Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گلوبل انرجی سکیورٹی مشترکہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے: سعودی کابینہ

کابینہ کا اجلاس منگل کو ریاض میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت ہوا (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی کابینہ نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں گلوبل انرجی سکیورٹی، تجارت، سپلائی چینز اور میری ٹائم سکیورٹی کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق  کابینہ کا اجلاس منگل کو ریاض میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت ہوا جس میں مقامی اور  بین الاقوامی امور زیر بحث آئے۔
کابینہ نے مملکت میں شہری مقامات، ایئرپورٹس اور انرجی انفرا سٹرکچر پر حوثیوں کےحملوں کے ساتھ بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو درپیش مسلسل خطرات کی مذمت کی۔
اجلاس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد 2216 اور اس کے بعد کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کے ساتھ حوثیوں کو ہتھیار اور دیگر معاونت کے حصول سے روکنے کے لیے عملی تعاون پر زور دیا۔
سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے بتایا اجلاس کے آغاز میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو امیر قطر کی جانب سے موصول ہونے والے پیغام کے مندرجات کا جائزہ لیا گیا۔
کابینہ کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے عراق کے وزیر اعظم علی فالح الزیدی کی ملاقات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے اس فیصلے کو بھی سراہا گیا جس کے تحت اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی وزرائے سائبرسکیورٹی کونسل قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کابینہ نے جنرل سیکرٹریٹ اور ایگزیکٹو آفس کی میزبانی کے لیے ریاض کے انتخاب کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا۔
اجلاس نے مملکت میں منعقد ہونے والی مختلف بین لااقوامی کانفرنسوں کے نتائج بھی جائزہ لیا۔ ریاض اکنامک فورم کی سفارشات کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ یہ سفارشات قومی معیشت کے نظام کو مضبوط بنانے، اقتصادی پالیسیوں اور ترجیحات کو فروغ دینے اور سرکاری و نجی شعبے کے درمیان مربوط شراکت داری کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔
کابینہ نے گزشتہ برس کے دوران مملکت میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 33.5 فیصد اضافے کو سعودی معیشت کی کشش اور مستقبل کے وسیع امکانات کا ثبوت قرار دیا۔
 کابینہ نے ایجنڈے میں شامل مختلف موضوعات کا جائزہ لیا گیا جن میں شوری کونسل کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات شامل تھیں۔ اس حوالے سے مختلف فیصلے صادر کیے گئے۔

 

شیئر: