Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کے لیے فوجی سپورٹ میں یمن پر حملے شامل نہیں ہوں گے: مصری صدر

قاہرہ کسی دوسرے عرب ملک کے دفاع میں مدد کے لیے بھی تیار ہوگا۔( فائل فوٹو: اے ایف پی)
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے بدھ کو کہا ہے کہ ’مصر کی جانب سے سعودی عرب کو فراہم کی جانے والی کوئی بھی فوجی سپورٹ صرف مملکت کے دفاع تک محدود ہوگی۔ اس میں یمن پر حملے شامل نہیں ہوں گے۔‘
العربیہ اور عرب نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھا ’سعودی عرب کے دفاع کے لیے مصر کی عسکری کوششیں صرف مملکت اور اس کی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہیں۔ کسی بھی صورت میں یمن پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہوں گی۔
انہوں نے واضح کیا ’اگر درخواست کی جائے تو قاہرہ کسی دوسرے عرب ملک کے دفاع میں مدد کے لیے بھی تیار ہوگا۔‘
بدھ کو مصر فورم 2026 کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا ’عرب قومی سلامتی ناقابل تقسیم ہے اور خلیجی ممالک کا استحکام مصر کی قومی سلامتی سے براہ راست منسلک ہے۔‘
مصری صدر کا کہنا تھا ’خلیجی ممالک کے ساتھ کھڑا ہونا عرب دنیا کی مشترکہ قومی سلامتی کے تصور کا فطری حصہ ہے۔‘ 
’مصر کی کوئی بھی فوجی کارروائی اپنی سرحدوں یا برادر ممالک کی حدود سے آگے نہیں بڑھیں گی جن کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے قاہرہ پرعزم ہے۔‘
یاد رہے مصری پارلیمنٹ نے صدر السیسی کو سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوج بھیجنے کی اجازت دینے سے متعلق ہونے والی ووٹنگ پیر تک موخر کر دی ہے۔ پارلیمنٹ نے اس معاملے پر اتوار اورپیر کو دو اجلاس منعقد کیے تھے۔
 مصرکی نیشنل ڈیفنس کونسل نے سعودی عرب کے امن، استحکام اور علاقائی سالمیت و مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے مملکت کو تمام ممکنہ اور ضروری تعاون فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
 صدر عبدالفتاح السیسی نے سنیچر کو کہا تھا کہ انہوں نے مصری پارلیمنٹ کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے تاکہ اگر سعودی عرب کی جانب سے درخواست کی جائے تو انہیں دفاعی اقدامات کا اختیار مل سکے۔
 ’سعودی عرب نے درخواست کی تو مصر، مملکت کے تحفظ  اور دفاع کے لیے تمام ضرروری اقدامات کرے گا۔ سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملے عرب اور مصری قومی سلامتی کو بھی سبوتاژ کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مصر کی جانب سے مملکت کی سلامتی اور استحکام کو درپیش کسی بھی خطرے کو مسترد کیا۔

 

شیئر: