Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ مذاکرات کے لیے اب بھی تیار مگر تہران سنجیدہ نہیں: مارکو روبیو

امریکہ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب بھی ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا (فوٹو: گیٹی امیجز)
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ اب بھی ایران  کے ساتھ بات چیت اور بحران کا خاتمہ چاہتا ہے مگر تہران اس کے لیے سنجیدہ نہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مارکو روبیو نے بدھ کو جنوب ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کیا جو کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے اس دعوے کے بعد منعقد کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر دی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز کے راستے سفر کرنے والے بحری جہازوں کو ایران کی جانب سے خطرات لاحق ہونے کے بعد بحیرہ احمر ایک ایسا متبادل ہے جس کے ذریعے سعودی عرب کا روزانہ لاکھوں بیرل تیل برآمد ہوتا ہے۔
پیر کو ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ تہران کو ثالث ممالک کی جانب سے 10 روز کی جنگ بندی کی تجویز موصول ہوئی ہے۔
اس تجویز کا مقصد جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری معاہدے کو برقرار رکھنا ہے، جو کہ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد طے پایا تھا۔
اسی طرح سفارت کاری کا ایک اشارہ اس صورت میں بھی سامنے آیا ہے کہ ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا اور اسلام آباد کو کہا ہے کہ وہ اپنی کوششیں جاری رکھے۔
مارکو روبیو کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’واشنگٹن ہمیشہ سے سفارت کاری کے لیے پرعزم رہا ہے تاہم ایران پر شک ہے کہ آیا وہ بھی اتنا ہی پرعزم ہے۔‘

ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے پاکستان کے دورے سے اشارہ ملتا ہے کہ سفارت کاری کا عمل جاری ہے (فوٹو: پی ایم آفس)

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ وہ بات چیت کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہیں، اگر وہ سنجیدہ ہوں تو ہم بھی سنجیدہ ہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر ہم اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے وہ سب کچھ کریں گے جو ضروری ہو۔‘
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ اس سے پوری دنیا خصوصاً جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے لیے ایک خطرناک مثال قائم ہو گی، جن میں سے کئی سمندر کے معاملے پر چین کے ساتھ تنازعات رکھتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر ہم مشرق وسطیٰ میں ایسی مثال قائم ہونے دیتے ہیں جس میں کوئی ملک یہ فیصلہ کرے وہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کنٹرول کرے گا، وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے محصول وصول کرے گا اور ادائیگی نہ کرنے پر جہاز تباہ کرے گا، تو ہم ایک خطرناک مثال قائم کر رہے ہوں گے، جس کے بعد یہ عمل دنیا کے دیگر حصوں بشمول اس خطے کے بھی دوہرایا جا سکتا ہے۔‘

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی (فائل فوٹو: روئٹرز)

دوسری جانب سفارتی سطح پر کسی قسم کی پیش رفت کے آثار ظاہر نہ ہونے کے باعث امریکہ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب مسلسل 11ویں رات بھی ایران میں مختلف اہداف پر بمباری کی۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کا کہنا ہے کہ بدھ کو علی الصبح تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور ایران فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنوب مشرقی ساحلی شہروں چابہار اور کنارک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ ایران کے واحد جوہری بجلی گھر والے شہر بوشہر میں بھی دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

 

شیئر: