Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان میں ایک سال کے دوران 60 ہزار آپریشنز، 1100 دہشت گرد مارے گئے، 551 شہری اور اہلکار جان سے گئے: حکومت

صوبائی حکومت کے مطابق رواں سال اکتوبر تک تقریباً 60 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، کومبنگ آپریشنز اور دیگر کارروائیاں کی جا چکی ہیں (فوٹو: روئٹرز)
بلوچستان حکومت نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے گزشتہ دو برسوں کے دوران غیر معمولی قانون سازی، ادارہ جاتی اصلاحات اور سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں اور بلوچستان کا موازنہ خیبرپختونخوا اور دیگر صوبوں سے کرتے وقت اِن اقدامات کو بھی مدِنظر رکھا جانا چاہیے۔
صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو، وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے میڈیا شاہد رند اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اپنی کارکردگی اور اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی کوئی ایسی صورتِ حال نہیں ہے جیسی خیبر پختونخوا میں پیدا ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات ضرور ہو رہے ہیں لیکن صوبائی حکومت اور سکیورٹی ادارے اِس کے خلاف مکمل تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں چنانچہ بلوچستان کی صورتِ حال کا خیبر پختونخوا سے موازنہ درست نہیں۔‘
ضیااللہ لانگو نے مزید کہا کہ ’موجودہ حالات میں حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت ریاستی اداروں، سکیورٹی فورسز اور دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات کی حمایت کرے۔‘
صوبائی وزیرِ داخلہ کے مطابق ملک دہشت گردی کی ایک مشکل صورتِ حال سے گزر رہا ہے اور اِس وقت ریاستی اداروں پر تنقید کی بجائے اُن کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
شاہد رند نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد بعض سیاسی رہنما بلوچستان میں بھی اِسی نوعیت کے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ  ’مولانا فضل الرحمٰن اگر بلوچستان کی صورتِ حال کا موازنہ خیبر پختونخوا سے کرنا چاہتے ہیں تو پہلے حکومتِ بلوچستان کے اقدامات، قانون سازی اور اپوزیشن کی مشاورت سے منظور ہونے والے قوانین کا جائزہ لیں۔‘
شاہد رند نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’وہاں کی صورتِ حال کی ایک وجہ سیاسی معاملات بھی ہیں، اور بلوچستان حکومت نے کبھی وفاقی حکومت یا ریاستی اداروں کے ساتھ ایسا تصادم پیدا نہیں کیا جس سے آئینی بحران جنم لیتا۔‘
شاہد رند نے کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف قانون سازی، سکیورٹی اصلاحات اور ادارہ جاتی اقدامات میں اپوزیشن جماعتوں کو بھی مشاورت کے عمل میں شامل کیا گیا ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’موجودہ حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔‘
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے  بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ’حکومتِ بلوچستان نے گزشتہ دو سال کے دوران انسدادِ دہشت گردی کے لیے 18 نئے قوانین منظور کیے اور 17 نئے ادارے قائم کیے ہیں۔‘
ان کے مطابق یہ اقدامات نیشنل ایکشن پلان، صوبائی ایکشن پلان اور دیگر سکیورٹی پالیسیوں کے تحت کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’حکومتِ بلوچستان نے گواہوں کے تحفظ کے قانون، فیس لیس کورٹس، ڈیٹینشن سینٹرز، انٹرنمنٹ سینٹرز اور ڈی ریڈیکلائزیشن مراکز کے قیام سمیت کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جو ملک کے دیگر حصوں میں ابھی تک نہیں کیے گئے۔‘
 اُن کے مطابق اِس وقت تقریباً 90 افراد مختلف ڈیٹینشن سینٹرز میں موجود ہیں جبکہ 41 مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں دہشت گردی کے مقدمات پر کام کر رہی ہیں۔
حمزہ شفقات نے بتایا کہ ’حکومتِ بلوچستان نے گزشتہ دو سال کے دوران افغان باشندوں سمیت 11 لاکھ سے زائد غیر قانونی غیر ملکیوں کو واپس بجھوایا ہے۔‘
