Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جدہ کی تعمیری شناخت: تاریخ اور عصری تقاضوں کا حسین امتزاج

تعمیرات کے لیے مقرر کیے گئے رہنما ضوابط کی پابندی ضروری ہے(فوٹو، ایس پی اے)
جدہ میونسپلٹی میں شعبہ سعودی آرکیٹیکچر کی سربراہ رزان عبدالرزاق باغانم کا کہنا ہے کہ ساحلی حجازی تعمیرات کے لیے رہنما ضوابط جدہ کی مقامی معماری شناخت کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے رزان باغانم نے مزید کہا کہ تعمیراتی شناخت کے لیے مقرر کیے گئے رہنما ضوابط کی پابندی تمام تعمیراتی منصوبوں کے لیے ضروری ہے، تاکہ عمارتوں کے بیرونی ڈیزائن کا معیار بہتر اور شہری خوبصورتی میں اہم آہنگی پیدا ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ ضوابط کا مقصد روایتی عناصر کی محض نقل نہیں، بلکہ ان کی معماری خصوصیات کوسمجھتے ہوئے اپنے انداز سے جدت پیدا کی جائے، جو حجازی ورثے کا حصہ ہیں۔
تعمیرات کی اصلی شناخت اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب یہ عناصر مل کر ایسی عمارتیں تشکیل دیں جو اپنے ماحول سے ہم آہنگ ہوں اور ماضی کے نقوش و شناخت کے ساتھ ساتھ جدید عصری تقاضوں کو بھی پورا کریں۔

 قدیم تعمیرات میں سمندری راستے سے آنے والے حجاج کا بھی گہرا تعلق ہے (فوٹو، ایس پی اے)

جدہ کی قدیم تاریخی عمارتوں میں اس شہر کی تجارتی سرگرمیوں اور سمندر کے راستے آنے والے حجاج کا بھی گہرا اثر ہے۔
یونیسکو کے مطابق ان عوامل نے جدہ شہر کو ایک کثیر الثقافتی مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جہاں مقامی تعمیراتی روایات تجارتی راستوں کے ذریعے آنے والے مختلف اثرات سے ہم آہنگ ہوئیں۔
جدید محلوں میں بنگلے، رہائشی کمپاؤنڈز، تجارتی اور سروسز کے مقامات ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں۔
اسی طرح پیدل چلنے والے راستے، تفریحی مقامات اور ساحل پر بنے واک ویز شہر کے انسانی پہلو کو نمایاں کرتے ہیں اور لوگوں کو باہمی میل جول کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

  روایتی عناصر کی محض نقل نہیں بلکہ ورثے کو برقرار رکھتے ہوئے جدت پیدا کی جائے(فوٹو، ایس پی اے)

شہرِ جدہ کی معماری شناخت صرف عمارتوں کی ظاہر شکل یا طرز تک محدود نہیں، بلکہ انسان، عمارت، گلی ، گوچے ، محلے اور ساحل کے باہمی تعلق سے تشکیل پاتی ہے۔
جدید تعمیرات میں بھی یہی کوشش ہے کہ شہر کا تاریخی ورثہ برقرار رکھتے ہوئے ایسی معماری تشکیل دی جائے جو مقامی ماحول سے ہم آہنگ اور انسانی ضروریات کے مطابق ہو۔

شیئر: