اقتصادی بحران: لبنان کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ

مشرق وسطیٰ کا ملک لبنان ان دنوں شدید اقتصادی بحران میں گھرا ہے۔ لبنانی وزیراعظم سعد الحریری نے کہا ہے کہ بلاشبہ لبنان کو اقتصادی بحران کا سامنا ہے لیکن ملک کے دیوالیہ ہونے کا کوئی امکان نہیں، اصلاحات سے مسئلہ حل ہو جائے گا ۔
دوسری جانب بعض سیاست دان اقتصادی تجزیہ کار اور مالیاتی ادارے لبنان کے اقتصادی حالات کا مختلف منظر نامہ پیش کر رہے ہیں۔
سرسری نظر ڈالنے سے لبنان کا اقتصادی منظر نامہ دھندلایا ہوا نظر آرہا ہے ۔ عالمی بینک نے رپورٹ دی ہے کہ لبنان کی معیشت کا بنیادی ڈھانچہ مخدوش ہے۔
شامی بحران کے حل سے اس کی لاٹری نہیں نکلے گی بلکہ شام کے بحران نے لبنانی معیشت کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
لبنان کے ایک بڑے حلقے کو ملک کے دیوالیہ ہونے کا شدید خدشہ ہے۔ اس کی دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ
لبنان کا توازن و تجارت خسارے سے دوچار ہے۔
لبنان کو قومی قرضوں کا سود چکانے کے لیے سالانہ 20ارب ڈالرز سے زیادہ کا قرضہ لینا پڑ رہا ہے۔
گذشتہ تین برسوں میں شرح نمو صرف ایک فیصد سے دو فیصد تک رہی ۔
اس کے علاوہ دیگر ممالک میں برسرِ روزگار لبنانی تارکین کی جانب سے ترسیلات زر میں بھی مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔
سعودی عرب اور خلیجی ممالک ماضی میں لبنان کی اچھی خاصی مالی مدد کیا کرتے تھے لیکن اب ان ملکوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا ہے، جس سے لبنانی معیشت مزید مشکل صورتحال سے دوچار ہو گئی ہے۔

لبنانی حکومت اقتصادی اصلاحات کی بات تو کر رہی ہے تاہم عملی اقدامات اور خارجی امداد لانے سے قاصر نظر آرہی ہے۔

خدشات یہ بھی ہیں کہ سیاسی بحران اپریل میں ہونے والی مجوزہ پیرس کانفرنس کے عالمی شرکا کو 11ارب ڈالرز دینے کا وعدہ پورا کرنے سے روک دیں گے۔

ایک لبنانی اخبار نے وزیر خزانہ علی حسن خلیل کے حوالے سے یہ پریشان کن خبر شائع کی ہے کہ لبنان اپنے قرضوں کی ادائیگی کا نیا شیڈول تیار کرنے پر مجبور ہو گا، اگر ایسا ہوا تو لبنانی بانڈز خسارے میں فروخت ہوں گے ۔

مودیز نامی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اگر قرضوں کا نیا شیڈول بنایا گیا یا حکومت نے کوئی اور مالی بوجھ اپنے ذمے لے لیا تو ایسی حالت میں قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر ہو جائے گی ۔

لبنان کے مجموعی قومی بجٹ کا حجم 55ارب ڈالر ہے اور یہ 10 فیصد خسارے کا بجٹ ہے۔

بیروت سٹاک ایکسچینج کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ سینٹرل بینک کے ملازمین کی ہڑتال کے باعث حصص کا لین دین معطل ہے اور اس سے جڑے دیگر معاملات نامکمل ہیں جبکہ نئے معاملات بھی موثر نہیں ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے لبنانی حکومت میں شامل ایران نواز حزب اللہ پر اقتصادی پابندیاں عائد کر کے لبنان کے اقتصادی مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

لبنانی بینک بھی امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ اس حوالے سے لبنانی صدر میشال عون کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں سے پورا لبنان متاثر ہو گا کیوں کہ ہر لبنانی اور ہر سرمایہ کار بینکوں کے ساتھ لین دین کرتے وقت خوف محسوس کرے گا کہ کہیں وہ امریکی پابندیوں کے حصار میں نہ آجائے۔

لبنانی وزیراعظم سعد الحریری کہتے ہیں کہ اقتصادی بحران کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس وسائل محدود جب کہ ہمارے خواب بڑے ہیں۔

سعد الحریری نے لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور صدر سے ملاقاتوں کے بعد توجہ دلائی کہ سب کا موقف ایک ہے، ہم اپنے عوام کی خاطر ملک میں اصلاحات نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اصلاحات کسی بھی شعبے کے خلاف نہیں۔ ہم اپنے عوام کو یہ بات صاف الفاظ میں بتانا چاہتے ہیں کہ ملک کو اس وقت اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔

لبنانی وزیراعظم نے کہا کہ اخراجات کا موجودہ طریقہ کار بحران کے حل میں مددگار نہیں ہو  گا۔ ملک کے تمام شعبوں کو بجٹ کے  لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ ملک میں ہڑتالوں کا سلسلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

لبنان کے وزیر خزانہ علی حسن خلیل نے کہا ہے کہ ملکی معیشت  کئی برسوں سے دبائو میں ہے۔ ایک جانب ملک پر 85ارب ڈالرز کے قرضوں کا بوجھ ہے تو دوسری طرف بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں ںے کہا کہ ملک کی معاشی ترقی کی شرح بھی کم ہے۔ ملک تمام قرضے ادا کرنے کا پابند ہے۔ مودیز کی رپورٹ کا تقاضہ ہے کہ نئی حکومت تشکیل پائے ۔ اصلاحات نافذ ہوں اور بجٹ خسارہ کم ہو۔

ماہرِ اقتصادیات غازی وزنی کا کہنا ہے کہ حکومت کی تشکیل میں تاخیر سے بھی مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔ خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور شرح نمو بہت کم ہے۔

 

شیئر: