Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یمنی فورسز کے حوثیوں پر 1417 حملے، 800 جنگجوؤں کے ہلاک و زخمی ہونے کا دعوی

ترجمان نے کہا اس آپریشن نے حوثیوں کی موومنٹ کو متاثر کیا ہے۔( فوٹو: سکرین گریب)
یمن کی مسلح افواج نے سنیچر کو کہا ہے کہ چوبیس گھنٹے کے دوران ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے اہداف پر ایک ہزار 417 حملے کیے اور دعوی کیا کہ ان حملوں میں 800 جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ 190 سے زائد فوجی گاڑیاں اور دیگر اثاثے تباہ یا ناکارہ بنا دیے گئے۔
 ’آپریش ڈان آف یمن‘ کے ایک حصے کے طور پر جاری بیان میں فوجی ترجمان نے کہا ’ان کارروائیوں میں لڑاکا طیارے، ڈرونز، فیلڈ آرٹلری اور راکٹ لانچرز استعمال کیے گئے۔‘
ترجمان نے مزید کہا ’ان حملوں میں حوثیوں کے اجتماعات اور کمک، مضبوط مورچے، فائرنگ پوائنٹس، بکتر بند گاڑیاں، جنگی ساز و سامان اور ڈرونز لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔‘
اس آپریشن نے حوثیوں کی موومنٹ کو متاثر کیا۔ انہیں اگلے محاذوں پر کمک بھیجنے یا میدان جنگ میں حکمت عملی کے مقاصد حاصل کرنے سے روک دیا گیا۔
ترجمان نے کہا ’مشرقی محاذ پر یمنی فورسز حوثیوں کے ٹھکانوں کا صفایا کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں اور زیر کنٹرول علاقوں کو وسعت دی ہے جبکہ  ایک نئی سٹریٹیجک پوزیشن اپنا کنٹرول قائم کرلیا۔
تعز میں مسلح افواج اورعوامی مزاحمت نے حوثیوں کے مسلسل حملوں کو پسپا کردیا۔ جنگی طیاروں نے حوثیوں کے اہداف اور کمک کو نشانہ بنایا جس سے اہلکاروں اور ساز وسامان کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
ترجمان نے کہا ’فوج کی کارروائیاں جائز فوجی اہداف تک محدود تھیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون اور روایتی اصولوں کے مطابق کی گئی ہیں۔‘

Caption

یاد رہے کہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد محمد العلیمی نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول باقی ماندہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے فوجی کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔
العلیمی کے مطابق ان فوجی کارروائیوں کا مقصد حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے لیے امن، حقوق اور وقار کی بحالی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان علاقوں کے عوام فوجی کارروائیوں کا ہدف نہیں ہیں۔
انہوں نے حوثی کنٹرول والے علاقوں کے رہائشیوں سے اپیل کی کہ وہ حوثیوں کے اجتماع گاہوں سے دور رہیں اور اپنے بچوں کو لڑائی میں جھونکے جانے سے محفوظ رکھیں۔

 

شیئر: