بلوچستان حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال کے پیش نظر بین الصوبائی اور بین الاضلاعی پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے نئے سکیورٹی احکامات جاری کیے ہیں۔
ان احکامات کے تحت بسوں میں بنائے گئے غیر قانونی خفیہ خانے ختم کرنے، مسافروں کا ریکارڈ مرتب کرنے اور غیر قانونی طور پر مقیم غیرملکی شہریوں بالخصوص افغان شہریوں کو سفر کی اجازت نہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
صوبائی سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی بلوچستان کی جانب سے سات اکتوبر کو ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور بس مالکان کو جاری کیے گئے نوٹسز میں تمام ملازمین کے کوائف 10 روز کے اندر جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
ان کوائف میں ڈرائیوروں، کنڈیکٹروں، ہیلپروں، سکیورٹی گارڈز، مکینکس اور مینیجرز کے نام، قومی شناختی کارڈ نمبر اور پتے شامل ہیں۔
نوٹس میں ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی بسوں میں تخریب کاری، دہشت گردی، جرائم یا کسی دوسری غیرقانونی سرگرمی میں ملوث افراد کو سفر کی سہولت فراہم نہ کی جائے۔
حکام نے ٹکٹ جاری کرتے وقت مقررہ طریقہ کار کے مطابق مسافروں کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
نوٹس کے مطابق کسی بھی مسافر کو شناختی دستاویزات اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکی شہریوں بالخصوص افغان شہریوں، کو ٹکٹ جاری نہ کریں اور نہ ہی انہیں سفر کی اجازت دیں۔
نوٹس میں بس مالکان کو اپنی گاڑیوں کا مکمل معائنہ کرانے اور ان میں کسی بھی مقصد کے لیے بنائے گئے غیرقانونی خفیہ خانوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
نوٹس میں ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی بس میں خفیہ خانہ یا غیرمعمولی تبدیلی سامنے آنے کی صورت میں متعلقہ ٹرانسپورٹ کمپنی کی انتظامیہ ذمہ دار ہوگی۔
سیکریٹری ٹرانسپورٹ کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں اور مالکان کے خلاف موٹروہیکل آرڈیننس 1965 اور موٹروہیکل رُولز 1969 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

اس کارروائی میں بسوں کو بند کرنے اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو سیل کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صوبے میں سمگلنگ، غیر قانونی اسلحے کی منتقلی اور ریاست مخالف عناصر کی نقل و حرکت روکنا ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’بعض بسوں میں سمگلنگ کے لیے خفیہ خانے بنائے گئے ہیں۔‘
اُن کے مطابق ’اِن خفیہ خانوں کے ذریعے افغانستان اور ایران کی سرحدوں سے سمگل ہو کر آنے والی نان کسٹم پیڈ اشیا کو بلوچستان کے مختلف علاقوں اور ملک کے دیگر صوبوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
افسر کا مزید کہنا تھا کہ ’ان خفیہ خانوں میں منشیات، اسلحہ اور دیگر ممنوعہ اشیا بھی منتقل کرنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اب کسی بس میں خفیہ خانہ پایا گیا تو متعلقہ کمپنی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ حکام کی جانب سے صوبہ بلوچستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے سکیورٹی پابندیاں عائد کی گئی ہوں۔
جولائی 2025 میں قومی شاہراہوں پر مسافروں کو بسوں سے اُتار کر قتل کرنے اور دہشت گردی کے واقعات کے بعد حکومت نے بسوں میں سکیورٹی گارڈز، سی سی ٹی وی کیمرے، ٹریکر اور پینک الارم نصب کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔