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کے مطابق دہشت گردی کی روک تھام کے لیے انٹیلی جنس فیوژن سینٹر، سینٹر آف ایکسی لینس، ڈرون یونٹ، اینٹی ایکسٹورشن سیل اور سیف سٹی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ پنجاب کے بعد بلوچستان دوسرا بڑا صوبہ ہے جو اس قدر سرمایہ کاری کر کے اپنی فارنزک سائنس ایجنسی  قائم کر رہا ہے جس کا افتتاح بہت جلد ہوگا۔‘
حمزہ شفقات نے دعویٰ کیا کہ ’حکومت نے امن و امان کے شعبے میں 40 ارب روپے خرچ کیے ہیں جبکہ منصوبہ بندی اور بہتر مالی نظم و نسق کے ذریعے 15 ارب روپے کی بچت بھی کی گئی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’صوبے کے مختلف شہروں میں نو نئے سیف سٹی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں جبکہ پانچ ماڈل سٹیز بھی قائم کیے جا رہے ہیں جہاں سکیورٹی اور نگرانی کا جدید نظام متعارف کروایا جائے گا۔‘
اُن کے مطابق چھ ارب روپے کی لاگت سے کوئٹہ کا سکیورٹی بورڈ قائم کیا گیا ہے جس کے تحت کوئٹہ میں چار ہزار نئے کیمرے لگائے جا رہے ہیں جن کے باعث 18 کے قریب غیر محفوظ اور غیر روایتی راستے محفوظ ہوں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ ’بلوچستان بھر میں رواں سال اکتوبر تک تقریباً 60 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، کومبنگ آپریشنز اور دیگر کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ چار سو 50 سے زائد مشتبہ شدت پسند گرفتار کیے گئے جبکہ 11 کے قریب  شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔‘
حمزہ شفقات نے بتایا کہ ’رواں سال بلوچستان پولیس کے ایک سو ایک اہلکار دہشت گردی کے واقعات میں  جانیں کھوچکے ہیں۔‘
اُن کے مطابق قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے شہدا کی تعداد بھی 200 سو سے زائد ہے جبکہ مجموعی طور پر 551 بے گناہ افراد دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں۔‘
ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کے اغوا کے حالیہ واقعات سے متعلق سوال پر میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ ’دہشت گرد مختلف نوعیت کی کارروائیوں کی کوشش کرتے رہتے ہیں تاہم سکیورٹی فورسز اُن کے متعدد منصوبے ناکام بنا چکی ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اغوا کیے گئے افراد کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور انہیں جلد بحفاظت واپس لایا جائے گا۔‘
حمزہ شفقات نے پہاڑی علاقوں میں آپریشن اور آبادی کی نقل مکانی سے متعلق بتایا کہ ’شور اور پارود کی پہاڑی  رینج میں  شدت پسندوں کے ٹھکانے موجود ہیں اور یہ طویل پہاڑی رینج تقریباً چھ اضلاع  کی حدود میں آتی ہے۔ اِن پہاڑی علاقوں میں سکیورٹی آپریشن کے باعث صرف پانچ ہزار خاندان  اور مجموعی طور پر تقریباً خواتین اور بچوں سمیت 30 ہزار لوگ متاثر ہوں گے جن کی منتقلی کا منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے۔ ہم نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ 30 اکتوبر تک رضا کارانہ طور پر نقل مکانی کرلیں۔‘
اُن کے مطابق حکومت متاثرہ خاندانوں کو خیمے، خوراک، ادویات، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات فراہم کرے گی اور اُن کے لیے خصوصی امدادی پیکیج بھی منظور کیا جا چکا ہے۔
شاہد رند نے کھاد کی ترسیل پر پابندی کے حوالے سے سوال پر حکومتی مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’بعض شواہد سے معلوم ہوا کہ زرعی کھاد دھماکا خیز مواد کی تیاری میں استعمال ہو رہی تھی، جس کے بعد پابندی عائد کی گئی۔‘
حمزہ شفقات نے دعویٰ کیا کہ ’رواں سال جولائی میں چمن سے 10 ہزار ڈیٹونیٹرز برآمد کیے گئے تھے اور تحقیقات سے معلوم ہوا کہ دھماکا خیز آلات کی تیاری میں بعض کھادیں بھی استعمال ہو رہی تھیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ پابندی عارضی نوعیت کی ہے اور وفاقی حکومت ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم متعارف کرا رہی ہے تاکہ کھاد کی فروخت اور استعمال کی نگرانی کی جا سکے۔‘

شیئر: