’گاؤں کی آنکھ‘: عسیر کے واچ ٹاورز تعمیراتی اور سماجی ورثے کا حصہ
عسیر ریجن کے قدیم دیہات میں گھروں اور کھیتوں کے درمیان بلند و بالا قصبات (واچ ٹاورز) آج بھی اس طرزِ تعمیر کی گواہی دیتے ہیں جو مقامی آبادی کے تحفظ اور روزمرہ کی زندگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق قصبات کو ان کی ساخت اور مقصد کے مطابق راستوں اور دیہات کے داخلی مقامات کی نگرانی، اناج اور اشیائے خورونوش کو محفوظ رکھنے سمیت مختلف کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یوں یہ خطے کی تعمیراتی اور سماجی ورثے کا حصہ بن گئے۔
یہ قصبات ریجن کے دیہات میں رائج قدیم تعمیراتی طرز میں سے ایک ہیں۔ ان کی بعض مثالیں بلند اور گول ٹاورز کی طرز میں دکھائی دیتی ہیں۔ ان میں اناج ذخیرہ کرنے کے لیے بنائی گئے قصبات بھی شامل ہیں جن کی ساخت مقامی ماحول اور تعمیر کے مقصد کے مطابق مختلف ہوتی تھی۔
بعض قصبات اناج کو محفوظ رکھنے کے لیے مخصوص ہوتے تھے تاکہ ضرورت پڑنے پر اہل علاقہ ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ بعض دیہات میں انہیں ’قصبہ الجاعت‘ یا ’قصبہ العشیرہ‘ کہا جاتا تھا جہاں گاؤں کے لوگ اپنی فصلوں کا ایک حصہ مشترکہ طور پر جمع کرتے تھے۔ مشکل حالات میں انہیں استعمال کیا جاتا تھا۔
قصبات کی تعمیر میں مقامی طور پر دستیاب مواد، بالخصوص پتھر، مٹی اور لکڑی استعمال کی جاتی تھی۔ عسیر ریجن کے قدیم طرزِ تعمیر میں موٹی دیواریں، چھوٹے داخلی دروازے اور بلند تعمیرات حفاظتی و ذخیرہ اندوزی کے مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جاتی تھیں جبکہ قدرتی ماحول اور موسمی حالات کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔

موجودہ دور میں ’قصبہ‘ محض ایک قدیم برج نہیں بلکہ عسیر کی سماجی اور تعمیراتی تاریخ کا پتھر و مٹی میں محفوظ ماضی کا ایک باب ہے۔
یہ اس طرزِ زندگی کی یادگار ہے جو باہمی تعاون، پیشگی تیاری اور سخت مقامی حالات کا مقابلہ کرنے پر قائم تھا۔ قدیم دیہات میں آج بھی قائم قصبات مقامی تعمیراتی ثقافت اور اس دور کے انسان کی فنی مہارت کی گواہ ہے جس نے پتھر اور مٹی سے اپنے گاؤں کی حفاظت کرنے والی آنکھ اور لوگوں کے لیے خوراک کو محفوظ کرنے والا اناج گھر تعمیر کیا تھا۔
