مکہ میں مٹی کے برتن: روزمرہ کی ضرورت سے لے کر روایتی سجاوٹ تک
منگل 20 اکتوبر 2026 13:51
مٹی کے برتنوں نے بیٹھکوں، راستوں اور گھر کے کونوں میں سجاوٹی اشیاء کے طور پر نیا روپ دھار لیا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
مکہ میں مٹی کے برتن کبھی روزمرہ کی زندگی کا اہم حصہ ہوا کرتے تھے، جنہیں روایتی گھروں میں پانی ٹھنڈا اور ذخیرہ کرنے، کھانا محفوظ رکھنے اور کھانا پیش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، اس سے پہلے کہ برقی اشیاء اور جدید برتنوں نے انہیں گھر کی ضرورت سے ایک روایتی چیز میں بدل دیا جو گزرے ہوئے دور کی یاد دلاتی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مٹی کے برتن مختلف شکلوں اور سائزوں میں آتے تھے اور ہر برتن ایک خاص مقصد کے لیے ہوتا تھا۔ ان میں سب سے نمایاں ’زیر‘ تھا، جو پینے کے پانی کا مٹی کا ایک بڑا مٹکا ہوتا تھا۔
اس کی باریک سوراخوں والی دیواروں سے تھوڑا سا پانی سطح پر آکر گرمی میں بھاپ بن کر اڑ جاتا تھا جس سے اندر کا پانی ٹھنڈا رہتا تھا، اور یہی چیز فریج اور واٹر کولر سے بہت پہلے مکہ کے گرم موسم میں اس کی اہمیت بڑھاتی تھی۔
مشربیات نامی چھوٹے برتن آسانی سے پہنچنے والی جگہوں پر رکھے جاتے تھے تاکہ گھر کے افراد اور مہمان خود پانی پی سکیں، جو گھر کی مہمان نوازی کا حصہ تھے۔

مٹی کے برتنوں میں کھانا اور راشن بھی رکھا جاتا تھا، اور مٹی کی پلیٹیں کھانا پیش کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں، یہاں تک کہ سٹینلیس سٹیل، شیشے اور سیرامک کے برتن عام ہو گئے۔
بجلی، فریج اور واٹر کولر آنے کے بعد، جنہوں نے کھانے اور پانی کو ٹھنڈا رکھا اور جنہیں استعمال کرنا اور صاف کرنا زیادہ آسان تھا، مٹی کے برتنوں پر روزمرہ کا انحصار کم ہو گیا۔

آج مٹی کے برتنوں نے بیٹھکوں، راستوں اور گھر کے کونوں میں سجاوٹی اشیاء کے طور پر نیا روپ دھار لیا ہے، جو مکہ کی روایتی زندگی کی یاد دلانے والی ثقافتی جھلک پیش کرتے ہیں۔
یہ اس مادی ورثے کا بھی حصہ ہیں جنہیں محفوظ کرنا ضروری ہے، جو روایتی کاریگروں کی مہارت اور ماحول کے ساتھ خاندانوں کے ڈھلنے کا انداز دکھاتے ہیں، اور نئی نسل کو ان اوزاروں سے واقف کراتے ہیں جو کبھی ان کے آباؤ اجداد کی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتے تھے۔
