’ تیزابی ٹوٹوں کے خالق کے طور پر ملیں گے توبور ہوں گے‘

سنہ 2000ء کی دہائی کے اوائل میں ہالی ووڈ اداکار جیکی چن کی مشہور زمانہ فلم ’شنگھائی نائٹس' انتہائی مزاحیہ پنجابی ڈبنگ کے ساتھ ’بٹ تے بھٹی‘ کے نام سے منظرعام پر آئی اور اتنی مقبول ہوئی کہ اس کے مکالمے آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہیں۔
یہ فلم فیصل آباد کے محمد علی عزیزی اور ان کے دوست سجاد جانی نے کئی ماہ کی سخت محنت کے بعد ڈب کی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اس فلم کے ذریعے ان کی خداداد صلاحیت کے ڈنکے بجیں گے اور ان کے حالات بدل جائیں گے۔
چند ہی ماہ میں یہ ڈب شدہ فلم مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے لگی لیکن عزیزی اور ان کے دوست کے ہاتھ شہرت کے سوا کچھ نہ آیا۔


محمد علی عزیزی عام زندگی میں بہت سنجیدہ رہتے ہیں اور لوگوں سے ملنے جلنے کے عادی نہیں۔ تصویر اردو نیوز

پھر ایک روز عزیزی کو جیو ٹی وی کراچی  کے پروڈوسر کا فون آیا جنہوں نے انہیں اپنے چینل کے لیے قومی و بین الاقوامی سیاستدانوں کی تقریروں کی مزاحیہ پنجابی ڈبنگ کرنے کا کہا۔
بس یہیں سے جیو کے سیگمنٹ ’تیزابی ٹوٹے‘ کا آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے عزیزی اور ان کی ٹیم کی ڈب کی ہوئی ویڈیوز ہر طرف پھیل گئیں اور دنیا بھر میں لوگ سنجیدہ ویڈیوز پر ان کی مزاحیہ ڈبنگ سے محظوظ ہونے لگے۔
’ان دنوں امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش افغانستان میں جنگ شروع کرنے کے باعث خبروں میں تھے۔ میں نے ان کی تقریروں کو ڈب کرنا شروع کیا اور اس سلسلے کو 'چاچو بش' کا نام دیا جو بہت مقبول ہوا۔‘
’پھر اس کے بعد دیگر سیاستدانوں اور کھلاڑیوں وغیرہ کی ڈبنگ شروع کی تو اسے ’تیزابی ٹوٹے‘ کا نام دیا، لوگوں نے اسے بھی بہت پسند کیا، یوں میرا ایک نیا سفر شروع ہوا۔‘
لیکن تیزابی ٹوٹے اور اس جیسی درجنوں دیگر مزاحیہ ویڈیوز پر قہقہے مارمارکر لوٹ پوٹ ہونے والے محمد علی عزیزی کے کروڑوں مداحوں کو آج تک علم نہیں کہ ان کی زندگی میں مسکراہٹیں بکھیرنے والا فنکار خود کس حال میں رہتا ہے۔


عزیزی نے انڈین سیاستدانوں کے بھی تیزابی ٹوٹے بنائے ہیں، نوجوت سنگھ سدھو کی بنائی گئی ایک ویڈیو کا سکرین شاٹ 

فیصل آباد کے گنجان آباد علاقے گلفشاں کالونی کی ایک تنگ گلی میں کرائے کے مکان میں مقیم محمد علی عزیزی نے ’اردو نیوز‘ کو بتایا کہ وہ عام زندگی میں بہت سنجیدہ رہتے ہیں اور لوگوں سے ملنے جلنے کے عادی نہیں بلکہ ایک کمرے میں بند ہو کر تنہائی میں کام کرنا پسند کرتے ہیں۔
’مجھے گلفشاں کالونی میں رہتے ہوئے لگ بھگ 20 برس ہو گئے ہیں، مگر یہاں کوئی نہیں جانتا ہے کہ تیزابی ٹوٹے میں بناتا ہوں۔ میں شہرت کا بھوکا نہیں ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر لوگ کسی فنکار کے کام سے محبت کرتے ہیں تو لازمی نہیں کہ وہ فنکار سے ملیں اور اس سے بھی اس کے کام کی طرح ہی محبت کریں۔‘
’مجھے لگتا ہے کہ لوگ اگر مجھ سے تیزابی ٹوٹوں کے خالق کے طور پر ملیں گے تو بری طرح بور ہوں گے کیوںکہ میں ان سے کوئی مذاق نہیں کر سکوں گا۔‘
فطری طور پر اپنے آپ تک محدود رہنے والے محمد علی عزیزی کی تنہائی پسندی میں شدت کی ایک وجہ شاید ان کی خراب مالی حالت بھی ہے کیونکہ جیو ٹی وی نے ان کو گذشتہ ایک سال سے تنخواہ نہیں دی اور ان کو ہر ماہ دوستوں سے قرض لینا پڑتا ہے۔
’جیو کی انتظامیہ کہتی ہے کہ چینل کے مالی حالات ٹھیک نہیں، آپ کی تنخواہ جلد آ جائے گی۔ مجھے یہ سنتے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں تنخواہ نہ ملنے کے باوجود اب تک زندگی کا پہیہ چلانے میں اسی لیے کامیاب ہوا ہوں کہ میں اپنی ویڈیوز یوٹیوب کے دس چینلز پر چلاتا ہوں اور خرچے کے بقیہ پیسے دوستوں سے ادھار لے لیتا ہوں۔‘


