حوثی ملیشیا کو اپنے جرائم اور مملکت پر حملوں کے نتائج بھگتنا ہوں گے: سعودی کابینہ
منگل 13 اکتوبر 2026 19:32
سعودی کابینہ نے منگل کو کہا کہ دہشت گرد حوثی ملیشیا کو اپنے جرائم، مملکت کے ایئرپورٹس، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور زائرین حرمین شریفین سمیت شہری تنصیبات کو بار بار نشانہ بنانے والے گھناؤنے حملوں کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
کابینہ نے حملوں میں ہونے والی اموات پر اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے۔
کابینہ کا اجلاس ریاض میں ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت دارالحکومت ہوا جس میں ملکی سلامتی سمیت توانائی کی فراہمی، علاقائی تعاون اور اہم قومی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
کابینہ نے یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کی فوجی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد حوثی ملیشیا کے خطرات کو کم کرنا اور یمن کے عوام، بین الاقوامی امن و سلامتی، عالمی تجارت اور بین الاقوامی سپلائی چینز کا تحفظ کرنا ہے۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا سعودی عرب اپنی سلامتی اور بحیرہ احمر و آبنائے باب المندب میں آزادانہ بحری آمد و رفت کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کی اجازت نہیں دے گا۔
کابینہ نے حوثی ملیشیا کی کارروائیوں کی مذمت کرنے والے برادر اور دوست ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے موقف کی بھی تعریف کی۔
ایس پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے بتایا اجلاس میں اراکین کابینہ نے گزشتہ دنوں سعودی عرب و برادر و دوست ممالک کے مابین ہونے والی ملاقاتوں اور مذاکرات کے نتائج کا بھی جائزہ لیا۔ ان کا مقصد مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف شعبوں میں دوطرفہ اور کثیر الجہتی تعاون، روابط اور انضمام کو مزید فروغ دینا ہے۔
اجلاس کے آغاز میں کابینہ نے وطن کے دفاع ، قومی مفادات اور وسائل کے تحفظ اور ملکی خودمختاری و عوام کی سلامتی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلح افواج کے بھرپور کردار کو سراہا۔
اجلاس میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل کی فوری بحالی کے عمل کو بھی سراہا۔ اس بحالی نے مملکت کے توانائی کے نظام کی اعلی آپریشنل صلاحیت، لچک اور ہنگامی حالات سے نمنٹے کے لیے تکنیکی حال تیار کرنے کی استعداد کواجاگر کیا ہے۔
کابینہ نے سعودی، بحرینی رابطہ کونسل کے تحت قائم سکیورٹی رابطہ کمیٹی کے پانچویں اجلاس کے نتائج کو سراہتے ہوئے طے شدہ اقدامات پر مشترکہ عمل درآمد جاری رکھنے کے عزم کی توثیق کی۔ دونوں برادر ممالک کے درمیان مستحکم برادرانہ تعلقات کی بنیاد پر مشترکہ اقدامات سے دونوں ممالک کے عوام کے مفادات اور باہمی اہداف کو تقویت ملے گی۔
اجلاس میں ریاض میں ہونے والی 25 ویں عالمی پیٹرولیم کانفرنس اور عرب و بین الاقوامی وزارتی اجلاسوں میں شرکت کرنے والے مندوبین کا خیرمقدم بھی کیا گیا۔
ملکی امور کے حوالے سے کابینہ نے سالِ رواں کی قومی سالانہ عطیہ خون مہم میں عوامی شرکت کو بھی سراہا۔
یہ مہم ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں شروع کی گئی ہے جس کا مقصد انسانی خدمت کے جذبے کو فروغ دینا ہے تاکہ درکار خون کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔
اجلاس کے آخر میں اراکین کابینہ نے ایجنڈے میں شامل مختلف امور کا جائزہ لیا جن میں شوری کونسل کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات و دیگر کمیٹیوں کی رپورٹیں شامل تھیں۔
