Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلند شہر کا فساد

***معصوم مراد آبادی ***
مغربی یوپی کے ضلع بلند شہر میں لاکھوں مسلمانوں کے تبلیغی اجتماع کو سبوتاژ کرنے کی جو سازش رچی گئی تھی، وہ پوری طرح بے نقاب ہوگئی ہے۔ اس سازش کا شکار خود وہی لوگ بن گئے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو نرم چارہ سمجھ کر اس کا ایندھن بنانے کی خوفناک منصوبہ بندی کی تھی۔ گئو کشی کا جھوٹا الزام مسلمانوں کی گردن پر ڈال کر یہ لوگ بڑے پیمانے پر قتل وغارت گری کا منصوبہ بنا رہے تھے لیکن قدرت نے سازشی عناصر کو خود ان ہی کے جال میں پھنسادیا۔ بلند شہر میں اگر فرقہ پرستوں کی سازش کامیاب ہوجاتی تو وہاں بڑے پیمانے پر لاقانونیت اور افراتفری پھیلنے کا اندیشہ تھا۔ بلند شہر کی تحصیل سیانہ کے ایک گاؤں میں جس وقت گئو کشی کی افواہ پھیلائی جارہی تھی، اس وقت وہاں سے 40 کلومیٹر دور بلند شہر ضلع میں لاکھوں مسلمانوں کا اجتماع آخری مراحل میں تھا۔جہاں 10 لاکھ سے زائد فرزندان اسلام اکٹھا تھے۔ اس اجتماع کے حوالے سے سوشل میڈیا پر طرح طرح کی افواہیں اور غلط فہمیاں پھیلائی جارہی تھیں اور اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کے وہاں جمع ہونے پر طرح طرح کے سوالات کھڑے کئے جارہے تھے۔ فرقہ پرست اور شرپسند عناصر کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنے بڑے مذہبی اجتماع کو سبوتاژ کرنے اور وہاں افراتفری پھیلانے کے لئے کون سا راستہ اختیار کریں۔ ظاہر ہے گئو کشی کا الزام اس معاملے میں سب سے کارگر ہتھیار ہوسکتا تھا لہٰذا ایک منصوبہ بند سازش کے تحت سیانہ کے ایک کھیت میں گائے کی نسل کے کسی جانور کو بے ترتیبی سے ذبح کرکے اس کے باقیات وہاں سجا دیئے گئے تاکہ پورے ضلع میں اشتعال پھیل جائے ۔ سیانہ کے تحصیلدار راج کمار بھاسکر نے سینئر افسران کو بتایا ہے کہ کھیتوں میں جس انداز میں جانور کے باقیات سجائے گئے تھے ان کا ایک خاص مقصد تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ گئو کشی کرنے والا کبھی باقیات کی نمائش نہیں کرے گا بلکہ اسے چھپانے کی کوشش کرے گا۔ باقیات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ گائے کی نسل کے جانور کو کسی غیر پیشہ ور شخص نے ذبح کیا تھا اور اس کا مقصد محض ہندو برادران وطن کو مشتعل کرنا تھا۔  اترپردیش پولیس کے ڈی جی پی اوپی سنگھ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ اس ہنگامہ آرائی کے پیچھے کوئی بڑی سازش کارفرما تھی۔ 
اس واقعہ کے بعد فرقہ پرست تنظیموں کے کارکنوں نے مقامی ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف ورغلایا اور انتہائی بے ہودہ زبان استعمال کی۔ اس موقع پر جاری ایک ویڈیو میں یہ منظر صاف نظر آتا ہے۔ شرپسند عناصر پولیس پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ گئو کشی کے جرم میں مسلمانوں کے خلاف فوری کارروائی کرے جبکہ پولیس کے پاس اس واقعہ میں مسلمانوں کے ملوث ہونے کاکوئی ثبوت نہیں تھا۔پولیس نے وہاں موجود بھیڑ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ تحقیقات کے بعد قصورواروں کے خلاف کارروائی کریں گے لیکن ہجوم اس قدر مشتعل تھا کہ اس نے نہ صرف مقامی تھانے کو نقصان پہنچایا بلکہ وہاں کھڑی ہوئی درجنوں گاڑیوں کو تباہ کرڈالا۔ مقامی تھانے کے انسپکٹر سبودھ کمار کو انتہائی بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیاگیا۔ کہاجاتا ہے کہ سبودھ کمار 2015 میں دادری کے گاؤں بساہڑا میں گئو کشی کے جھوٹے الزام میں انتہائی سفاکی سے قتل کئے گئے محمد اخلاق کے کیس کی جانچ کرچکے تھے اور شرپسند عناصر پہلے سے ہی ان کا تعاقب کررہے تھے۔ اسی افراتفری اور فائرنگ کے دوران ایک اور نوجوان سمیت کمار کی موت بھی واقع ہوگئی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ گئو بھکتوں کی غنڈہ گردی اور ہجومی تشدد کے نتیجے میں ایک پولیس افسر کی جان لی گئی ہے۔ظاہر ہے یہ واقعہ ان لوگوں کے لئے تازیانہ عبرت ہے جو گائے کی سیاست کو اپنے انتخابی فائدے کے لئے استعمال کررہے ہیں اور جس کا بنیادی مقصد فرقہ وارانہ تفریق پیدا کرنا ہے۔ گائے کے تحفظ کے لئے شروع کی گئی سیاسی مہم اب خودانہی لوگوں کے لئے مصیبت بن رہی ہے جنہوں نے اسے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے ایجاد کیا تھا ۔
قابل غور بات یہ ہے کہ ابتدائی دوتین دن تو پولیس کی ساری توجہ ان شرپسندوں اور ہندو انتہا پسندوں پر مرکوز رہی جنہوں نے بلند شہر کے امن کو غارت کرنے کی سازش رچی تھی لیکن جیسے ہی وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گئو کشی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تو اچانک پولیس نے اپنا رخ مسلمانوں کی طرف موڑ دیا۔ مقامی مسلمانوں کے خلاف کارروائی کا آغاز بجرنگ دل کے کارکن یوگیش کمار کی رپورٹ پر کیاگیا جس نے سارا فساد برپا کیا تھا اور جو پولیس کی نگاہ میں سارے ہنگامے کا کلیدی ملزم ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یوگیش راج کی رپورٹ پر پولیس نے جن 7 مسلمانوں کو گرفتار کیا ان میں 2کمسن بچے بھی شامل تھے اور اس میں ایک ایسے شخص کا نام بھی تھا جو اس روز علاقے میں موجود ہی نہیں تھا۔ پولیس نے ابھی تک اس سلسلے میں 9 لوگوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ 87لوگوں پر کیس درج کیاگیا ہے۔ ان میں 27نامزد اور 60نامعلوم افراد ہیں۔ کچھ ملزمان بجرنگ دل ، بی جے پی یووا مورچہ اور وشوہندوپریشد سے وابستہ ہیں۔ کلیدی ملزم یوگیش راج بجرنگ دل کا ضلع صدر ہے۔ سیانہ میں بی جے پی یووا مورچے کا صدرشیکھراگروال اور وشوہندو پریشد کا کارکن اوپندر راگھو بھی نامزد ہے۔ یہ تمام ملزمان مفرور ہیں۔ 
میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے قصبہ سیانہ میں پولیس انسپکٹر سبودھ کمار کی جان لی ہے، وہ وشوہندوپریشد ، بجرنگ دل اور بھارتیہ جنتاپارٹی یووا مورچہ کے کارکنا ن ہیں۔
 

شیئر:

متعلقہ خبریں