عزیزی کی جگتوں پر مشتمل ڈبنگ ویڈیوز میں عورتوں، مردوں کے مختلف کردار ان کے خاندان کے افراد نبھاتے ہیں۔ تصویر اردو نیوز

محمد علی عزیزی کی جگتوں پر مشتمل ڈبنگ ویڈیوز میں عورتوں، مردوں اور بچوں کے مختلف کردار نبھانے والے کوئی اور نہیں بلکہ ان کے خاندان کے افراد ہیں۔
انہیں جہاں خاتون کی آواز چاہیے ہو وہاں بیوی اور جہاں بچوں کی چاہیے ہو وہاں ان کا بڑا بیٹا اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
عزیزی کے بقول سنجیدہ تقریر کو مزاحیہ بنانا بلاشُبہ ایک مشکل اور تخلیقی کام ہے مگر لگ بھگ دو دہائیوں کے تجربے کے بعد اب انہیں یہ کام مشکل نہیں لگتا۔
’میں صبح اٹھتے ہی ٹی وی دیکھتا ہوں اور سوچنا شروع کرتا ہوں کہ کس بیان یا تقریر کو فنی ڈب کیا جا سکتا ہے۔ پھر کسی ایک تقریر کو ریکارڈ کر کے بار بار سنتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ کس جگہ کون سی جگت بہتر رہے گی۔ کبھی تو اس کام میں کچھ گھنٹے ہی لگتے ہیں مگر کبھی کئی کئی دن بھی لگ جاتے ہیں۔ یوں میری زندگی اسی کے ادرگرد گھومتی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں سیاستدانوں، کھلاڑیوں اور فنکاروں وغیرہ پر لوگوں کو غصہ ہوتا ہے۔ لوگ یہ غصہ مختلف طریقوں سے نکالتے ہیں مگر وہ بطور فنکار اپنا غصہ فن کے ذریعے نکالتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کے ذہنوں کی ترجمانی ہو۔
محمد علی آئندہ سالوں میں صرف یوٹیوب کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان جیسے فنکاروں کا مستقبل اب یوٹیوب کے ہاتھ میں ہے۔


عزیزی کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے اس فن کو آگے لے کر چلیں۔ تصویر اردو نیوز

’جھے وقتاً فوقتاً کئی ٹی وی چینلز کام کی آفر کرتے رہتے ہیں۔ مجھے کہا جاتا ہے کہ سکرین پر آکر ڈبنگ کروں مگر میں جانتا ہوں مجھ سے سکرین پر پرفارم نہیں ہو سکے گا لہٰذا میں یہ آفرز قبول نہیں کرتا۔ اب میری تمام تر توجہ یوٹیوب چینلز پر ہے۔ میرے مستقبل کا فیصلہ یہی چینلز کریں گے۔‘  
مشکل حالات میں اپنے فن کا دم بھرنے والے فیصل آباد کے اس مایہ ناز مزاح نگار کو یہ بھی فکر ہے کہ ان کے بعد ان کا فن بھی مر نہ جائے۔
’میرے چار بیٹے ہیں، سب سے بڑے بیٹے کی عمر 10 برس ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے بیٹے اس فن کو آگے لے کر چلیں۔ پاکستان میں اس وقت یہ کام کوئی اور نہیں کر رہا، اگر میرے بچے بھی نہیں کریں گے تو ڈر ہے کہ میرے مرنے کے بعد تیزابی ٹوٹے بنانے والا کوئی نہیں ہوگا۔‘

شیئر: