Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

راولپنڈی میں بچی سے زیادتی اور قتل کا ملزم ’خالو‘ سی سی ڈی مقابلے میں ہلاک

میمونہ کی لاش آٹھ اکتوبر کو خالو ممریز عباسی کے گھر سے ملی تھی (فوٹو: پنجاب پولیس)
راولپنڈی کے علاقے ڈھوک نجو میں 12 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کا ملزم کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔
منگل کو سی سی ڈی ایک بیان میں کہا کہ تھانہ رتہ امرال کے علاقے عالم آباد میں چلڈرن پارک کے قریب تین افراد نے سی سی ڈی ٹیم پر فائرنگ کی جس کی زد میں ملزم ممریز آنے کے بعد ہلاک ہو گیا۔ یہ وہی شخص تھا جس پر ایک 12 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کرنے کا الزام تھا۔
ملزم ایبٹ آباد کا رہائشی تھا اور واقعے کے بعد سے مفرور تھا، اس کے قبضے سے ایک 30 بور پستول بھی برآمد ہوا ہے۔
ممریز عباسی پر الزام تھا کہ ’اس نے چند روز قبل مدرسے جانے والے بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا تھا جو کہ اس بچی کا سگا خالو بھی تھا۔‘
12 سالہ میمونہ کی لاش آٹھ اکتوبر کو ملزم کے گھر سے ملی تھی جس کے بعد ملزم کی بچی کو ساتھ لے جاتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی تھی۔
سی سی ڈی کا کہنا ہے کہ ملزم کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
بچی کے لاپتہ ہونے کے بعد والد نے پولیس کو بتایا تھا کہ میمونہ بی بی چھ اکتوبر کی دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب مدرسے کے لیے گئی لیکن راستے سے لاپتہ ہو گئی ہے اور بازیابی کی درخواست کی تھی۔

واقعے میں سامنے آنے والی سی سی ٹی فوٹیج میں بچی کو خالو کے ساتھ دیکھا گیا تھا (فوٹو: سکرین گریب)

پولیس حرکت میں آئی تو سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے معلوم ہوا کہ بچی اپنے خالو کے ساتھ ہے۔
پولیس کے مطابق ’بچی کے خالو کے گھر چھاپے کے دوران بچی کی تشدد زدہ لاش چارپائی کے نیچے سے ملی جبکہ گھر کو تالہ لگا تھا اور ملزم غائب تھا۔‘
پولیس کے مطابق بچی کے جسم پر مزاحمت کے نشانات اور منہ میں کپڑا اور گلے میں دوپٹہ بندھا ہوا تھا۔ 
بچی کے والد محمد فیصل نے اردو نیوز کو بتایا تھا کہ ’میری بیٹی ملزم کے گھر کے سامنے پڑھنے جاتی تھی۔ اس نے اسے گھر کے اندر بلا کر تشدد کر کے مار دیا ہے۔‘

شیئر: