Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اندیشۂ زیاں

***جاوید اقبال ***
حالیہ دنوں میں واٹس ایپ پر 2مختلف ویڈیو کلپس موصول ہوئے ہیں ۔ کینیا کی ڈاکٹر ممبی سراکی نے نیروبی یونیورسٹی سے افریقی امور پر ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے اور کینیا ٹیلیویژن  پر اپنے براعظم کے مسائل و سیاست پر ایک انتہائی ہر دلعزیز ہفتہ وار پروگرام پیش کرتی ہیں ۔ مجھے موصول ہونے والے پہلے کلپ میں ڈاکٹر ممبی سرائی نے چین اور وسطی افریقی ملک زمبیا کے مابین بگڑتے امور پر روشنی ڈالی ہے ۔ میں نے ان کی بات کا من و عن ترجمہ کیا ہے ۔ چشم بینارکھنے والے میرے ہم وطنوں کو ضرور اس کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔ تو اس سیاہ فام خاتون کی گفتگو میں بہت دل آزردگی تھی ۔ بولی، مختلف خبریں آتی رہی ہیں اور مجھ سے ای میلز میں سوال بھی کئے گئے کہ زمبیا کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ؟ کیا یہ ملک اب زام چائنا بن گیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ زمبیا پہلا افریقی ملک ہے جو چین کی نو آبادی بن گیا ہے ۔ میں نے آپ کو متنبہ کیا تھا کہ یہ ہونے والا ہے اور میں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم ایک بڑی عالمی جنگ کے قریب تر ہو رہے ہیں ۔ یورپی خاموش رہ کر چین کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ افریقہ پر قبضہ کر لے ۔ 
ہوا یہ ہے کہ زمبیا ایک دو قرضوں کی واپسی نہ کر سکا تو اس کی بجلی کی کمپنی زیسکو پر چینیوں نے قبضہ کر لیا اور اب اسے چینی چلا رہے ہیں ۔ اس سے بھی بد ترصورتحا ل یہ ہے کہ چند ماہ پیشتر زمبیا نے اپنی قومی نشریاتی کمپنی بھی گنوا دی ۔ اب زمبیا نیشنل براڈ کاسٹنگ کارپوریشن مکمل طور پر چینیوں کی ملکیت ہے ۔ یہ دیوانگی ہے ۔ 
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چین کی نئی استعماری حکمتِ عملی آگے بڑھ رہی ہے ۔ اپنے عروج کی طرف رواں دواں ہے ۔ چینی اس پر ایک طویل عرصے سے کام کر رہے ہیں اور اب انہوںنے اپنی جڑیں اتنی گہری کر لی ہیں کہ انہیں اکھاڑنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے ۔ چینیوں کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ بے حساب پیسے کے ساتھ آتے ہیں اور افریقی ممالک کو قرض حاصل کرنے پر اکساتے ہیں اور انہیں مسلسل رقوم فراہم کرتے ہیں اور جب کوئی ملک قرض کی واپسی بروقت ادائیگی نہیں کر سکتا تو چینی آگے بڑھ کر اس کے پیداواری وسائل پر قبضہ کر لیتے ہیں ۔ چین نے کرپٹ ممالک کا بخوبی مطالعہ کر رکھا ہے ۔ جن ممالک کے راہنما لالچی ہیں جو کہ افریقہ کے اکثر راہنما ہیں وہاں آپ ایسے حالات دیکھتے ہیں ۔ قرض دینے کی اس طویل المدتی حکمتِ عملی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چینی بڑے موثر انداز میں مقروض کے وسائل پر قبضہ کرتے ہیں اور یقین کریں کہ قرض واپس لیتے وقت وہ انتہائی ظالم ہو جاتے ہیں ۔ چینی حکومت جانتی ہے کہ زمبیا مشکلات کا شکار ہے ۔ 
چین نے غیر مشروط طور پر افریقہ کو 61ارب ڈالر دئیے ہیں لیکن کہیں بھی دوپہر کا کھانا بلا معاوضہ نہیں ملتا ۔ یہ ہمارے علم میں نہیں کہ درپردہ چین نے کن معاہدوں پر افریقہ راہنمائوں سے دستخط کرائے ہیں ۔ 
