یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ العلیمی کا حوثی ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائیوں کا اعلان
یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ العلیمی کا حوثی ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائیوں کا اعلان
اتوار 4 اکتوبر 2026 19:43
العلیمی نے حوثی کنٹرول والے علاقوں کے رہائشیوں سے اپیل کی کہ وہ حوثیوں کے اجتماع گاہوں سے دور رہیں (فوٹو: اے ایف پی)
یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد محمد العلیمی نے اتوار کو حوثیوں کے زیرِ کنٹرول باقی ماندہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے فوجی کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق العلیمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’آج ہم اپنی قوم کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ ریاست نے امن کے راستے کو اختیار کرنے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔‘
العلیمی کے مطابق ان فوجی کارروائیوں کا مقصد حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے لیے امن، حقوق اور وقار کی بحالی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان علاقوں کے عوام فوجی کارروائیوں کا ہدف نہیں ہیں۔
انہوں نے حوثی کنٹرول والے علاقوں کے رہائشیوں سے اپیل کی کہ وہ حوثیوں کے اجتماع گاہوں سے دور رہیں اور اپنے بچوں کو لڑائی میں جھونکے جانے سے محفوظ رکھیں۔
العلیمی نے کہا کہ ’جو فوجی کارروائیاں ہم شروع کرنے جا رہے ہیں، وہ صنعاء، الحدیدہ اور صعدہ میں اپنے عوام کے خلاف جنگ نہیں ہیں۔ یہ کسی فرقے یا قبیلے کے خلاف بھی جنگ نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ریاست کی جانب سے دوبارہ حاصل کیا جانے والا ہر شہر استحکام، بحالی اور تعمیرِ نو کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگا۔ ان کے مطابق اس جنگ کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ کتنے شہری دوبارہ خود کو محفوظ محسوس کرنے لگتے ہیں۔
العلیمی نے عالمی برادری میں شامل یمن کے ’بھائیوں اور دوستوں‘ سے بھی ملک کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ یمن سعودی عرب کو اپنے مشترکہ مستقبل اور سلامتی کا حقیقی شراکت دار سمجھتا رہے گا، اور سعودی قیادت اور عوام کی مسلسل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
کرنل النزیلی نے حوثی گروہ چھوڑنے والوں کے لیے عام معافی (ایمنسٹی) کی پیشکش بھی کی (فوٹو: اے ایف پی)
بعد ازاں اتوار کو یمنی مسلح افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد ’یمنی عوام کی مشکلات کا خاتمہ‘ اور یہ یقینی بنانا ہے کہ ’آئین اور قانون کی حکمرانی کے علاوہ کسی اور اختیار کا غلبہ نہ ہو۔‘
انہوں نے کہا کہ ’مسلح افواج اس بات کی توثیق کرتی ہیں کہ ریاست اور اس کے شہریوں کو اپنے تمام حقوق واپس لینے اور باوقار زندگی گزارنے کا فطری حق حاصل ہے، جبکہ وہ ملک کے تمام علاقوں اور صوبوں میں شہریوں کی جانوں کے تحفظ اور انہیں ہر قسم کے نقصان سے بچانے کے عزم پر قائم ہیں۔‘
کرنل النزیلی نے حوثی گروہ چھوڑنے والوں کے لیے عام معافی (ایمنسٹی) کی پیشکش بھی کی اور یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد میں شامل ممالک کے مؤقف اور حمایت کو سراہا۔