آبنائے ہرمز پر ایرانی ٹیکس عالمی آبی راستوں میں ’وبا کی طرح‘ پھیل سکتا ہے: مارکو روبیو
روبیو نے کہا کہ ’بین الاقوامی آبی راستے کسی بھی ریاست کی ملکیت نہیں ہوتے۔‘ (فوٹو: روئٹرز)
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس لگانے کا اقدام دیگر آبی راستوں تک پھیل سکتا ہے جس سے ’مکمل انتشار‘ کا خطرہ ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو انہوں نے بحرین میں خلیجی تعاون کونسل کے اجلاس میں کہا کہ ’بین الاقوامی آبی راستے کسی بھی ریاست کی ملکیت نہیں ہوتے۔ یہ دنیا کا ایک بنیادی اصول ہے، جس کے بغیر دنیا مکمل انتشار میں ڈوب جائے گی۔‘
روبیو نے مزید کہا کہ ’اگر ہم یہ قبول کر لیں کہ آپ کسی بین الاقوامی آبی راستے پر صرف اس لیے پیسے وصول کر سکتے ہیں کہ وہ آپ کی سرحد کے قریب ہے، تو یہ دنیا بھر میں ایک وبا کی طرح پھیل جائے گا۔‘
اپنے پہلے علاقائی دورے پر، جو امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کے بعد ہوا، روبیو نے کہا کہ امریکہ امن معاہدہ چاہتا ہے لیکن ’کسی بھی قیمت پر نہیں۔ ہم ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو اچھا ہو، حقیقی ہو، قابلِ تصدیق ہو اور اس پر عمل درآمد بھی ہو۔‘
امریکی وزیرِ خارجہ، جنہوں نے اپنے دورے میں شدید حملوں کا شکار متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا بھی دورہ کیا، نے یقین دلایا کہ خلیجی ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ ’ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اس معاہدے کا کوئی حصہ ایسا نہ ہو جو کسی بھی طرح ہمارے خلیجی شراکت داروں کی سلامتی، استحکام یا خوشحالی کو نقصان پہنچائے۔‘