عوام کو صرف یہ کہا گیا ہے کہ چین ہمارے منصوبوں کے لئے مالی مدد فراہم کر رہا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا ہے کہ قرض پر کتنی شرحِ سود ہو گی اور اگر بروقت واپسی نہ ہوئی تو پھر یہ شرح کتنی ہو جائے گی ۔ میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ چینیوں نے کینیا میں ایک گھٹیا سی ریلوے تعمیر کی ہے اور اگر اس قرض کی بروقت واپسی نہیں کی جاتی تو چینی پھر کینیا کی بندرگاہ ممباسا پر قبضہ کر لیں گے ۔ زمبیا کے صدر ایڈورڈ لونگو نے چینی کمپنیوں کا دورہ کیا ۔اپنی زیسکو اور میڈیا کمپنی گنوانے کے بعد بھی وہ چینی کمپنیوں میں گیا اور اپنے ملک کے Lusaka East Multi Facility Economic Zoneکو بجلی فراہم کرنے کیلئے 3کروڑ ڈالر کا قرض لے آیا ۔ ایک اور بات آپ کو بتائوں ۔ جب ایڈورڈ لونگوبرسرِ اقتدار آیا تو اس نے چین سے 8ارب ڈالر قرض لینے کا معاہدہ کیا ۔ اب ریکارڈ میں اس میں سے 5ارب ڈالر غائب ہیں ۔ چینی کہتے ہیں کہ انہوں نے 8ارب اداکئے ۔ ہمارے وزارتِ خزانہ کے اہلکار اس قابل ہی نہیں کہ ان قرضوں کی مناسب نگرانی کر سکیں یا انہیں  مناسب طریقے سے استعمال کر سکیں ۔ ہمارے علم میں نہیں کہ کس طرح کی سودے بازی ہوئی تھی ۔ میں آپ کو بتا رہی ہوں کہ جب افریقہ میں اگلے انتخابات ہوں گے تو کئی حکومتوں کے تختے الٹیں گے ۔ ان راہنمائوں نے ہماری روحیں شیطان کو فروخت کردی ہیں ۔ 1964ء سے چینیوں نے زمبیا کی مرکزی شاہراہ پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ ان لوگوں کو زمبیا میں آنے جانے کی کھلی چھوٹ ہے ۔ کوئی امیگریشن نہیں ۔ اب چینی افریقیوں کی ہمسائیگی میں رہائش رکھتے ہیں اور سماجی کھچائو پیدا ہو رہا ہے ۔ اب چینی زمبیا کی سڑکوں پر مکئی کے بھٹے فروخت کرتے ہیں ۔ 
2005ء کے بعد سے یہ وہاں اتنی بڑی تعداد میں داخل ہو رہے ہیں کہ لگتا ہے کہ وہاں چین کی حکومت ہے ۔ یہ لوگ اکثر جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ ہزاروں کے حساب سے مجرم ، مکار اور ٹھگ چینی زمبیا آچکے ہیں اور چینی حکومت کا حکم ہے کہ اس کے شہریوں کو نہ گرفتار کیا جائے اور نہ ان سے بازپرس کی جائے ۔ زمبیا میں ٹھیکیدار آرہے ہیں ۔ تھوک فروش ، درآمد کنندگان ، برآمد کنندگان ، مزدور سب آرہے ہیں ۔ وہ سب غربت سے فرار حاصل کرتے ہیں ۔ چین حال ہی میں غربت کی گرفت سے باہر آیا ہے ۔ پھر ان لوگوں کو زمبیا میں اراضی کی خریدوفروخت کی اجازت بھی مل گئی ہے ۔ 
زمبیا کے مقامی شہری بڑی آزودگی سے کہتے ہیں کہ حکومت نے اب سب سے پہلے چین کا نعرہ اپنا لیا ہے ۔ مقامی آبادی کیلئے روزگار کے مواقع ختم ہو چکے ہیں ۔ چینی اپنے ہمراہ باورچی ، بٹلر ، موچی ، معمار یعنی ہر پیشے کا آدمی بیجنگ سے لاتے ہیں ۔ 
میں ڈاکٹر ممبی افریقیوں کو تنبیہ کرتی ہوں کہ اپنے آپ کو حقیقی آزادی دلانے کیلئے فوراً اس صورتحال پر قابو پائو ورنہ تمہارے قدرتی وسائل پر چین کا قبضہ ہو گا اور تمہاری آئندہ نسل اپنے ہی گلی کوچوں میں بھیک مانگتی پھریں گی ۔ پہلا کلپ ختم ہوا ۔ 
دوسرا کلپ مختصر تھا ۔ ہمارے شمالی علاقے کی ایک دکان میں ایک چینی عورت پاکستانی دکاندار پر تھپڑ برسا رہی تھی اور میزبان انتہائی بے چارگی سے مہمان خاتون کے متحرک ہاتھوں کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ 
سی پیک میں سعودی عرب کی شمولیت پاکستان کیلئے رحمت ایزدی سے کم نہیں ۔ ہمارے وقار و احترام کی لاج بھی رہ جائے گی اور ہمارا وطن ’’چینی پاکستان‘‘ بنائے جانے کی بجائے اسلامی جمہوریہ پاکستان رہ کر ہی اپنا وجود منوائے گا ۔ پاک سعودی دوستی پائندہ باد
 

شیئر: