Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آہ !شبنم شکیل:”کیوں دیر لگاتی ہو سکھیو ، جلدی سے مجھے تیار کرو “

شبنم کی شاعری،قاری انکے لفظوں کو نہیں پڑھتا بلکہ لفظ قاری سے کلام کرتے ہیں
شہزاد اعظم۔جدہ
نافہ¿ آہو پر ذرا غور کیجئے،یہ ہرن کے بطن کی وہ ساخت ہے جہاں انتہائی قیمتی خوشبو پیدا ہوتی ہے جسے مشک کہا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں کہاوت عام ہے کہ یہ 70پردوں میں بھی چھپی ہو تو اپنے وجود کا پتہ دیتی ہے۔مشک سے فضائیں معطر ہو جاتی ہیں اور ہر ذی نفس اس کی عطر بیزی سے مسحور ہوجاتا ہے اور واہ واہ کرتا ہے مگراسے یہ خیال نہیں آتا کہ جس مشک نے اسے اپنے سحر میں گرفتارکیا ہے اس کی تخلیق کا تمام کرب اس بے زبان معصوم نے برداشت کیا ہے جسے ”آہو“ کہا جاتا ہے۔کاش اس آہو کی آہ سننے والے اس کی زبان کو بھی سمجھ سکتے مگرایسا کہاں ممکن ہے ۔
دنیائے ریختہ میں زیادہ تر شاعری کا سبب بھی وہی ہے جس کے وجود سے کائنات رنگین ہے۔ تقریباً سبھی شعرائے کرام نے صنف نازک کی زلف و لب و رخسار،گفتار و اطوار،ادا ، صدا، ناز، انداز،نزاکت اورقامت کواپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے مشک کی عطر بیزی سے مسحور ہو کر کوئی ذی نفس واہ واہ کرتا ہے مگر جب وہی باعثِ شاعری خود اشعار کہنے لگے تومحسوس ہوتا ہے کہ ”آہو کی آہ“ بلند ہو رہی ہے، جو اس کے وجود سے تخلیق پانے والی مشک سے مسحور ہونے والے مرد کو یہ احساس دلانا چاہتی ہے کہ کبھی اُس ”آہو“ کی بھی قدر کر جو تیرے لئے یہ مشک تخلیق کرتی ہے۔اُس ”آہ“ کو بھی دل و جاں پر گزار کر دیکھ جو تیری دنیا کی فضاﺅں کو معطر کر دیتی ہے ۔ عورت صدیوں سے اعتماد، بھرم، وفا، اپنائیت، عزت، احترام، محبت اورچاہت کے زیر عنوان مرد سے اپنی اہمیت منوانے کے لئے جتن کر رہی ہے مگر مردکا صدیوں سے یہی وتیرہ ہے کہ جب تک عورت اس کی ذمہ داریوں کا حصہ نہ بن جائے، وہ” باعثِ غزل“بنی رہتی ہے مگر جیسے ہی وہ اس کے آنگن میں قدم رکھتی ہے تواُسے یہ ”غزل بے بحر “محسوس ہونے لگتی ہے۔
اُدھر عورت ہے جو مرد کے ”مکان“ کو ”گھر“ میں بدل دیتی ہے۔ اپنی محبت، پیار اور وفا سے صحنِ گلشن میں پھول کھلاتی ہے اور شریکِ حیات سے بے لوث محبت کی شکل میں اپنی اس ”قربانی“ کا صلہ چاہتی ہے مگر جب وہ دیکھتی ہے کہ اس کا ”محبوب شوہر“محفلوں کی شمع پر تو ”پروانہ وار“ قربان ہونے کے لئے تیار رہتا ہے مگر ”چراغِ خانہ“کی روشنی سے اس کی آنکھیں چندھیانے لگتی ہیں۔ وہ اس پر فدا ہونے کو ”شوہرانہ آن بان“ کے خلاف سمجھتا ہے تو اس نازک صنف کے احساس کا آئینہ چکنا چور ہوجاتا ہے اور وہ اپنی باقی ماندہ زندگی اپنے ہمراہی سے یہی استدعا کرتے گزار دیتی ہے کہ:
تری شاعری کا سبب تھی میں، مجھے یوں نہ دل سے نکال دے
مجھے یاد کر ، ہوں غزل تری، مجھے گنگنا کے اُجال دے
