Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایپل کے فولڈ ہونے والے پہلے فون ’آئی فون ڈیو‘ کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

ایپل کا پہلا فولڈ ہونے والا فون ’آئی فون ڈیو‘فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
ایپل کا پہلا فولڈ ہونے والا فون ’آئی فون ڈیو‘ جمعے کو دنیا بھر کی مارکیٹوں میں فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا۔ اِس کی قیمت تقریباً 2,000 ڈالر رکھی گئی ہے، تاہم اِس کی آمد پر وہ جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا جو ماضی میں آئی فون کے نئے ماڈلز کی فروخت کے آغاز پر دکھائی دیتا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق سنگاپور اور شنگھائی سے لے کر لندن اور سان فرانسسکو تک اِس فون کی طلب خاصی زیادہ رہی، لیکن فروخت محدود رکھنے کے باعث ایپل سٹورز کے باہر سڑکوں تک پھیلی طویل قطاریں اور رات بھر دکانوں کے باہر ڈیرے ڈالنے کے وہ مناظر کم دکھائی دیے جو کبھی نئے آئی فون کی فروخت کے آغاز کی پہچان ہوا کرتے تھے۔
سام سنگ الیکٹرانکس اور ہواوے ٹیکنالوجیز جیسی حریف کمپنیاں کئی برس سے مہنگے فولڈ ہونے والے فون فروخت کر رہی ہیں۔ آئی فون ڈیو کی کامیابی سے یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ آیا ایپل فولڈ ہونے والے موبائل فونز کی محدود مارکیٹ میں بھی اُسی طرح نئی جان ڈال سکتی ہے جس طرح آئی فون نے سمارٹ فونز کی دنیا کو بدل کر رکھ دیا تھا۔
یہ فون ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) جان ٹرنَس کے لیے بھی ایک ابتدائی امتحان ہے۔ ہارڈویئر کے سابق سربراہ جان ٹرنَس نے ستمبر میں عہدہ سنبھالنے کے بمشکل ایک ہفتے بعد اِس فون کی رونمائی کی تھی۔
ایک ہفتہ قبل فون کی پیشگی بکنگ شروع ہونے کے چند ہی منٹ بعد ایپل کی جانب سے بتائی جانے والی متوقع ترسیل کی تاریخیں جنوری کے آخر تک جا پہنچی تھیں، کیونکہ طلب رسد سے بڑھ گئی تھی۔ امریکی کمپنی نے صارفین کے ردِعمل کو ’غیر معمولی سے بھی بڑھ کر‘ قرار دیا۔
ایپل نے ہر صارف کے لیے پیشگی بکنگ کی حد دو فون مقرر کی اور فروخت کو اُن صارفین تک محدود رکھا جو خود دکان پر آ کر فون خریدنا چاہتے تھے۔ چین، فرانس، ہانگ کانگ، انڈیا اور جاپان میں یہ فون صرف اُن لوگوں کو دستیاب تھے جنہوں نے پہلے ہی آن لائن آرڈر دے رکھا تھا۔
سڈنی میں ایپل کے پہلے سٹور پر جمعے کو پاسپورٹ جیسی شکل رکھنے والے اِن نئے فونز کی فروخت شروع ہوئی۔ مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے سٹور کھلنے سے پہلے ہی باہر قطار لگ گئی تھی۔
48 سالہ انجینئر سائمن کرشنن نے 512 جی بی سٹوریج والا آئی فون ڈیو3,899 آسٹریلوی ڈالر، یعنی 2,734 امریکی ڈالر میں خریدا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’میرے لیے یہ کچھ حد تک ایک پرتعیش چیز ہے، کیوں کہ یہ بہت مہنگا ہے، لیکن میں نے سوچا کہ زندگی بہت مختصر ہے، اس لیے کیوں نہ خرید ہی لیا جائے۔‘

چین، فرانس، ہانگ کانگ، انڈیا اور جاپان میں یہ فون صرف اُن لوگوں کو دستیاب تھے جنہوں نے پہلے ہی آن لائن آرڈر دے رکھا تھا (فوٹو: روئٹرز)

سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹس کے مطابق نیویارک میں ایپل کے ففتھ ایونیو سٹور کے دروازے کمپنی کے سربراہِ مارکیٹنگ گریگ جوزویاک نے صارفین کے ہجوم کے لیے کھولے۔ بعض پوسٹس میں بتایا گیا کہ کچھ لوگ مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بجے سٹور کے باہر ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔
چین میں صارفین کی کمزور ہوتی ہوئی قوتِ خرید اور میموری چِپس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث سمارٹ فونز کی ترسیل میں مسلسل چھ سہ ماہیوں سے کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم، ایپل کی مارکیٹ میں پوزیشن دوبارہ بہتر ہوئی ہے، کیوں کہ بعض صارفین نسبتاً مہنگے اور اعلیٰ معیار کے فونز خریدنے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
26 سالہ طبی شعبے کے ملازم لیو وے کے پاس پہلے ہی شیاؤمی کا فولڈ ہونے والا فون موجود ہے، لیکن اِس کے باوجود وہ ایپل کا پہلا فولڈ ہونے والا فون خریدنے کے لیے شنگھائی میں ایک سٹور کے باہر صبح 6 بجے سے قطار میں کھڑے ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں کئی برس سے ایپل کی مصنوعات استعمال کر رہا ہوں اور مجھے اِس برانڈ پر زیادہ بھروسا ہے، اِس لیے میں نے اِسے آزمانے کے لیے فروخت کے پہلے ہی دن خرید لیا۔‘

سنگاپور اور شنگھائی سے لے کر لندن اور سان فرانسسکو تک اِس فون کی طلب خاصی زیادہ رہی (فوٹو: روئٹرز)

قطار میں کھڑے بہت سے لوگ اپنے پہلے سے بک کرائے گئے فون وصول کرنے آئے تھے، جب کہ بعض کو امید تھی کہ محدود تعداد میں دستیاب فونز میں سے انہیں بھی کوئی مل جائے گا۔ کچھ لوگ سٹور میں رکھے نمونہ فونز دیکھنے کے لیے بھی آئے تھے۔
ملے جلے تبصرے
ابتدائی جائزوں میں آئی فون ڈیو کے ڈیزائن کے ساتھ ساتھ اِس کے مضبوط اور تقریباً نظروں سے اوجھل قبضے کو بھی سراہا گیا ہے۔ فولڈ ہونے والے فونز کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے، کیوں کہ اُن کی سکرین پر پڑنے والی نمایاں شکن طویل عرصے سے اِن کی خامیوں میں شمار ہوتی رہی ہے اور ممکنہ خریداروں کو اِنہیں خریدنے سے روکنے کی ایک وجہ بھی رہی ہے۔
تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ کیمرے کے حوالے سے بعض سمجھوتے، جن میں دور کی چیزوں کی تصویر لینے کے لیے ٹیلی فوٹو لینس کی عدم موجودگی بھی شامل ہے، کچھ خریداروں کو مایوس کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بیرونی کمپنیوں کی تیار کردہ بعض ایپس کو سکرین کے نئے سائز کے مطابق ڈھالنے کا کام بھی ابھی باقی ہے۔

چین میں ایپل کی سمارٹ فونز کی مارکیٹ میں پوزیشن دوبارہ بہتر ہوئی ہے (فوٹو: روئٹرز)

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ فون کو فولڈ کرنے کے بعد اِس کا استعمال روزمرہ کے اُن فوری کاموں کے لیے کم سہل ہو جاتا ہے جو زیادہ تر صارفین انجام دیتے ہیں۔ کئی معروف ٹیکنالوجی مبصرین نے ایپل کے بہت سے صارفین کو یہ فون نہ خریدنے کا مشورہ بھی دیا۔
برلن میں یوٹیوب کے لیے مواد تیار کرنے والے پیٹرک وولٹر اس بات سے متاثر ہوئے کہ آئی فون ڈیو ایک ہی ڈیوائس میں فون اور آئی پیڈ دونوں کا کام کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے ہمیشہ الگ ٹیبلٹ ساتھ لے کر گھومنا زحمت کا کام لگتا رہا ہے، خاص طور پر اِس لیے کہ میرے پاس پہلے ہی ایک لیپ ٹاپ اور دوسرے آلات موجود ہیں۔ طویل مدت میں غالب امکان ہے کہ یہ فون اِن دیگر آلات کی جگہ لے لے گا۔‘
خریدنا مشکل
مارکیٹ ریسرچ ادارے آئی ڈی سی کے نائب صدر فرانسسکو جیرونیمو کے مطابق، فولڈ ہونے والے فونز کی نسبتاً محدود مارکیٹ میں ایپل کی آمد اِس ٹیکنالوجی کو کہیں زیادہ وسیع صارفین تک پہنچا سکتی ہے۔

فولڈ ہونے والے فونز کی نسبتاً محدود مارکیٹ میں ایپل کی آمد اِس ٹیکنالوجی کو کہیں زیادہ وسیع صارفین تک پہنچا سکتی ہے (فوٹو: روئٹرز)

آئی ڈی سی کو توقع ہے کہ سال 2026 میں فولڈ ہونے والے فونز کی مارکیٹ کی مجموعی مالیت میں ایپل کا حصہ 44 فیصد ہوگا، جب کہ فروخت ہونے والے فونز کی تعداد کے لحاظ سے اس کا حصہ 31 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ ادارے کی پیش گوئی کے مطابق، سال 2027 تک ایپل مارکیٹ کی مالیت اور فروخت ہونے والے فونز کی تعداد دونوں اعتبار سے سرفہرست کمپنی بن جائے گی۔

شیئر: