Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

not published

مملکت کے عسیر ریجن میں روایتی گھریلو برتن، مملکت کے ثقافتی ورثے اور قدیم رسم و رواج کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ برتن روایتی ڈیزائن اور نقوش کے باعث ممتاز ہیں۔
سعودی وزارتِ ثقافت اور ثقافتی کمیشن کی جانب سے روایتی ہنر اور دستکاری کے ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف علاقائی نمائشوں کے انعقاد کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق اس کا مقصد قدیم ورثے کا تحفظ اور نسلِ نو کو ان کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔
عسیر ریجن کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے، جہاں ماضی کی روز مرہ زندگی کی جھلک ان قدیم برتنوں اور اشیائے ضروریہ کے ذریعے اجاگر کی جاتی ہے۔
اس علاقے میں روایتی گھریلو برتنوں کی مختلف اقسام ہیں، جس میں مٹی کے برتن قدیم ورثے کی نمایاں شناخت مانے جاتے ہیں۔

 صراحیاں اور کھانا پکانے کے لیے استعمال کی جانے والی ہانڈیاں نمایاں ہیں جبکہ مصالہ کوٹنے کے لیے چٹانی پتھروں سے بنے ’ہاون دستے‘ اور ’سل بٹے‘ اپنی ساخت اور طرز بناوٹ کے اعتبار سے منفرد ہیں، جو آج بھی علاقے کے خاندانوں میں رائج  ہیں۔
مختلف قسم کی مٹی سے تیار کیے جانے والے ان برتنوں کو مضبوط بنانے کے لیے بھٹی میں پکایا جاتا ہے، بعد ازاں ان پر مختلف نقش ونگار بنائے جاتے ہیں، جو علاقے کے لوگوں کی مہارت کی عکاسی کرتے ہیں۔
مٹی کے برتنوں کے علاوہ دھاتی، تانبے اور ایلومینیم کے برتن  شامل ہیں، جن کی شکلیں اور ساخت، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی گئی۔

قدیم طرز کے برتن آج بھی عسیر ریجن میں مروج ہیں، جن میں چٹانی پتھروں سے بنی ہانڈیاں قابل ذکر ہیں جن میں مخصوص علاقائی پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔
ان ہانڈیوں کو خاص طور پر تقریبات اور خاندانی دعوت میں استعمال میں لایا جاتا ہے جو علاقے کی شناخت ہیں۔

علاقائی دستکاری میں شامل دیگر اشیا میں مشکیزوں کے علاوہ کھجور کے خشک پتوں سے تیار کردہ ٹوکریاں جن میں کھجور اور دیگر اجناس کو سٹور کیا جاتا ہے، آج بھی علاقے میں رائج ہیں جبکہ بعض گھروں میں ان اشیا کو علاقائی شناخت اور سجاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ برتن اور اشیا ثقافتی علامت کے طور پر بھی اہم ہیں، جو اب بھی تقریبات، عید اور خاندانی اجتماعات کا لازمی حصہ ہیں، اس ورثے کا نسل در نسل منتقل ہونا مقامی شناخت کے طور پر ان کی اہمیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

 

شیئر: