یمن: صنعا میں ٹارگٹڈ کارروائی سے قبل حکومتی اتحاد کی شہریوں سے انخلا کی اپیل
یمن: صنعا میں ٹارگٹڈ کارروائی سے قبل حکومتی اتحاد کی شہریوں سے انخلا کی اپیل
منگل 13 اکتوبر 2026 16:15
اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صنعا میں قائم یمن پیٹرولیم کمپنی کے مرکزی ایندھن سٹیشن کو خالی کردیں (فوٹو: اے پی)
یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد نے منگل کو صنعا میں ایک مقام پر ٹارگٹڈ کارروائی سے قبل شہریوں کو وہاں سے انخلا کی تنبیہ جاری کی۔
اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی حفاظت کے پیشِ نظر صنعا میں قائم یمن پیٹرولیم کمپنی کے مرکزی ایندھن سٹیشن کو خالی کردیں۔ اس سلسلے میں مقام کی نشاندہی کرنے والا ایک وضاحتی نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے۔
اس سے قبل اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا تھا کہ ریاض کے شمال میں تین ڈرونز کو تباہ کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب یمنی فوج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے کہا ہے کہ اُن کی فورسز نے زمینی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اِن کارروائیوں کے دوران زمینی دستوں کو شدید فائرنگ کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا، جبکہ لڑاکا طیاروں، ڈرونز، فیلڈ آرٹلری، متعدد راکٹ بیک وقت داغنے والے نظاموں اور سنائپر یونٹس کے ذریعے دو ہزار دو سو حملے درست اہداف پر کیے گئے۔
کرنل ماجد النزیلی کے مطابق، اِن حملوں کا مقصد حوثی ملیشیا کے دفاعی نیٹ ورکس کو تباہ کرنا تھا۔ اِس سلسلے میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، دفاعی مورچوں، فائرنگ کے مقامات، نگرانی اور جاسوسی کے لیے قائم کی گئی چوکیوں، فوجیوں کے جمع ہونے کے مقامات اور کمک کے لیے تعینات محفوظ دستوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اِن حملوں میں اسلحے اور گولہ بارود کے گوداموں، نقل و حمل اور رسد کے راستوں کے علاوہ ملیشیا کے زیرِ قبضہ علاقوں میں اندر تک واقع اہم فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تعز میں کیے گئے ان ٹارگٹڈ حملوں کے نتیجے میں حوثی ملیشیا کے فوجی قافلوں اور کمک کو تباہ کن نقصان پہنچا، ان کی جمع شدہ فورسز منتشر ہو گئیں اور اپنے مورچوں کو فائرنگ کے ذریعے مدد فراہم کرنے یا اپنے دستوں کو دوبارہ منظم کرنے کی اِن کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی۔
کرنل ماجد النزیلی کے مطابق، میدانِ جنگ کے ابتدائی اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف محاذوں پر تقریباً 12 سو اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ چار سو 40 سے زیادہ فوجی گاڑیاں اور دیگر عسکری سازوسامان تباہ یا ناکارہ بنا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مغربی محاذ پر فوجی انجینئرنگ یونٹ دوبارہ قبضے میں لیے گئے مقامات اور علاقوں کو بارودی سرنگوں اور دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات سے پاک کر رہے ہیں، جو حوثی ملیشیا نے نصب کیے تھے۔ اِس کے ساتھ ہی سڑکوں اور گزرگاہوں کو بھی محفوظ بنایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے اور انہیں اپنے علاقوں میں واپس آنے میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
کرنل ماجد النزیلی نے مزید کہا کہ اِن حملوں میں بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جائز فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اِس دوران اہداف میں امتیاز کرنے، طاقت کا متناسب استعمال یقینی بنانے اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے اصولوں کی پابندی کی گئی۔
یمنی فوج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے کہا ہے کہ اُن کی فورسز نے زمینی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
یاد رہے کہ پیر کی صبح بھی سعودی فضائی دفاعی نظام نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے جنوب مغربی شہر خمیس مشیط کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کیا تھا۔
سعودی شہری دفاع نے گزشتہ روز ممکنہ حملے کے پیش نظر ریاض اور خمیس مشیط میں الرٹ جاری کیے تھے۔
عرب اتحاد نے کہا کہ وہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرونز اور کروز میزائلوں کے خطرات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
اتحاد کے مطابق ایسے خطرات کا پتا چلا لیا گیا ہے اور انہیں روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