پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی ہے۔
حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان چار گھنٹے سے زائد طویل بحث کے بعد پیش کی جانے والی اس قرارداد پر ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے شدید مخالفت اور نعرے بازی دیکھنے میں آئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہی سیاسی و پارلیمانی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے گورنر راج اور صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
کے پی میں ایمرجنسی، وفاق کے اختیارات کیا ہوں گے؟Node ID: 909302
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے وکیل شاہ فیصل الیاس نے 86 صفحات پر مشتمل رٹ دائر کی ہے۔
دوسری جانب سینیٹ میں بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد پیش کر دی گئی ہے جہاں اسے اپوزیشن کی شدید مخالفت اور نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے سخت ریمارکس
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور ملکی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’جن انتخابات کے نتیجے میں وزراء کی یہ فوج بنی وہ سراسر جعلی تھی اور یہ حکومت 24 کروڑ انسانوں کو دہشت زدہ کر کے بنائی گئی۔‘
ان کے اس بیان پر ایوان میں گرما گرمی دیکھی گئی اور سپیکر قومی اسمبلی نے ’دہشتگرد حکومت‘ کے الفاظ کارروائی سے حذف کروا دیے۔
محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ ’خیبر پختونخوا کا واحد قصور یہ ہے کہ وہاں عوام کی طاقت سے حکومت بنی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر طاقت کے ذریعے عوام کا حقِ حکمرانی چھینا گیا تو ہم اس کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔
انہوں نے ماضی کے مارشل لاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’بنگلہ دیش کے معاملے پر بھی تعصب کی بنیاد پر فیصلے کیے گئے تھے اور اگر ریاست عوام کے خلاف لڑے گی تو عوام مجبوراً باہر دیکھیں گے۔‘

اپوزیشن لیڈر نے الزام عائد کیا کہ ’ملک کے وسائل لوٹے جا رہے ہیں اور ہمارے تیئیس ہزار بیوروکریٹ دوہری شہریت کے مالک ہیں جو ملک لوٹ کر کینیڈا اور امریکہ بھاگ جاتے ہیں۔‘
انہوں نے خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا، افغانستان اور ایران سے ہمارے تنازعات ہیں، اس لیے اس پارلیمنٹ کو خارجہ پالیسی پر اعتماد میں لیا جائے۔‘
انہوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ ’سابق وزیراعظم عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے اور انہیں زبردستی معاہدہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو کیا گیا تھا۔‘
بلاول بھٹو زرداری کا موقف

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’خیبر پختونخوا حکومت اگر ذرا سا بھی موقع دیتی تو صدرِ مملکت اس سمری پر دستخط نہ کرتے۔‘
انہوں نے انکشاف کیا کہ ’صدرِ پاکستان اور پیپلز پارٹی کا واضح موقف تھا کہ اس ’آئینی ایٹم بم‘ کے استعمال سے قبل مذاکرات کیے جائیں۔ ان کی جماعت کے دو نمائندے اس مذاکراتی عمل کا حصہ تھے اور رات گئے تک یہی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ مذاکرات کامیاب ہو رہے ہیں۔‘
وزیراعلیٰ کو صرف اپنی سیاست کی فکر تھی: خواجہ آصف
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ یہاں معاملات اس طرح اٹھائے جاتے ہیں تاکہ ماضی سے مماثلت جوڑی جا سکے۔
انہوں نے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’جنرل فیض اور جنرل باجوہ بھی اسی ایوان میں بیٹھے ہوتے تھے اور ہمیں ان دہشت گردوں کو واپس لانے پر قائل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔‘

وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ ’برسرِ اقتدار وزیر اعلیٰ کو صرف اپنی سیاست اور لِیز کنفرم کروانے کی فکر تھی اور وہ افغانستان میں بیٹھے ایک شخص سے ڈکٹیشن لیتے تھے۔‘
انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک صوبے کا تیا پائنچہ کر دیا گیا ہے اور موجودہ حالات یہی تقاضا کرتے تھے کہ حکومت کے پاس ایمرجنسی کے نفاذ کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا تھا۔‘












