Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عرب ویوز: کیا سعودی عرب کو حوثیوں سے مذاکرات کرنے چاہییں؟

ڈاکٹر صقر نے کہا کہ حوثی ملیشیا کو تہران سے ہدایات اور حمایت ملتی ہے جبکہ اس گروہ نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ ماضی کے مذاکرات سے اسے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوا۔

رب نیوز کے پروگرام ’عرب ویوز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالعزیز صقر نے کہا کہ 10 اور 11 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے دو حملوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ حوثیوں کے ساتھ مزید مذاکرات سے مسئلے کا حل نکلنے کا امکان کم ہے۔
عرب نیوز کے ایڈیٹر اِن چیف فیصل جے عباس سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’ریاض ایئرپورٹ پر حملہ ایک افسوس ناک واقعہ تھا۔ ہم ان تمام افراد کے لیے افسردہ ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گنوائیں اور جو زخمی ہوئے۔ لیکن اس حملے نے سعودی عرب کو ایک واضح پیغام بھی دیا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر سیاسی بات چیت کرنا نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگا۔‘
ان کے بقول، ’ہم کویت، سٹاک ہوم اور مسقط میں مذاکرات کے تجربات دیکھ چکے ہیں۔ سعودی وفد بھی صنعا گیا تھا لیکن حوثی نہ تو اپنے پڑوسی ملک کے احترام کے لیے تیار ہیں  نہ کسی سیاسی حل تک پہنچنے میں سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔‘
ڈاکٹر صقر نے کہا کہ حوثی ملیشیا کو تہران سے ہدایات اور حمایت ملتی ہے جبکہ اس گروہ نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ ماضی کے مذاکرات سے اسے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ’حوثیوں کو ایران کی جانب سے ہدایات دی جا رہی ہیں، انہیں حمایت فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی کارروائیوں کی رہنمائی بھی کی جا رہی ہے۔‘
ان کے مطابق حوثیوں نے امریکی مؤقف کو بھی غلط سمجھا ہے اور اب وہ مذاکرات کی میز پر اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے حملوں میں شدت پیدا کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر صقر نے کہا کہ حوثی تین باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ پہلی یہ کہ انہیں لگتا ہے کہ ماضی کی مذاکراتی کوششوں سے انہیں بہت کم حاصل ہوا۔ دوسری یہ کہ انہوں نے امریکہ کے مؤقف کا درست اندازہ نہیں لگایا۔ تیسری یہ کہ وہ اہم تنصیبات کو نشانہ بنا کر مذاکرات میں اپنی پوزیشن بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ پائپ لائن، تیل کی کسی اہم تنصیب، ہوائی اڈے یا مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنا کر نئی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد کشیدگی بڑھانا اور حالات کو اس مقام تک لے جانا ہے جہاں انہیں مذاکرات کی میز پر جگہ مل سکے۔‘
حوثیوں کے مطالبات کیا ہیں؟
ڈاکٹر صقر کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ حوثی دراصل کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور سعودی عرب کے لیے ان کے مطالبات قابلِ قبول کیوں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حوثی چاہتے ہیں کہ ریاض یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت بند کر دے اور ایسے مالی واجبات ادا کرے جن کی ادائیگی سعودی عرب پر لازم نہیں۔
ان کے الفاظ میں ’وہ چاہتے ہیں کہ ہم یمن کی واحد جائز حکومت کی حمایت روک دیں، جسے اقوامِ متحدہ تسلیم کرتی ہے۔ وہ ہم سے ایسے واجبات ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جن کی ادائیگی ہم پر لازم ہی نہیں۔‘
ڈاکٹر صقر نے حوثیوں سے لاتعلقی اختیار کرنے یا ان کے معاملے سے پیچھے ہٹنے کی پالیسی کو بھی مسترد کیا۔ ان کے خیال میں ایسا کرنے سے حوثیوں کے اقدامات کو جواز ملے گا اور یمن مزید تقسیم کی طرف بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’حوثیوں سے لاتعلقی اختیار کرنا میرے نزدیک بالکل غلط پالیسی ہے۔ میں اس سے مکمل اختلاف کرتا ہوں کیونکہ اس کا مطلب ہوگا کہ ہم ان کے اقدامات کو جائز تسلیم کر رہے ہیں۔ اس سے ملک کی تقسیم کو تقویت ملے گی اور یمن میں صومالیہ جیسی صورت حال پیدا ہونے کا خطرہ ہوگا۔‘
ان کے مطابق سعودی عرب اور یمن کے درمیان تقریباً ایک ہزار 450 کلومیٹر طویل سرحد اس تنازعے کو براہِ راست سعودی قومی سلامتی کا معاملہ بنا دیتی ہے۔ ریاض یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ کوئی علاقائی طاقت سعودی سرحد کے ساتھ اپنا اثرورسوخ بڑھائے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم جارحیت کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہم کسی بھی ذریعے کو پڑوسی ملک اور سعودی عرب کی سرحد تک توسیع پسندانہ عزائم بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘
حوثیوں کے حملے اور شہریوں کو لاحق خطرات
ڈاکٹر صقر کا کہنا تھا کہ حوثی اپنی مرضی سے اہم تنصیبات پر حملے بند نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق ریاض ایئرپورٹ پر حالیہ حملوں میں زائرین سمیت 14 افراد کی ہلاکت اس خطرے کی واضح مثال ہے جو یہ گروہ عام شہریوں کے لیے پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے حوثیوں کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ وہ ’انصار اللہ‘ یعنی ’اللہ کے مددگار‘ ہیں۔
ڈاکٹر صقر نے کہا کہ ’وہ انصار اللہ نہیں، بلکہ اللہ اور لوگوں کے دشمن ہیں۔ وہ بے گناہ افراد کو قتل کرتے ہیں، مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل استعمال کرتے ہیں اور اہم تنصیبات پر حملے کرتے ہیں۔‘
حوثیوں کے حملوں نے سعودی عرب کی جانب آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ڈاکٹر صقر نے کہا کہ دنیا کا کوئی فضائی دفاعی نظام ہر خطرے کو روکنے کی سو فیصد ضمانت نہیں دے سکتا، خصوصاً جب کسی ملک کا رقبہ سعودی عرب جتنا وسیع ہو۔
سعودی عرب کی جانب سے آنے والے حملوں کو ناکام بنانے کی شرح سے متعلق سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ یہ شرح 92 فیصد سے زیادہ ہے۔
ان کے مطابق یہ ایک مضبوط کارکردگی ہے، تاہم اس کا جائزہ دیگر ممالک کو درپیش مشکلات کے تناظر میں بھی لینا چاہیے۔ انہوں نے اسرائیل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسے امریکہ کی حمایت، جدید دفاعی نظاموں اور امریکی فوجی موجودگی کے باوجود حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ڈاکٹر صقر نے کہا کہ ’اسرائیل رقبے کے لحاظ سے بہت چھوٹا ملک ہے۔ اس کے پاس تھاڈ (THAAD) نظام، آئرن ڈوم اور امریکہ کے تعاون سے دستیاب دیگر فضائی دفاعی نظام موجود ہیں۔ وہاں امریکی موجودگی بھی ہے اور امریکہ نے اس کے دفاع کا عزم ظاہر کر رکھا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے باوجود حوثی اس دفاعی نظام میں شگاف ڈالنے میں کامیاب ہوئے۔ ایرانی بھی اس نظام کو عبور کرنے میں کامیاب رہے۔ اس لیے سو فیصد تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔‘
حوثیوں کے پاس صرف ہلکے ہتھیار نہیں
ڈاکٹر صقر نے کہا کہ حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں کو سمجھنے کے لیے انہیں محض ہلکے ہتھیاروں سے لیس ایک روایتی مسلح ملیشیا تصور کرنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اس گروہ کے پاس کم قیمت ڈرونز، کروز میزائل اور درمیانے و طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل بھی موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اب ان کے پاس کم قیمت والے چھوٹے ڈرون بھی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس کروز میزائل اور دیگر میزائل بھی ہیں جو ایرانی ساختہ ہیں۔‘
ان کے بقول، درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی موجودگی حوثیوں کو دنیا کے دیگر غیر ریاستی مسلح گروہوں سے ممتاز کرتی ہے اور اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ انہیں یمن سے باہر کسی ملک کی مدد حاصل ہے۔
انہوں نے کہا، ’جب ہم پرتشدد غیر ریاستی عناصر یا ملیشیاؤں کی بات کرتے ہیں تو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ حوثی دنیا کی واحد ایسی ملیشیا ہیں جس کے پاس درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہیں۔ اس کی وجہ کسی بیرونی ملک کے ساتھ ان کا تعلق ہے۔‘
ایران پر اسلحہ پہنچانے کے الزامات
ڈاکٹر صقر نے یمن میں اسلحے کی ترسیل کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا اور ان طریقوں کی وضاحت کی جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں اور بین الاقوامی نگرانی سے بچنے کے لیے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے پابندیوں سے بچنے کے طریقوں کے حوالے سے اپنی مہارت استعمال کی۔ ان میں جہازوں کے انجن اور سگنل بند کرنا، انہیں بین الاقوامی پانیوں میں تیرتے رہنے دینا اور پھر چھوٹی کشتی کے ذریعے اسلحہ یمن کے ساحل تک پہنچانا شامل ہے، جہاں دوسری جانب موجود لوگ اسے وصول کر لیتے ہیں۔ ممکن ہے کہ زمینی سرحدوں کے راستے سمگلنگ بھی کی جاتی ہو۔‘
اس پس منظر میں ایران کی جانب سے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش بظاہر ایک غیر معمولی بات ہے۔ ڈاکٹر صقر نے کہا کہ سعودی عرب کو ایسے ملک کی ثالثی قبول نہیں کرنی چاہیے جسے وہ خود اس مسئلے کو برقرار رکھنے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ایران ہی اس مسئلے کی وجہ ہے۔ میں اس کی ثالثی کیسے قبول کر سکتا ہوں؟ ہمیں ایران سے جو چیز درکار ہے، وہ یہ ہے کہ وہ یمن سے دور رہے اور عرب معاملات میں مداخلت نہ کرے۔‘
ان کے مطابق ایران کی علاقائی مداخلت صرف یمن تک محدود نہیں بلکہ اس میں سمندری راستوں اور توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا، مسلح گروہوں کی حمایت اور توسیع پسندانہ پالیسیاں بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر صقر نے کہا کہ ’میرے خیال میں ہمیں ایران کی ثالثی کی ضرورت نہیں۔ ہم یمنیوں سے براہِ راست بات کر سکتے ہیں، ہماری ان تک رسائی ہے اور ہم انہیں بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔‘
براہِ راست مذاکرات کی کوشش کیوں ناکام ہوئی؟
ڈاکٹر صقر نے بتایا کہ سعودی عرب نے جولائی کے آغاز میں مسقط میں حوثی نمائندوں سے براہِ راست ملاقات کی پیشکش کی تھی، لیکن اس بات پر اختلاف پیدا ہوگیا کہ حوثیوں کی نمائندگی کون کرے گا، جس کے باعث مجوزہ ملاقات نہ ہو سکی۔
ان کے خیال میں اس وقت ترجیح سیاسی مذاکرات کے بجائے عسکری کامیابی ہونی چاہیے اور مذاکرات اسی وقت دوبارہ شروع کیے جانے چاہییں جب حوثیوں کی فوجی صلاحیت کو کمزور کر دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’سچ کہوں تو میرے خیال میں ہمیں اس معاملے کو اس مرحلے پر کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس وقت حوثیوں کے خلاف عسکری کامیابی حاصل کرنے اور ان کے اسلحے کے ذخائر اور فوجی صلاحیت کو تباہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘
ان کے مطابق اس کے بعد جنگی قیدیوں اور اسٹاک ہوم اور کویت میں ہونے والے سابقہ معاہدوں سے متعلق زیرِ التوا معاملات پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔
اس طرح ڈاکٹر صقر کا مؤقف تمام مستقبل کے مذاکرات کو یکسر مسترد کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ حوثیوں کے ساتھ نئے سیاسی رابطوں سے پہلے ان کی عسکری قوت کو کمزور کیا جائے۔
سعودی عرب کو عالمی شراکت داروں کی مدد درکار ہے
ڈاکٹر صقر نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل سیاسی، عسکری اور انٹیلی جنس تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس تعاون کے لیے تین بنیادی ترجیحات بیان کیں: واضح اور مضبوط سیاسی مؤقف، خطرے کی مشترکہ تفہیم اور ضرورت کے وقت عملی مدد۔
انہوں نے کہا کہ ’سب سے پہلے ہمیں ان کے مضبوط سیاسی مؤقف کی ضرورت ہے۔ دوسرا، انہیں خطرے اور اس کی سنگینی کو سمجھنا چاہیے۔ یہ خطرہ صرف سعودی عرب ہی کے لیے نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’تیسری بات یہ ہے کہ جب ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہو، مثلاً گولہ بارود، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، تکنیکی مہارت یا مشترکہ فوجی مشق، تو ہمیں یہ تعاون فراہم کیا جانا چاہیے۔‘
ڈاکٹر صقر کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کا بروقت تبادلہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ میزائل داغے جانے کی پیشگی اطلاع ملنے سے سعودی افواج کو حملہ روکنے کی تیاری کے لیے زیادہ وقت مل سکتا ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکہ کے ساتھ معلومات کے تبادلے میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ان کے بقول واشنگٹن کی توجہ بیک وقت کئی معاملات پر مرکوز ہے اور وہ ایک اور محاذ پر فوجی کارروائی شروع کرنے سے گریزاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں قریب آتے وسط مدتی انتخابات بھی اس صورت حال پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر صقر نے کہا کہ ’اب مجھے معلومات کے تبادلے میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ نظر آ رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کو ہر بات کا ذمہ دار بھی نہیں ٹھہرانا چاہیے۔‘
اس کے باوجود ان کے خیال میں خطے کو درپیش سب سے بڑا سیاسی خطرہ امریکی پالیسی میں غیر یقینی صورت حال ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر آج آپ مجھ سے پوچھیں تو میرے نزدیک سب سے بڑا سیاسی خطرہ امریکہ کی غیر متوقع پالیسی ہے۔‘
ایران کے معاملے پر امریکہ کے سامنے دو راستے
ڈاکٹر صقر نے ایران کے ساتھ امریکہ کی کشیدگی کے حوالے سے دو ممکنہ منظرنامے پیش کیے۔
پہلے منظرنامے کے مطابق امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر سکتا ہے تاکہ وہ اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کر سکے۔ ان مقاصد میں یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران سے یہ ضمانت لینا شامل ہے کہ وہ خلیجی ممالک پر حملے نہیں کرے گا۔
دوسرا امکان یہ ہے کہ امریکہ پیچھے ہٹ جائے اور خطے کے ممالک کو ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا سامنا کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دے۔
ڈاکٹر صقر نے کہا کہ ’دوسرے منظرنامے میں امریکہ کہہ سکتا ہے کہ ٹھیک ہے، اب ہم اس معاملے سے ہاتھ کھینچتے ہیں اور یہاں سے نکل جاتے ہیں۔‘
ان کے نزدیک یہ زیادہ خطرناک صورت حال ہوگی، کیونکہ امریکی انخلا ایران کو خلیج کے پانیوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے زیادہ گنجائش فراہم کر سکتا ہے، جس سے عالمی سلامتی بھی متاثر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ بدترین منظرنامہ ہوگا۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بتدریج ایران کو اپنی پالیسیوں اور جارحانہ طرزِ عمل کے ذریعے خلیجی پانیوں پر بالادستی قائم کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایک نئی بے چینی اور عدم استحکام پیدا ہوگا۔
ڈاکٹر صقر کے مطابق آبنائے ہرمز میں خلل سے خلیجی توانائی کی فراہمی پر انحصار کرنے والی معیشتیں متاثر ہوں گی، جبکہ خطے میں عدم استحکام عالمی تجارت اور بحری آمدورفت کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ جیسی عالمی طاقت اہم بحری راستوں کو درپیش خطرات پر قابو پانے میں ناکام رہتی ہے تو اس کی عالمی ساکھ بھی داؤ پر لگ جائے گی۔
سعودی عرب کے نئے سکیورٹی اتحاد
ڈاکٹر صقر نے سعودی عرب کی جانب سے سکیورٹی شراکت داریوں کو وسعت دینے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان مکہ معاہدے پر پیش رفت ان کی توقع سے زیادہ تیزی سے ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں اس پر پیش رفت میری توقع سے زیادہ تیز ہے۔‘
ان کے مطابق اتحاد میں شامل فریقین سیکریٹری جنرل اور اس کے لیے مقام کے تعین پر اتفاق کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر صقر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستانی یا ترک فوجیوں کو یمن میں تعینات کرنا ضروری نہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مصر کے تزویراتی مفادات کو بھی نمایاں کیا، خصوصاً بحیرہ احمر اور وسیع تر خطے میں اس کے کردار کو۔ ان کے مطابق سعودی عرب میں کام کرنے والے مصری شہریوں کی بڑی تعداد اور نہرِ سویز سے مصر کو ہونے والی آمدنی میں کمی بھی ایسے عوامل ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ’مصر عرب قومی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔ یہی بات سعودی عرب اور خلیج کے دیگر ممالک کے حوالے سے بھی درست ہے۔ ہم مصر کو اس معاملے سے الگ نہیں رکھ سکتے۔‘
ڈاکٹر صقر نے سعودی عرب کے فضائی دفاع میں یونان کے کردار کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یونانی اہلکار ینبع میں پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام چلا رہے ہیں، جنہوں نے اہم تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں کی کوششوں کو ناکام بنانے میں مدد دی ہے۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ یونان کے پاس دفاعی صلاحیت کا اضافی حصہ بھی موجود ہے جسے سعودی عرب کی مدد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق فرانس نے بھی سعودی عرب کو ایک فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
ڈاکٹر صقر نے کہا کہ ’ہم سعودی سلامتی کے لیے ان کے تعاون، فوجی اہلکار بھیجنے اور دفاعی نظام فراہم کرنے پر ان کے بے حد شکر گزار ہیں۔ یہ نظام انتہائی مفید ثابت ہوا ہے۔‘

شیئر: