Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یمن جنگ، امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدوں کی پاسداری کرے گا: مارکو روبیو

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کو حوثیوں کے مسلسل حملوں کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے (فوٹو: اے پی)
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کہا ہے کہ یمنی حکومت کی افواج اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان ایک بار پھر شروع ہونے والی لڑائی کے دوران امریکہ سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے اپنے دوطرفہ سکیورٹی وعدوں کی پاسداری کرے گا۔
مارکو روبیو نے یورپ کے دورے کے لیے روانہ ہونے سے قبل ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی معاہدہ ہے اور ہم اس پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘ اُن کے یورپی دورے میں آئس لینڈ، یونان اور پرتگال شامل ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کو حوثیوں کے مسلسل حملوں کے خلاف ’اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ یمن کی حکومتی افواج ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو وہ گزشتہ جھڑپوں کے دوران کھو چکی تھیں۔
حالیہ لڑائی اب آبنائے باب المندب کے اطراف میں شدت اختیار کر گئی ہے، جو بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ سعودی اور یمنی افواج آبی گزرگاہ کے قریب حوثیوں کے کنٹرول کی مخالفت کر رہی ہیں اور اِن علاقوں میں جاری جوابی کارروائیوں کو ایک متوقع اور اہم پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’یمن میں اِس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ حوثیوں کی جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی ہے۔‘
مارکو روبیو کا یہ بیان یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی کی جانب سے فوجی کارروائی شروع کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد حوثیوں کے قبضے میں موجود دارالحکومت صنعا کو دوبارہ حاصل کرنا اور ریاستی اداروں کو بحال کرنا ہے۔
حوثی سال 2014 سے صنعا پر قابض ہیں۔ یمنی فوج کی یونٹوں نے پیر کو کہا کہ انہوں نے آبنائے باب المندب کے قریب ضُباب ضلع اور دیگر اہم سٹریٹجک مقامات کو محفوظ بنا لیا ہے۔
امریکہ نے اس مہم کی حمایت میں فضائی حملوں یا دیگر جنگی کارروائیوں میں براہِ راست حصہ لینے کا وعدہ نہیں کیا۔ اس کی بجائے واشنگٹن نے سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور مشاورتی معاونت فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ سی این این کی ستمبر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ معاونت اب بھی جاری ہے۔

شیئر: