Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لائبہ اعجاز خودکشی کیس، مرکزی ملزم جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

اتوار کو کیس کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی گئی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کے کیس کے مرکزی ملزم نعمان کو پانچ دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کر دیا گیا ہے۔
پیر کو جوڈیشل مجسٹریٹ زنیرہ ظفر کی عدالت میں سماعت کے موقعے پر پولیس نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کے تمام حقائق، واقعات کی مکمل جانچ، دستیاب شواہد اور ابتدائی تفتیش کی روشنی میں مزید تفتیش مطلوب ہے جبکہ وقوعہ میں ملزم کے مبینہ کردار کے تعین اور شواہد کی تصدیق کی جانی ہے۔
اتوار کو طالبہ لائبہ اعجاز کی موت اور اس سے جڑے لاکھوں روپے کے مالیاتی فراڈ کے کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ای ایف آئی اے) نے ایک اہم ملزم کو گرفتار کیا تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق جن دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔
اسلام آباد میں پراسرار طور پر ہلاک ہونے والی طالبہ لائبہ اعجاز کی ہلاکت کو پولیس مبینہ خودکشی کے زاویے سے دیکھ رہی ہے۔
تحقيقات کے مطابق ایک شخص نے خود کو سرکاری اہلکار ظاہر کرکے طالبہ کے خاندان سے امریکہ میں تعلیم کے لیے یونیورسٹی میں داخلے کا جھانسہ دے کر 93 لاکھ روپے کا فراڈ کیا تھا۔
جعل سازی اور لاکھوں روپے کا فراڈ
ایف آئی اے کے ترجمان نے سنیچر کی رات جاری کردہ ایک بیان میں بتایا کہ ابتدائی انکوائری مکمل کرنے کے بعد نامزد ملزمان محمد نعمان اور فاطمہ سرور کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ادارے کے مطابق دونوں ملزمان نے آپس میں گٹھ جوڑ کرکے طالبہ کے ساتھ دھوکہ دہی کی۔
ایف آئی اے نے بیان میں کہا کہ ’ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان نے باہم مل کر لائبہ اعجاز سے 93 لاکھ روپے حاصل کیے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو سکالرشپ کے جعلی لیٹرز، یونیورسٹی داخلے کے فرضی آفر لیٹرز اور فیس کی جعلی رسیدیں بنا کر دھوکہ دیا۔‘
تحقیقات کے مطابق 93 لاکھ روپے میں سے 29 لاکھ روپے لائبہ کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے منتقل کیے گئے جبکہ بقایا رقم نقد صورت میں وصول کی گئی۔
 ایف آئی اے کے مطابق ’افسوسناک طور پر لائبہ اعجاز اس سنگین مالیاتی فراڈ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شدید ذہنی کوفت کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور ان کا انتقال ہو گیا۔‘

شیئر: