Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد میں طالبہ کی خودکشی کا معاملہ، ایف آئی اے کی دو ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی موت اور اس سے جڑے لاکھوں روپے کے مالیاتی فراڈ کے معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ای ایف آئی اے) نے مقدمہ درج کرکے دو اہم ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق جن دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔
اسلام آباد میں گزشتہ روز پراسرار طور پر ہلاک ہونے والی طالبہ لائبہ اعجاز کی ہلاکت کو پولیس مبینہ خودکشی کے زاویے سے دیکھ رہی ہے۔
تحقيقات کے مطابق ایک شخص نے خود کو سرکاری اہلکار ظاہر کرکے طالبہ کے خاندان سے امریکہ میں تعلیم کے لیے یونیورسٹی میں داخلے کا جھانسہ دے کر 93 لاکھ روپے کا فراڈ کیا تھا۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کے خلاف شدید غصے اور ردِعمل کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسے حکام کے لیے ایک ’ٹیسٹ کیس‘ قرار دیا ہے۔
جعل سازی اور لاکھوں روپے کا فراڈ
ایف آئی اے کے ترجمان نے سنیچر کی رات جاری کردہ ایک بیان میں بتایا کہ ابتدائی انکوائری مکمل کرنے کے بعد نامزد ملزمان محمد نعمان اور فاطمہ سرور کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ادارے کے مطابق دونوں ملزمان نے آپس میں گٹھ جوڑ کرکے طالبعلم کے ساتھ دھوکہ دہی کی۔
ایف آئی اے نے بیان میں کہا ’ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان نے باہم مل کر لائبہ اعجاز سے 93 لاکھ روپے حاصل کیے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو سکالرشپ کے جعلی لیٹرز، یونیورسٹی داخلے کے فرضی افر لیٹرز اور فیس کی جعلی رسیدیں بنا کر دھوکہ دیا۔‘
تحقیقات کے مطابق 93 لاکھ روپے میں سے 29 لاکھ روپے لائبہ کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے منتقل کیے گئے جبکہ بقایا رقم نقد صورت میں وصول کی گئی۔
 ایف آئی اے کے مطابق ’افسوسناک طور پر لائبہ اعجاز اس سنگین مالیاتی فراڈ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شدید ذہنی کوفت کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور ان کا انتقال ہو گیا۔‘
وزیر داخلہ کی تعزیت
انسانی سمگلنگ، غیر قانونی ہجرت اور ویزا فراڈ کے خلاف جاری ملک گیر مہم کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے سنیچر کی شب غمزدہ خاندان سے ملاقات کی۔
اس موقعے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’یہ ہمارے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ میں ذاتی طور پر اس کیس کی پیروی کروں گا اور ذمہ داروں کو انجام تک پہنچا کر خاندان کی رقم واپس دلواؤں گا۔‘
وزیر داخلہ کا یہ دورہ وزیراعظم شہباز شریف کے نوٹس کے بعد سامنے آیا۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد اور چیف کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ملزمان کو حراست میں لیں۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انکوائری کے دوران اس جرم میں ملوث کسی بھی دوسرے شخص کا کردار بھی متعین کیا جائے گا۔

شیئر: