کشمیر میں موجودہ صورت حال کی تصویری جھلکیاں

ستر لاکھ افراد کے علاقے کشمیر میں 20 روز سے صورت حال کشیدہ ہے جس سے مقامی افراد کی نہ صرف روزمرہ کی زندگی متاثر ہوئی بلکہ جانیں بھی خطرے میں ہیں۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پر آئے روز مارٹر گولوں اور گولیوں کی بوچھاڑ ہوتی ہے، لیکن حال ہی میں معاملہ اس وقت کشیدگی کی طرف چلا گیا جب انڈیا نے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کردیا۔ اس سے علاقے میں مظاہرے شروع ہو گئے اور پاکستان کی جانب سے اس کی شدید مذمت کی گئی۔
ان حالات کے دوران انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا سب سے بڑا شہر سری نگر بھی کرفیو کی زد میں آیا، جہاں انڈیا کے خلاف احتجاج اب بھی جاری ہے۔
علاقے میں حالیہ صورت حال کی جھلکیاں ان تصاویر میں دیکھی جا سکتی ہیں:

سری نگر میں خواتین اور بچے سراپا احتجاج ہیں، فوٹو: اے ایف پی
خواتین سری نگر میں انڈیا سے آزادی کے نعرے لگا رہی ہیں، فوٹو: روئٹرز
جھڑپوں کے دوران سری نگر میں آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی گئی، فوٹو: روئٹرز
سری نگر کے علاقے آنچر سورا میں ایک بچہ ہمیں آزادی چاہیے‘ کے نعرے کا پلے کارڈ پکڑے کھڑا ہے، فوٹو: اے ایف پی

کشمیری لڑکیاں سری نگر میں مظاہرے کے دوران نعرے لگا رہی ہیں، فوٹو: روئٹرز

سری نگر کے علاقے آنچر سورا میں ایک پریشان حال خاندان گھر کی کھڑکی سے مظاہرہ دیکھ رہا ہے، فوٹو: اے ایف پی

سری نگر میں ایک شخص آنسو گیس کے شیلوں کے پاس کھڑا ہے، فوٹو: روئٹرز
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سری نگر میں فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں اب تک 100 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق ماحول کی صورت حال یہ ہے کہ لوگ شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے باعث ان کا رابطہ دوست احباب سے منقطع ہو گیا ہے۔
کشمیر میں تین دہائیوں سے جاری کشیدہ حالات کے باعث اب تک ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

شیئر: