Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سرگودھا: بچی کے مبینہ زیادتی و قتل کیس کا مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

سرگودھا میں کم سن بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور قتل کے مقدمے میں گرفتار مرکزی ملزم ارسلان مبینہ پولیس کارروائی کے دوران ہلاک ہو گیا ہے۔
پولیس ذرائع نے اردو نیوز کو بتایا کہ ملزم کو آلۂ قتل کی برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ تین پلہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے سکواڈ پر فائرنگ کر دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی اہلکاروں کی جوابی فائرنگ کے دوران مرکزی ملزم ارسلان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گیا۔ اس حوالے سے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ یا پولیس کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
چند روز قبل سرگودھا کے کارخانہ بازار میں 7 سالہ بچی کے مبینہ زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم ارسلان کو دیگر ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔
اہل خانہ کے مطابق بچی ایک روز صبح گھر سے بازار گئی تھی لیکن واپس نہ لوٹی۔ بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بچی کو آخری بار کارخانہ بازار کی ایک دکان کے قریب دیکھا گیا۔
بچی کے والد نے اردو نیوز کو بتایا تھا کہ بیٹی کے لاپتہ ہونے پر انہوں نے پولیس کو اطلاع دی جبکہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے زیر انتظام ’میرا پیارا‘ پروگرام کے ذریعے بھی بچی کی گمشدگی کا اشتہار جاری کیا گیا۔
ان کے بقول قریبی دکانوں کے سی سی ٹی وی کیمرے چیک کیے گئے تو معلوم ہوا کہ بچی ایک دکان کے اندر گئی تھی لیکن واپس باہر نہیں نکلی۔
والد نے بتایا کہ پولیس کے ہمراہ مذکورہ دکان پر چھاپہ مارا گیا جہاں تلاشی کے دوران عمارت کی بالائی منزل پر بچی زخمی حالت میں ملی۔ تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔
تھانہ سٹی سرگودھا میں درج ایف آئی آر کے مطابق اہل خانہ جب دکان کی تیسری منزل پر پہنچے تو ایک شخص مبینہ طور پر وہاں موجود تھا جو انہیں دیکھتے ہی فرار ہو گیا۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا کہ بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی گئی اور بعد ازاں اسے قتل کر دیا گیا۔
سرگودھا پولیس کے ترجمان نے اردو نیوز کو بتایا تھا کہ کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم ارسلان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دکان کے مالک اور دو دیگر ملازمین کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع نے بعد میں دعویٰ کیا تھا کہ دوران تفتیش ملزم نے جرم کا اعتراف بھی کر لیا تھا جبکہ مقدمے کی مزید تفتیش کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر دی گئی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ شبہ بھی سامنے آیا تھا کہ واقعے میں ایک سے زیادہ افراد ملوث ہو سکتے ہیں۔ اسی سلسلے میں دیگر گرفتار افراد سے بھی تفتیش جاری ہے۔

شیئر: