے بیشتر حصے، بشمول دارالحکومت صنعا، اور ملک کی زیادہ تر آبادی پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
اپریل 2022 میں شروع ہونے والی ایک غیر مستحکم جنگ بندی نے تنازع کو عارضی طور پر روک دیا، لیکن یہ جنگ بندی زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکی۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں غزہ میں جنگ شروع ہوئی۔ اس کے بعد حوثیوں نے ایران سے حاصل کردہ میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
ایک ایسی تحریک جو ایک صوبے میں مذہبی احیا کی کوشش کے طور پر شروع ہوئی تھی، اب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک کے مرکز میں آ چکی ہے۔ اِس کے پاس اسلحہ ہے، اِس نے یمن میں اپنے قدم مضبوطی سے جما لیے ہیں اور اس کے تہران کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔
یمن کی جنگ صرف ایک پراکسی تنازع نہیں، اور نہ ہی یہ صرف ایک انسانی بحران ہے اور نہ ہی صرف بحری جہاز رانی کی کہانی۔ اس تنازع کی بنیادی نوعیت آج بھی وہی ہے جو ابتدا سے رہی ہے: ایک طرف وہ جدید جمہوریہ ہے جسے یمنی عوام نے سال 1962 میں قائم کیا، اور دوسری طرف ایک ایسی تحریک ہے جس نے کبھی اس جمہوریہ کو تسلیم نہیں کیا۔
مصنف براء شيبان یمن اور خلیجی خطے کے امور کے محقق اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔












