لکڑی کے شاندار دروازے کیسے سعودی عرب کی تعمیراتی روح کی کہانی سناتے ہیں؟
لکڑی کے شاندار دروازوں سے سعودی عرب کی شناخت جھلکتی تھی (فوٹو: ایس پی اے)
جدید ایئر کنڈیشننگ اور الیکٹرونک سکیورٹی سسٹمز سے بہت پہلے، سعودی عرب کی شناخت یہاں کے مرکزی دروازوں سے جھلکتی تھی۔
عرب نیوز کے مطابق صحرائی ہواؤں اور ساحلی نمی کا مقابلہ کرنے والے یہ لکڑی کے بھاری بھرکم دروازے اس بات کا ثبوت ہیں کہ قدیم معماروں نے حفاظت، سخت موسم اور مقامی وسائل کا استعمال کس مہارت سے کیا۔
تاريخی شمالی گاؤں لینہ میں واقع شاہ عبدالعزیز تاریخی محل کا مرکزی دروازہ طاقت اور فن کا بہترین نمونہ ہے۔ 1935 سے 1936 کے درمیان مٹی، پتھر، جھاؤ کی لکڑی اور کھجور کے پتوں سے تعمیر کیے گئے اس قلعے کے جنوبی حصے میں ایک بہت بڑا لکڑی کا مرکزی دروازہ اور ساتھ ہی ایک چھوٹا خفیہ دروازہ بنایا گیا تھا جو اس دور کا خاص دفاعی انداز تھا۔
یہ بڑا دروازہ مقصد اور اختیار کی علامت تھا کیونکہ یہ محل صرف ایک شاہی رہائش گاہ نہیں بلکہ علاقے کا انتظامی مرکز بھی تھا جس میں دیوان خانے، رہائشی کمرے، مسجد، کنویں، اصطبل، مرکزی صحن اور نگرانی کے برج شامل تھے۔
چونکہ لینہ گاؤں عراق کو مکہ سے ملانے والے تاریخی راستے درب زبیدہ پر واقع تھا، اس لیے اس کے دروازے تجارتی قافلوں کے استقبال کے ساتھ ساتھ بہترین تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔ موٹی مٹی کی دیواریں گرمی سے بچاتی تھیں جبکہ لکڑی کے مضبوط قفل اور تیر اندازی کے لیے بنائے گئے تنگ سوراخ بیرونی خطرات کو روکے رکھتے تھے۔
مقامی وسائل کا یہی بہترین استعمال پورے سعودی عرب میں الگ الگ طریقوں سے نظر آتا ہے۔

بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع جدہ تاریخیہ کا 300 سال پرانا معماری ورثہ بلند و بالا لکڑی کے دروازوں اور نقش و نگار سے سجائے گئے ’رواشین‘ (لکڑی کی جالی دار کھڑکیوں) کی صورت میں سامنے آتا ہے جو اندرونی ہالوں کو ٹھنڈا رکھنے کا کام کرتے تھے۔
ساحلی ماہر ترکھانوں نے 13 مختلف اقسام کی لکڑیاں استعمال کیں جن میں سخت جان مینگروو اور مقامی دوم پام شامل تھے۔ لکڑی کو سوراخ دار مرجانی پتھروں کے ساتھ جوڑ کر انہوں نے ہاتھ سے ایسے دروازے تراشے جو سمندری نمکین ہوا کا مقابلہ کر سکتے تھے اور ساتھ ہی ہلکے اور ہوا دار بھی رہتے تھے۔
مزید جنوب میں طائف، الباحہ اور عسیر کے پہاڑی علاقوں میں پتھر کے قلعے اور مٹی کے اونچے برج نظر آتے ہیں جہاں لکڑی کے بھاری دروازے اناج کے گوداموں اور خاندانی قلعوں کو محفوظ بناتے تھے۔

بیشہ اور تثلیث جیسے علاقوں میں، پہاڑی ڈھلوانوں پر قائم غلے کے گوداموں اور قلعہ نما خاندانی مکانات کی حفاظت کے لیے لکڑی کے بھاری دروازے تیار کیے جاتے تھے۔
نجد کے بنجرعلاقے میں دھوپ میں سکھائی گئی مٹی کی اینٹوں کی گرم مٹیالی رنگت غالب نظر آتی ہے۔
درعیہ کی تاریخی گلیوں سے لے کر قصیم، زلفی اور حائل تک، نجد کے دروازے اپنے نمایاں نقش و نگار اور رواشین رنگین نمونوں کی وجہ سے مشہور ہیں جو کھجور کی لکڑی کے سادہ تختوں کو مہمان نوازی کی ایک دلکش اور زبردست تصویر میں بدل دیتے ہیں۔

مشرق کے سرسبز علاقے الاحساء میں اونچی اور خوبصورت محرابیں پسند کی جاتی تھیں جبکہ شمال مغربی اوئیسس جیسے تیماء، خیبر اور العلا میں کھجور کے باغات کے لیے مضبوط دروازے تیار کیے جاتے تھے۔
اگرچہ ان تمام علاقوں کا طرزِ تعمیر ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھا لیکن سعودی عرب کا ہر تاریخی دروازہ انسان کی اسی حکمت کی کہانی سناتا ہے جس کا مقصد اندر کی دنیا کو محفوظ رکھنا اور باہر کی دنیا کا گرمجوشی سے استقبال کرنا تھا۔