ان تمام تر نسوانی احساسات ، جذبات، خیالات اورتصورات سے معمور ایک شاعرہ شبنم شکیل تھیں جوگزشتہ ہفتے ساکنانِ جہانِ ادب کو داغِ مفارقت دے گئیں۔ وہ 12مارچ1942ءکولاہور میں غیر منقسم ہندوستان کے عظیم شاعر، نقاد اور دانشور سید عابد علی عابد کے ہاں پیدا ہوئیں۔ انہیںشعر و شاعری کا شغف اپنے والدسے ورثے میں ملا تھاچنانچہ شاعرانہ تخیلات بھی ان کی میراث تھے۔ ان کے گھر کا ماحول بھی ادبی تھاجس نے ان کے ذہن کو سیراب کیا اور وہ بھی اپنے والدِ ماجد کی طرح اعلیٰ پائے کی نقاد، دانشور، نثّار اور شاعرہ بن گئیں۔انہوں نے کم عمری میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا۔ ان کی پہلی تصنیف ”تنقیدی مضامین“1965ءمیں شائع ہوئی تھی۔
شبنم شکیل نے اپنی زندگی کا ابتدائی دور پاکستان کے شہر لاہور میں گزارا۔لاہور کے معروف کنیرڈکالج میں انہوں نے داخلہ لیا اور اسلامیہ کالج سے گریجویشن مکمل کی۔اس کے بعد اورینٹل کالج، لاہور سے اردو ادب میں ماسٹرز کیا۔تعلیمی سلسلہ مکمل کرلینے کے بعد شبنم نے کو ئن میری کالج میںاردو کی پروفیسر کی حیثیت سے تدریس شروع کر دیں۔یوں انہوں نے تعلیمی شعبے میں قدم رکھا جس کے بعد وہ 30 سال تک اسی شعبے میں خدمات انجام دیتی رہیں۔کوئن میری کالج کے بعد ا نہوں نے لاہور کالج فار ویمن، گورنمنٹ گرلز کالج کوئٹہ، فیڈرل گورنمنٹ گرلز کالج F7/2 اسلام آباداور گورنمنٹ گرلز کالج راولپنڈی میں تدریسی سلسلہ جاری رکھا۔
شبنم 1967ءمیں ”شبنم شکیل“ ہوگئیں کیونکہ وہ ایک سرکاری افسر سید شکیل احمد سے رشتہ¿ ازدواج میں منسلک ہو گئی تھیں۔ انہیں ربِ کریم نے2بیٹوںوقار حسنین احمد اورجہانزیب احمد کے علاوہ ایک بیٹی ملاحت سے نوازا۔یہ بھی اک اتفاق ہے کہ صرف 3ماہ قبل ہی شکیل اس دنیا سے گئے اور 3ماہ کے بعد ان کی دلہن بھی رخصت ہوگئیں۔
وقار حسنین نے اپنی والدہ محترمہ کا ذکر کچھ یوں کیا :
”میری والدہ ایک نامی گرامی دنشور تھیں ۔مباحث کے دوران ان کا علم صاف جھلکتا تھا اور وہ دوسروں کو نہایت دیانت دارانہ مشورے دیا کرتی تھیں۔ وہ اخبار شوق سے پڑھتی تھیں اسی لئے وہ ہمارے ساتھ سیاست سے لے کر سائنس تک، ہر موضوع پر سیر حاصل گفتگو کرتی تھیں۔ وہ ملکی سیاسی و سماجی حالات کے تناظر میں بھی خوبصورت شاعری کرتی تھیں۔ اس حوالے سے انہیں خاص ملکہ حاصل تھا۔“
شبنم شکیل نے کُل8کتابیں لکھیں جن میں 4نثر کی اور4شعری مجموعے ہیں۔ ان کی نثری کتب میں ”تنقیدی مضامین، تقریب کچھ تو،نہ قفس نہ آشیانہ ،خواتین کی شاعری اور مشاعرے پر اس کے اثرات“شامل ہیں جبکہ شعری مجموعوں میں”شب زاد، اضطراب، مسافت رائگاں تھی اور حسرت موہانی کا تغزل“ شامل ہیں۔ آخری کتاب یعنی ”حسرت موہانی کا تغزل“ابھی زیر طباعت ہے۔
شاعرہ شبنم شکیل نے متعدد ایوارڈز حاصل کئے جن میں 2004ءکا صدارتی پرائڈ آف پرفارمنس، 1994ءمیں ہمدرد فاﺅنڈیشن کا ایوارڈ آف ریکگنیشن، 1998ءکا بولان ایوارڈ،حکومت بلوچستان کا ایوارڈ برائے نامور خواتین نیز پاکستان کی سماجی و ادبی تنظیموں کی جانب سے دیئے جانے والے متعد دایوارڈزبھی ان کے نام ہوئے۔وہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی تاحیات رکن ہونے کے علاوہ پی ٹی وی سینسر بورڈ چینل 3،پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی اسکالر شپ کمیٹی، لاہور کی پنجاب پبلک لائبریری بورڈنیز ریڈیو پاکستان کی ایوارڈ جیوری، پی ٹی وی سی پروین شاکر ٹرسٹ اینڈ اکیڈمی آف لیٹرز ہجرہ ایوارڈز کی رکن بھی تھیں۔ ان کی شخصیت اور فن پر2 جامعات میں ریسرچ پیپرز بھی لکھے گئے۔لاہور کی معروف جامعہ ”لمس“ نے بی ایس سی آنرز کے کورس میں شبنم شکیل کی شاعری شامل کی ہے۔
اتنی خوابیوں کی مالک شبنم شکیل، اردو ادب کے افق کا ستارہ نہیں بلکہ آسمانِ ریختہ کی کہکشاں تھیں۔ وہ آج اس دنیا میں نہیں رہیں مگر ان کی شاعری تا قیامت حساس دلوں کو متاثر کرتی رہے گی۔
شبنم کی شاعری ایسی ہے گویا صنفِ نازک کے نہاں خانہ¿ دل میں پوشیدہ کسک کو لفظوں کی شکل دے کر قرطاس پر بکھیر دیا گیا ہو۔ ان کا کلام پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے قاری لفظوں کو نہیں پڑھ رہا بلکہ لفظ قاری سے کلام کر رہے ہیں۔
زن و شو کی رفاقت بھی عجیب ہے۔نبھ جائے تو صدیوں کا سفر لمحوں میں بیت جائے، نباہ مشکل ہوجائے تو لمحے صدیوں جیسے طویل ہوجائیں۔بندھن بندھ جائے تو اس قدر عمیق کہ تمام گہرائیاں اس کے سامنے اوچھی لگیں اور یہ بندھن ٹوٹ جائے تو ایسی لاتعلقی کہ غیریت بھی شرمندہ ہوجائے۔یوں بے چاری عورت اپنا آپ ، شریکِ حیات کے سپرد کر دینے کے بعد بھی خائف رہتی ہے کہ نجانے وہ کب اُسے سب کچھ واپس لوٹا دے۔اس غیر یقینی کو شبنم نے ”بے دلیل بسیرے“سے تشبیہ دیتے ہوئے نسوانی احساسات کو کن لفظوں میں ڈھالا، ملاحظہ فرمائیے:
بسے ہوئے تو ہیں لیکن دلیل کوئی  نہیں 
کچھ ایسے شہر ہیں جن کی فصیل کوئی نہیں
کسی سے کسی طرح انصاف مانگنے جاﺅں 
عدالتیں تو بہت ہیں، عدیل کوئی نہیں
سبھی کے ہاتھوں پہ لکھا ہے ان کا نام و نسب 
قبیل دار ہیں سب ،بے قبیل کوئی نہیں
ہے دشتِ غم کا سفر اور مجھے خبر بھی ہے 
کہ راستے میںیہاں سنگِ میل کوئی نہیں
ابھی سے ڈھونڈ کے رکھو نظر میںراہِ سفر 
یہاں ہے پیاس سے مرنا، سبیل کوئی نہیں
مری شناخت الگ ہے،تری شناخت الگ 
یہ زعم دونوں کو، میرا مثیل کوئی نہیں
اس بے مثال قربت کی غیر یقینی اور عورت کی بے چارگی کو شبنم نے کس انداز میں نظم کیا، خود ہی دیکھ لیجئے:
ہر خواب ہمارا تھا فردا کے حوالے سے 
ہر آج مرا گروی ، ہر کل کے حوالے سے 
ہر آج کو میں پیہم داﺅ پہ لگاتی ہوں 
سولی پہ چڑھاتی ہوں 
مٹی مےں ملاتی ہوں 
جو آج میسرہے 
وہ کل کو نہ چِھن جائے 
اس خوف کے ہاتھوں بھی کیا کیا نہ کیا میںنے 
ہر ایک مسرت کو فردا پہ اٹھا رکھا 
فردا کیلئے قتلِ امروز روارکھا 
عورت جیسے جیسے عمر کی منازل طے کرتی جاتی ہے،آئینے سے اس کی دوستی کم ہوتی جاتی ہے کیونکہ وہ اسے ہر روز جمال کے رخصت ہونے کا احساس دلاتا ہے اور یہ باورکراتا ہے کہ اب تو بادِ صبا سے اٹکھیلیاں کرتی کلی نہیں رہی بلکہ حسرتوں کے مزار پر سجا ہوا اک پھول ہے جسے کسی بھی وقت ہوا کاتیز جھونکا اڑا کر لے جا سکتا ہے اورپھر لوگوں کے پیروں تلے کچلے جانا تیرا مقدر ہو سکتا ہے۔اس انجانے خوف سے سہمی یہ ہستی ہر قدم پھونک کر رکھنا شروع کر دیتی ہے ۔اس غیر مرئی خوف کو شبنم نے کس انداز میں واضح کیا، توجہ فرمائیے:
ہم حدِ ماہ و سال سے آگے نہیں گئے 
خوابوں میں بھی خیال سے آگے نہیں گئے 
کچھ وہ بھی التفات مےں ایسا سخی نہ تھا 
کچھ ہم بھی عرضِ حال سے آگے نہیں گئے 
تھیں تو ضرور منزلیں اس سے پرے بھی کچھ 
لیکن ترے خیال سے آگے نہیں گئے 
ہر حد سے ماورا تھی سخاوت میں اس کی ذات 
ہم آخری سوال سے آگے نہیں گئے 
سوچا تھا میرے دکھ کا مداوا کریں گے کچھ 
وہ پُرسشِ ملال سے آگے نہیں گئے 
کچھ خود سری کے فن میں نہ تھے ہم بھی کم مگر 
اس صاحبِ کمال سے آگے نہیں گئے 
کیا ظلم ہے کہ عشق کا دعویٰ انہیں بھی ہے 
جو حدِ اعتدال سے آگے نہیں گئے 
لاہور پیچھے رہ گےا ہم باوفا مگر 
اس شہرِ بے مثال سے آگے نہیں گئے 
عورت کتنی مجبور ہے۔ ماں باپ اس کی پیدائش سے ہی اس فکر میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اسے ہم نے شوہر کے گھر بھیجناہے۔ وہ چاہے بھی تو میکے میں نہیں رہ سکتی۔ اس کے باشعور ہوتے ہی ماں باپ، بہن بھائی سب کے سب اسے سسرال رخصت کرنے کیلئے کوشاں نظر آتے ہیں۔وہ شوہر کے ہاں پہنچ کر اسے اپنی زندگی کی ”آخری ہجرت“سمجھتی ہے اور خود کو سمجھالیتی ہے کہ میں ایسی مسافر ہوں جو واپسی کی تمام کشتیاں جلا کر یہاں آئی ہے۔وہ اپنے ہمسفر کو اپنا بنانے کے لئے سب کچھ نچھاور کر دیتی ہے پھر ایک منزل پر جب اسے شوہرکی بے اعتنائی کا احساس ہوتا ہے تو اسے طرح طرح کے وساوس پریشان کر دیتے ہیں۔اس کے ذہن میں ایسے لا تعداد سوالات جنم لیتے ہیںکہ”اگر ایسا ہوا تو....؟“ان وسوسوں کا کرب شبنم شکیل یوں بیان کرتی ہیں:
خود ہی اپنے درپئے آزار ہو جاتے ہیں ہم 
سوچتے ہیں اس قدر، بےمار ہو جاتے ہیں ہم 
مضطرب ٹھہرے، سوشب مےں دیر سے آتی ہے نیند
صبح سے پہلے مگر بیدار ہو جاتے ہیںہم 
نام کی خواہش ہمیں کرتی ہے سر گرم ِعمل 
اس عمل سے بھی مگر بیزار ہو جاتے ہیں ہم 
عورت کو جب یہ یقین ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی ہستی مٹا دینے کے باوجود شریکِ حیات کے دل میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکی جس کی اسے تمنا تھی تو اس کے اندر اَنا اور خودداری جاگتی ہے اور وہ شوہر سے ناتہ توڑے بغیر اس کی زندگی سے نکل جاتی ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ جو میری رفاقت کا عادی ہو چکا، جب مجھے اپنے ارد گرد نہیں پائے گا تو سیماب پا ہو جائے گا اور مجھے منانے پہنچ جائے گالیکن یہ اس کی خام خیالی ہی ثابت ہوتی ہے۔ یوں وہ کتنی ہی ”صدیاں“اپنی ”انا کی پرورش“ میں گزار دیتی ہے پھر ایک دن اچانک وہ اپنی ”انا“ سے نالاں ہو کرپیا سے ملنے چل پڑتی ہے اور دل ہی دل میں سوچتی ہے کہ میری طرح وہ بھی تڑپا تو ضرور ہوگا، وہ مجھے دیکھ کر حیراں رہ جائے گا مگر اسے یہ خبر نہیں ہوتی کہ مرد تو ایک ایسا شجر سایہ دار ہے جس کی چھاﺅںآباد رہتی ہے،یہاں خواہ کوئی بسیرہ کرنے آیا ہو یا سستانے، اس تلخ حقیقت کو ایک عورت کس طرح جھیلتی ہے،شبنم کے الفاظ میں پیش ہے:
سوکھے ہونٹ سلگتی آنکھیں ، سر سوں جیسا رنگ 
برسوں بعد وہ دیکھ کے مجھ کو رہ جائے گا دنگ
ماضی کا وہ لمحہ مجھ کو آج بھی خون رلائے 
اکھڑی اکھڑی باتیں اس کی ، غےروں جیسے ڈھنگ 
دل کو تو پہلے ہی درد کی دیمک چاٹ گئی تھی 
روح کو بھی اب کھاتا جائے تنہائی کا رنگ 
سب کچھ دے کر ہنس دی اور پھر کہنے لگی تقدیر 
کبھی نہ ہو گی تیرے دل کی پوری ایک امنگ 
کیوں نہ اب اپنی چوڑےوں کو کرچی کرچی کر ڈالوں 
دیکھی آج اِک سندر ناری پیارے پیا کے سنگ 
شبنم کوئی تجھ سے ہارے ، جیت پہ مان نہ کرنا 
جیت وہ ہو گی ، جب جیتوں گی اپنے آپ سے جنگ 
جب کسی مسلمان کو دنیا میں محرومیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اس پر صبرکر لیتا ہے کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ یہ دنیا عارضی مسکن ہے، اصل زندگی تو آخرت کی ہے۔ اسے اس صبر کا اجر آخرت میں ملے گا۔ بے چاری عورت شوہر کی بے وفائیوں اور بے اعتنائیوںکے باعث عدم تشفی کا شکار ہونے کے باوجود صبر کر تی ہے اور ”عالم تشفی“کے لئے رختِ سفر باندھنے کی فکر کرتی ہے اور دل ہی دل میں خوش ہوتی ہے کہ اب میں پھر رخصت ہونے والی ہوںمگر یہ رخصتی ایسے دیس کے لئے ہے جہاں میری پذیرائی ہوگی، میرا استقبال ہوگا، مجھے میری قربانیوں کا صلہ ملے گا،ان شاءاللہ۔
شبنم شکیل بھی اس دار فانی سے رخصت ہونے سے قبل ان خیالات کو نظم کر گئیں۔ آپ بھی پڑھئے، کیا اس میں آپ کو عورت کی بے کسی، بے چارگی، صبر و استقامت، ایثار و قربانی اور مظلومیت کی تصویر نظر نہیں آتی؟:
اب مجھ کو رخصت ہونا ہے کچھ میرا ہار سنگھار کرو 
کیوں دیر لگاتی ہو سکھیو ، جلدی سے مجھے تیار کرو 
یہ کیسا انوکھا جوڑا ہے جو آج مجھے پہنایاہے 
 حوروںسی دلہن میں بنی، اب اٹھو اور دیدار کرو 
اک ہار ہے سرخ گلابوں کا اک چادر سرخ گلابوں کی 
اور کتنا روپ چڑھا مجھ پر ، اس بات کا تم اقرار کرو 
اک بار یہاں سے جاﺅں گی، مےں لوٹ کے پھر کب آﺅں گی 
تم آہ وزاری لاکھ کرو ، تم مِنت سو سو بار کرو 
رو رو کر آنکھیںلال ہوئیں، تم کیوں سکھیو بے حال ہوئیں
اب ڈولی اٹھنے والی ہے، لو آﺅ مجھ کو پیار کرو 
ہاں یاد آیا اس بستی میں، کچھ دیے جلا ئے تھے میں نے 
تم ان کو بجھنے مت دینا بس یہ وعدہ اک بار کرو 
آئیے دعا کریں کہ اللہ کریم ہم سب مسلمانوں کو دنیا و عقبیٰ میں اپنی بے حساب رحمتوں، نعمتوں، عنایات اور انعامات سے مالا مال فرمادے اور ہم سب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔
 
 
 
 
 
 

شیئر: