Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے معاملے پر جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کا مختلف، وجہ سیاسی یا کچھ اور؟

جے ڈی وینس اور مارکو روبیو دونوں کو صدر ٹرمپ کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بظاہر صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے ایجنڈے پر عمدرآمد کے حوالے سے مختلف حکمت عملیاں اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔
اسی طرح وہ منقسم ریپبلکن پارٹی میں اپنی اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ وہ 2028 میں ہونے والے صدارت کے ممکنہ امیدواروں میں سے بھی ہو سکتے ہیں۔
امریکی خبر رساں اداے اے پی کے مطابق بالکل مختلف پس منظر اور تجربہ رکھنے والے یہ دونوں افراد اپنی سیاسی شناخت کے لیے چل بھی مختلف راستوں پر رہے ہیں۔
مارکو روبیو کیوبا سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے بیٹے ہیں وہ سینیٹ میں طویل عرصے تک خدمات انجام دے چکے ہیں اور لاطینی امریکہ کے معاملات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
دوسری جانب جے ڈی وینس مڈویسٹ سے تعلق رکھتے ہیں، وہ سابق فوجی بھی ہیں اور صرف دو سال سینیٹ میں خدمات انجام دینے کے بعد صدر ٹرمپ نے ان کو 2024 کے صدارتی انتخابات کے موقع پر اپنا نائب صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا۔
ان کا بنیادی پیغام یہ رہا ہے کہ امریکہ کو بیرونی جنگوں سے دور رکھا جائے۔
اگرچہ جے ڈی وینس اور مارکو روبیو ایک دوسرے کے بارے میں احترام کا رویہ رکھتے ہیں اور وائٹ ہاؤس و محکمہ خارجہ بھی ان کے درمیان کسی اختلاف کی تردید کرتے ہیں تاہم مشرق وسطیٰ کے معاملے پر دونوں کے موقف میں واضح فرق نظر آتا ہے۔
جے ڈی وینس کئی بار ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کی لبنان میں کارروائیوں پر تنقید کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیل کی ان کارروائیوں سے ناخوش ہیں جو اس کی جانب سے ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف کی گئیں کیونکہ ان کی وجہ سے ایران مشتعل ہوا اور اس کا انجام یہ ہوا کہ تہران کے ساتھ بات چیت کا عمل مشکل ہوا۔
دوسری جانب مارکو روبیو اسرائیل کی حمایت جاری رکھے ہوئے نظر آتے ہیں یا پھر اس معاملے خاموشی اختیار کرتے ہیں خصوصاً جب لبنان کے معاملے پر بات ہو رہی ہو۔
لبنان سے جڑے معاملات کی زیادہ تر قیادت مارکو روبیو کرتے رہے ہیں جس کے نتیجے میں پچھلے ہفتے ایک ابتدائی فریم ورک معاہدہ بھی طے پایا۔
’ایران کا معاملہ وینس اور لبنان کا ایشو روبیو کے سپرد‘
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے وابستہ سابق امریکی معاون وزیر خارجہ اور پولینڈ میں سفیر رہنے والے ڈین فریڈ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ’اختلاف کی باتیں محض بے بنیاد نہیں ہیں ان میں یقیناً کچھ نہ کچھ حقیقت موجود ہے۔‘
تاہم دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے دونوں کے درمیان اختلافات کی خبروں کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کا کہنا ہے کہ ’روایتی میڈیا آخر مارکو روبیو اور جے ڈی وینس کے درمیان ایسا اختلاف پیدا کرنے پر کیوں تلا ہوا ہے جو حقیقت میں ہے ہی نہیں، صرف ایک ہی کیمپ ہے اور وہ ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پوری انتظامیہ صدر کی اس کوشش کی حمایت کرتی ہے کہ ایران کسی بھی طور جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

شیئر: