Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آئی فون ڈیو کی پری آرڈرز میں بدنظمی، ایپل کا ایک فیصلہ صارفین کے لیے مہنگا پڑ گیا

رپورٹ کے مطابق، ایپل کو پہلے ہی معلوم تھا کہ آئی فون ڈیو کا سٹاک انتہائی محدود ہوگا۔(فوٹو:اے ایف پی)
ایپل کے نئے فولڈ ایبل فون ’آئی فون ڈیو‘ کی پری آرڈرز شروع ہونے کے چند منٹ بعد ہی ترسیل کی تاریخ جنوری کے آخر تک جا پہنچی، حالانکہ فون کی فروخت کا آغاز 23 اکتوبر سے ہونا ہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق، ایپل کو پہلے ہی معلوم تھا کہ آئی فون ڈیو کا سٹاک انتہائی محدود ہوگا، لیکن اس کے باوجود کمپنی نے اسے بیک وقت 70 سے زائد ممالک میں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم کمپنی کو امید ہے کہ فون کی محدود دستیابی سے ’آئی فون 18 پرو‘ سیریز کی فروخت بڑھ سکتی ہے۔
ایپل سٹور ایپ پر پری آرڈرز امریکی بحرالکاہل کے معیاری وقت کے مطابق صبح پانچ بجے کے چند منٹ بعد شروع ہوئیں اور صبح پانچ بج کر دو منٹ تک فون کی تقریباً تمام اقسام کی ترسیل کی متوقع تاریخ نومبر کے آغاز تک پہنچ چکی تھی۔
اس کے بعد ترسیل کی تاریخیں بتدریج نومبر کے وسط، نومبر کے آخر، دسمبر اور پھر جنوری کے آخر تک جا پہنچیں۔ نتیجتاً، ابتدائی چند منٹوں میں فون آرڈر نہ کر پانے والے صارفین کو اس کی فراہمی کے لیے تین ماہ سے زیادہ انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایپل کا ابتدائی منصوبہ تھا کہ آئی فون ڈیو کو پہلے امریکا اور چین میں متعارف کرایا جائے، لیکن بعد میں کمپنی نے پہلے ہی دن 70 سے زیادہ ممالک میں اس کی فروخت شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس سے محدود سٹاک کو زیادہ مارکیٹوں میں تقسیم کرنا پڑا اور فون کی دستیابی متاثر ہوئی۔ سپلائی کے سنگین مسائل کا علم ہونے کے باوجود ایپل نے اپنی مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے آغاز میں فون متعارف کرانے کو ترجیح دی۔
ایپل کو امید ہے کہ جو صارفین لانچ کے دن آئی فون ڈیو حاصل نہیں کر پائیں گے یا اسے خریدنے کے لیے ایپل سٹور جانے کے باوجود خالی ہاتھ لوٹیں گے، وہ بالآخر تقریباً نصف قیمت پر آئی فون 18 پرو یا پرو میکس خریدنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔
اس صورت میں کمپنی کی پرو سیریز کی فروخت بڑھ سکتی ہے، تاہم اس ممکنہ فائدے سے آئی فون ڈیو کی لانچ کے دوران پیدا ہونے والی بدنظمی کا جواز فراہم نہیں ہوتا۔

آئی فون 18 پرو اور پرو میکس کی پری آرڈرز کو غیر متاثر کن قرار دیا گیا تھا۔(فوٹو:اے ایف پی)

جاپانی خبر رساں ادارے نکی ایشیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، آئی فون 18 پرو کی کمزور طلب کے باعث ایپل نے اکتوبر میں اس فون کے لیے درکار پرزوں کے آرڈرز میں کم از کم 15 فیصد کمی کردی تھی۔
تجزیہ کار جیف پو کی ایک رپورٹ میں بھی آئی فون 18 پرو اور پرو میکس کی پری آرڈرز کو غیر متاثر کن قرار دیا گیا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی کہ متعدد ممکنہ خریداروں نے آئی فون ڈیو کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس کے برعکس، سام سنگ کے ’گلیکسی زیڈ فولڈ 8‘ کی فروخت کے آغاز پر صورت حال مختلف رہی۔ ایک رپورٹ کے مطابق، جولائی کے آخر میں فروخت شروع ہوتے ہی اس فون کا سٹاک ختم ہوگیا تھا، جبکہ مقبول رنگوں کی ترسیل کی تاریخ 21 اگست تک پہنچ گئی تھی۔ یوں خریداروں کو تقریباً دو ہفتے انتظار کرنا پڑا، نہ کہ تین ماہ۔

پری آرڈرز شروع ہونے کے ابتدائی چند منٹوں کے بعد فون آرڈر کرنے والے صارفین کو غالباً جنوری کے آخر کی تاریخ ملی ہے۔(فوٹو:اے ایف پی)

گلیکسی زیڈ فولڈ 8 یا ’گوگل پکسل 11 پرو فولڈ‘ خریدنے کے خواہش مند صارفین کے لیے ایپل کی اس صورت حال سے فی الحال کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، کیونکہ دونوں فون خریداری کے لیے دستیاب ہیں۔
تاہم، آئی فون ڈیو کی محدود دستیابی ایپل کے لیے آئی فون 18 پرو سیریز کی فروخت بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اس صورت حال میں سب سے زیادہ متاثر وہ صارفین ہوسکتے ہیں جو نئی ٹیکنالوجی سب سے پہلے استعمال کرنا چاہتے ہیں اور پہلی نسل کے اس فون پر 1999 ڈالر خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
جن صارفین کو فون جنوری کے آخر میں ملے گا، وہ اس وقت تک آئی فون ڈیو 2 کی افواہوں میں بیان کردہ ممکنہ لانچ کے وقت کے بھی خاصے قریب پہنچ چکے ہوں گے۔
پری آرڈرز شروع ہونے کے ابتدائی چند منٹوں کے بعد فون آرڈر کرنے والے صارفین کو غالباً جنوری کے آخر کی تاریخ ملی ہے۔ تاہم، لانچ کے دن براہ راست ایپل سٹور جاکر فون خریدنے کے خواہش مندوں کے لیے سٹاک کی دستیابی غیر یقینی ہے۔

بلوم برگ کی رپورٹ میں مضمون نگار نے بتایا کہ انہوں نے بھی ایپل سے آئی فون ڈیو پری آرڈر کیا تھا۔(فوٹو:اے ایف پی)

بلوم برگ کی رپورٹ میں مضمون نگار مارک گورمین نے بتایا کہ انہوں نے بھی ایپل سے آئی فون ڈیو پری آرڈر کیا تھا، لیکن انہیں فون کی ترسیل کے لیے 16 سے 23 نومبر کی تاریخ دی گئی۔
اس کے باوجود وہ اپنا آرڈر منسوخ کرکے آئی فون 18 پرو خریدنے کے بجائے انتظار کرنے اور اپنے موجودہ ’آئی فون ایئر‘ کو استعمال کرتے رہنے کو ترجیح دیں گے۔
رپورٹ کے مطابق، اگر ایپل نے اپنے ابتدائی منصوبے کے تحت فون کو پہلے امریکا اور چین میں متعارف کرایا ہوتا تو ان دونوں مارکیٹوں میں ترسیل کی تاریخیں شاید زیادہ مناسب رہتیں۔
رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ کمپنی سپلائی کے مسائل حل کرے گی اور آئی فون ڈیو 2 کی لانچ کی منصوبہ بندی کرتے وقت موجودہ تجربے سے سبق سیکھے گی۔

شیئر: