Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اختلافات کے باوجود پاکستان سے تعلقات امریکہ کی ضرورت ہیں: امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات دور کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں (فوٹو: فرسٹ پوسٹ)
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکہ کو پالیسی اختلافات کے باوجود جوہری ہتھیاروں کے حامل ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ رابطے اور بات چیت علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات دور کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکہ طویل عرصے سے پاکستان اور انڈیا دونوں کے ساتھ سفارتی اور دفاعی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔ دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات متنازع ہمالیائی خطے کشمیر اور ایک دوسرے کی سرزمین پر عسکریت پسندی کو ہوا دینے کے الزامات کے باعث کشیدہ ہیں۔
سال 2025 میں مارکو روبیو نے یہ عہد بھی کیا تھا کہ پاکستان اگر انڈیا کے خلاف عسکریت پسندی کی سرپرستی کرتا ہے تو وہ پاکستان کے لیے امریکی سکیورٹی امداد بند کرنے کے لیے قانون سازی کی تجویز پیش کریں گے، وہ اُس وقت امریکی سینیٹ کے رُکن تھے۔
امریکی وزیرِ خارجہ اِس وقت انڈیا کے دورے پر ہیں، جہاں اِن کی بات چیت کا مقصد امریکہ اور انڈیا کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے۔ امید ہے کہ مذاکرات میں دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی اور علاقائی سلامتی پر توجہ دی جائے گی۔
امریکہ ایک جانب انڈیا کے ساتھ اپنی شراکت داری مضبوط بنانا چاہتا ہے تو دوسری جانب جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے انڈین نشریاتی ادارے نیوز 18 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ تعلقات رکھنا ضروری ہیں۔ اِس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور جغرافیائی اعتبار سے بھی ہمیں اِس کے ساتھ رابطے اور بات چیت کے قابل ہونا چاہیے، بالکل اُسی طرح جیسے انڈین حکومت کو ایران کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے اور اُس کے رہنماؤں سے ملاقات کرنے کی ضرورت ہے اور وہ ایسا کرتی بھی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ کسی حد تک ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، کیوں کہ اگر ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات ہوں اور ہم اِس سے بات کر سکیں تو شاید اِس کے ذریعے ہم اُن سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرنے میں مدد دے سکیں جن پر انڈیا کو تشویش ہے۔‘
انڈیا یہ الزام عائد کرتا ہے کہ پاکستان کشمیر کے اُس حصے میں عسکریت پسندوں کی حمایت کرتا ہے جو اُس کے کنٹرول میں ہے۔ دوسری جانب پاکستان یہ الزام عائد کرتا ہے کہ انڈیا افغانستان سے متصل پاکستان کے مغربی صوبوں میں حملے کرنے والے مسلح گروہوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے اِن الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
گذشتہ سال دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان ایک مختصر لیکن شدید فوجی تصادم بھی ہوا تھا، جس کا آغاز انڈین زیرِ انتظام کشمیر میں ایک عسکریت پسند حملے کے بعد ہوا۔ اِس دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف لڑاکا طیاروں، میزائلوں، ڈرونز اور توپ خانے کا استعمال کیا۔ بعد ازاں دونوں ممالک جنگ بندی پر متفق ہو گئے۔

مارکو روبیو نے انڈین نشریاتی ادارے نیوز 18 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ تعلقات رکھنا ضروری ہیں (فوٹو: نیوز 18)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ جنگ بندی امریکی ثالثی کے نتیجے میں ممکن ہوئی، تاہم انڈیا نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ’وہ اگرچہ ماضی میں امریکی سینیٹر کی حیثیت سے اس معاملے پر اپنا مؤقف بیان کر چکے ہیں، لیکن اب وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے اُن کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکی خارجہ پالیسی کے وسیع تر تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ ہم ہر اُس شخص کے مخالف ہیں جو دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے۔‘
مارکو روبیو نے مزید کہا  کہ ’اپنے نئے منصب میں اب میں سینیٹر نہیں بلکہ وزیرِ خارجہ ہوں۔ مجھے امریکہ کی خارجہ پالیسی کے معاملات چلانے ہیں، اور اِس کے لیے ضروری ہے کہ ہم مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھیں، جن میں وہ ممالک بھی شامل ہے جن کے ساتھ بعض معاملات پر ہمارے اختلافات ہو سکتے ہیں۔‘

شیئر: