یورپ کے مختلف ممالک میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیوں ہو رہے ہیں؟
یورپ کے مختلف ممالک میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیوں ہو رہے ہیں؟
پیر 19 اکتوبر 2026 20:51
فرانس میں طلبہ نے تعلیمی نظام کی خرابیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا، جو بعد ازاں شدت اختیار کر گیا۔(فوٹو:اے ایف پی)
یورپ کے مختلف ممالک میں نوجوانوں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد تعلیمی اداروں کی خراب صورت حال، رہائش کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ہے۔
فرانس، سپین، پرتگال، اٹلی، بیلجیئم اور البانیہ میں ہونے والے مظاہروں میں شرکا نے حکومتوں سے بنیادی مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق فرانس میں ہائی اسکولوں کے طلبہ نے ستمبر کے اواخر سے تعلیمی نظام کی خرابیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا، جو بعد ازاں شدت اختیار کر گیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں تدریسی اوقات طویل ہیں، اساتذہ کی کمی ہے، کلاس رومز خستہ حال ہیں اور جامعات میں داخلوں کا نظام شفاف نہیں۔
طلبہ کو اساتذہ کی خالی آسامیوں پر بروقت تعیناتی نہ ہونے کے باعث معمول کے مطابق کئی کئی ماہ تدریس سے محروم رہنا پڑتا ہے۔ ان مسائل پر ہونے والے بعض مظاہروں کے دوران طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
تعلیمی مسائل کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج میں دیگر شہری بھی شامل ہوگئے، جنہوں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ ان میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ بھی شامل ہے، جو امریکی بمباری کے بعد آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش سے پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں سامنے آیا۔
فرانس کی بڑی مزدور تنظیموں میں شامل جنرل کنفیڈریشن آف لیبر (سی جی ٹی) نے بھی مظاہروں کی حمایت کی ہے۔ تنظیم نے قیمتیں کم کرنے، پنشن میں اضافہ کرنے اور اجرتیں بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اپنے دو صدارتی ادوار مکمل کرنے کے قریب ہیں۔ ملک میں اپریل 2027 میں انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔
سپین میں رہائش کی قیمتوں کے خلاف احتجاج
فرانس کے پڑوسی ملک سپین میں ستمبر کے دوران رہائش کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ ان احتجاجی مظاہروں کا پس منظر ایک 87 سالہ خاتون کی گھر سے بے دخلی کا واقعہ بنا، جن کا کرایہ ایک سرمایہ کاری فنڈ نے 230 فیصد بڑھا دیا تھا۔
ماری کارمین اباسکال کو گھر سے بے دخل کیے جانے کے تقریباً دو ہفتے بعد ہسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں ان کی وفات ہوگئی۔
اس واقعے کے بعد مظاہرین نے کرایوں میں کمی، بے دخلیوں کے خاتمے اور سرمایہ کاری فنڈز کی جانب سے جائیدادیں خریدنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔
سپین کے ساتھ واقع پرتگال میں بھی رہائش کے بڑھتے اخراجات کے خلاف احتجاج کیا گیا۔(فوٹو:اے ایف پی)
پرتگال میں مکانات کی قیمتوں میں 124 فیصد اضافہ
سپین کے ساتھ واقع پرتگال میں بھی رہائش کے بڑھتے اخراجات کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ سنیچر کو دارالحکومت لزبن کے وسطی علاقے میں سیکڑوں افراد جمع ہوئے اور مکانات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف آواز اٹھائی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پرتگال میں 2015 سے 2024 کے درمیان مکانات کی قیمتوں میں 124 فیصد اضافہ ہوا، جو یورپی یونین کی اوسط شرح سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ رہائش کی بڑھتی قیمتوں اور روزمرہ اخراجات نے عام شہریوں کے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اٹلی میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے، پولیس سے جھڑپیں
اٹلی کے شہر میلان میں بھی شہریوں نے بڑھتے اخراجات کے خلاف احتجاج کیا۔ سنیچر کو شروع ہونے والا مارچ ابتدا میں پُرامن تھا، تاہم بعد میں صورت حال کشیدہ ہوگئی۔
نقاب پوش افراد نے پولیس پر پتھر، سڑکوں سے اکھاڑے گئے پتھر کے بلاکس اور دیگر اشیا پھینکیں۔ مظاہرین کے بعض گروہوں نے میزوں اور دیگر اشیا سے بنائی گئی رکاوٹوں کو بھی آگ لگا دی، جس کے بعد پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔
اٹلی کے علاوہ بیلجیئم میں بھی سنیچر کو مہنگائی اور رہائش کے بڑھتے اخراجات کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
البانیہ میں وزیراعظم ایڈی راما کے خلاف مظاہرے اتوار کو چھٹے روز میں داخل ہوگئے۔(فوٹو:اے ایف پی)
البانیہ میں وزیراعظم کے خلاف احتجاج
البانیہ میں وزیراعظم ایڈی راما کے خلاف مظاہرے اتوار کو چھٹے روز میں داخل ہوگئے۔ مظاہرین نے مبینہ بدعنوانی، روزگار کے مواقع کی کمی اور تعلیمی معیار کی خراب صورت حال پر ناراضی کا اظہار کیا۔
البانیہ میں احتجاج کا سلسلہ موسمِ گرما سے جاری ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی حمایت سے شروع ہونے والا ساحلی علاقے میں ایک پُرتعیش تعمیراتی منصوبہ بھی ہے۔
یورپ میں مظاہرے کب شروع ہوئے؟
فرانس میں تعلیمی نظام کے خلاف مظاہرے تعلیمی سال شروع ہونے کے تقریباً ایک ہفتے بعد ستمبر کے اواخر میں شروع ہوئے۔ اس کے بعد احتجاج میں شدت آتی گئی اور سنیچر کو یہ اپنے عروج پر پہنچ گئے۔
اٹلی، پرتگال اور بیلجیئم میں مہنگائی اور رہائش کے اخراجات کے خلاف مظاہرے بھی سنیچر کو شروع ہوئے۔
اس کے برعکس البانیہ میں وزیراعظم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ موسمِ گرما سے جاری ہے، جس میں ساحلی علاقے کے پُرتعیش تعمیراتی منصوبے پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
فرانس میں حکومت نے اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے مزید 3 ہزار متبادل اساتذہ تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔(فوٹو:اے ایف پی)
کیا مظاہروں کے نتیجے میں کوئی تبدیلی آئی؟
فرانس میں حکومت نے اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے مزید 3 ہزار متبادل اساتذہ تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ اسکولوں سے متعلق فیصلوں میں طلبہ کو شامل کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ حکومت نے اگلے سال کے بجٹ میں جامعات کی بعض رجسٹریشن فیسوں میں اضافے کا منصوبہ بھی واپس لے لیا ہے۔
ایندھن کی قیمتوں کے خلاف ستمبر کے وسط میں ہونے والے احتجاج کے بعد صدارتی محل ایلیزے کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ حکومت بعض صنعتی شعبوں کے لیے پٹرول پر سبسڈی میں اضافہ کرے گی۔
سپین میں سوشلسٹ وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کرایہ داروں کے تحفظ کے لیے ہنگامی رہائشی قانون سازی کی کوشش کی۔ تاہم پارلیمان میں دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں نے اس قانون سازی کو ناکام بنا دیا۔
اس کے بعد سانچیز نے 29 نومبر کو قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصلاحات منظور کرانے کے لیے انہیں ’وسیع تر ترقی پسند اکثریت‘ کی ضرورت ہے۔
کیا یورپ میں احتجاج ختم ہونے کا امکان ہے؟
فرانس میں صدر ایمانوئل میکرون نے سنیچر کی صورت حال کے بعد اہم وزرا کے ساتھ ہنگامی اجلاس کیا اور اتوار کی شب ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرنے کا اعلان کیا۔
سپین میں احتجاجی صورت حال کا انحصار رہائش سے متعلق حکومتی اقدامات پر بھی ہوسکتا ہے۔(فوٹو:اے ایف پی)
فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز کے بیانات سے اشارہ ملا کہ حکومت مزید مطالبات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے فرانس بھر میں عمارتوں کو لوٹنے اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کو ’مجرم‘ قرار دیا اور احتجاج میں ’انتہائی بائیں بازو‘ سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔
فرانس میں اپریل 2027 میں انتخابات ہوں گے، جبکہ ملک میں تعلیمی نظام، مہنگائی اور دیگر مسائل پر حکومت کو عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔
سپین میں احتجاجی صورت حال کا انحصار رہائش سے متعلق حکومتی اقدامات پر بھی ہوسکتا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ پارلیمان کی مستقل کونسل سے رہائش سے متعلق کم از کم بعض حکمنامے منظور کرا لیے جائیں۔ یہ کونسل اس وقت کام کرتی ہے جب پارلیمان کا اجلاس نہیں ہو رہا ہوتا۔
سپین میں وزیراعظم سانچیز کی سوشلسٹ جماعت اور قدامت پسند پیپلز پارٹی، دونوں نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اگلے ماہ ہونے والے انتخابات میں کامیاب ہوئیں تو مزید مکانات تعمیر کرنے اور رہائش کے مسئلے کو ترجیح دینے پر توجہ دیں گی۔