مسجد اور چرچ کی سانجھی دیوار

سہ پہر کے تقریباً پانچ بجے ہیں، دن بھر آگ برسانے کے بعد سورج اب رفتہ رفتہ اُفق کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جامع مسجد محمد علی فضلی میں مسلمان نماز عصر کی تیاریاں کر رہے ہیں جبکہ مسجد کے ساتھ والی عمارت میں واقع سینٹ پال کیتھولک چرچ میں مسیحی برادری کے افراد ہفتہ وار عبادت کے لیے جمع ہیں۔
جس وقت مسلمان مسجد میں وضو کرنے میں مصروف ہیں اسی وقت مسیحی برادری کے افراد اپنی عبادت شروع کرنے کے لیے نماز ادا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی عبادت میں خلل نہ بننے کی غرض سے کیے جانے والے انتظار کی یہ روایت نئی نہیں بلکہ لگ بھگ 25 برس پرانی ہے۔  
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد کے گنجان آباد محلے ناظم آباد میں مذہبی رواداری کی آئینہ دار اس مسجد اور چرچ کی یہ دیوار 1994 سے سانجھی ہے۔ 

چرچ 1970 کی دہائی میں تعمیر ہوا تھا جبکہ جامع مسجد کا قیام سنہ 1994 میں عمل میں آیا۔

ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور دونوں مذاہب کے پیروکاروں کے عقائد میں زمین آسمان کا فرق ہونے کے باوجود کسی لڑائی جھگڑے کے بغیر یہاں سالہا سال سے ایک ساتھ مذہبی رسومات کی ادائیگی بلاشبہ کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ 
مسجد میں گذشتہ پانچ برس سے امامت کے فرائض سرانجام دینے والے مولوی محمد اعجاز کے مطابق کیتھولک چرچ 1970 کی دہائی میں تعمیر ہوا تھا جبکہ جامع مسجد کا قیام سنہ 1994 میں عمل میں آیا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’شروع میں مسجد اور چرچ کے درمیان پانچ مرلے کے ایک پلاٹ کا فاصلہ تھا تاہم چند سال بعد ہی مسجد کی انتظامی کمیٹی نے یہ پلاٹ بھی خرید لیا۔ مسجد کی توسیع ہوئی تو چرچ اور مسجد کی دیوار سانجھی ہو گئی۔‘

مسجد میں اذان اور خطبے کے لیے لاؤڈ سپیکر استعمال نہیں کیے جاتے تاکہ مسیحی برادری کی عبادت میں خلل نہ پڑے، تصویر: اردو نیوز

محمد اعجاز بتاتے ہیں کہ ’مسجد اور چرچ کی انتظامی کمیٹیوں نے آپس میں بیٹھ کر عبادات کے اوقات کار طے کر رکھے ہیں تاکہ کسی کو تنگی نہ ہو۔ اسی طرح عام مساجد کے برعکس ہم یہاں اذان اور خطبے کے لیے بھی لاؤڈ سپیکر استعمال نہیں کرتے تاکہ جانے انجانے میں بھی مسیحی برادری کی عبادت میں خلل نہ پڑے۔‘
دوسری طرف مسجد کی طرح چرچ انتظامیہ نے بھی اپنے لاؤڈ سپیکر چرچ کی چھت پر لگانے کے بجائے چار دیواری کے اندر لگا رکھے ہیں تاکہ مسیحی عبادت گزاروں کی آواز مسجد تک نہ پہنچے۔

چرچ انتظامیہ نے بھی لاؤڈ سپیکر چار دیواری کے اندر لگائے ہیں تاکہ مسلمانوں کی عبادت متاثر نہ ہو، تصویر: اردو نیوز

امام مسجد کہتے ہیں کہ ’اسلام دوسرے مذاہب سے نفرت نہیں بلکہ پیار کا درس دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم مذہب سے بالاتر ہو کر مسیحی برادری کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش آتے ہیں اور ہمارے ساتھ مسیحی برادری کا رویہ بھی بہت اچھا ہے۔‘
چرچ کی انتظامی کمیٹی کے رکن مختار مسیح انسانیت کو مذہب سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے پیغمبر یسوع مسیح بھی انسانیت سے پیار، محبت، امن، رواداری اور ہمدردی کا پیغام لے کر دنیا میں آئے تھے۔
ان کے بقول ’جب مسجد کی انتظامیہ نے چرچ کے ساتھ والا پلاٹ خرید کر مسجد کی توسیع کا سوچا تو ہم سے بھی پوچھا گیا کہ آپ کو اس حوالے سے کوئی اعتراض تو نہیں؟ ہم نے کہا ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے، یہ تو ہمارے لیے خوشی کی بات ہو گی۔ بس وہ دن جائے اور آج کا آئے، ہم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔‘

مسجد اور چرچ ساتھ ساتھ ہونے کے باوجود کبھی کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا، تصویر: اردو نیوز

مختار مسیح کی خواہش ہے کہ جس طرح ناظم آباد کے مسلمان اور مسیحی رہائشی سالہا سال سے اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی امن و شانتی کے ساتھ کر رہے ہیں اسی طرح ملک کے دوسرے شہروں میں بھی بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ ملے اور لوگ ایک دوسرے کے عقائد کی عزت و تکریم کریں۔ 
ناظم آباد کے مقامی رہائشی 46 سالہ ابرار احمد مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد دعا سے فارغ ہوئے ہیں۔ وہ بین المذاہب ہم آہنگی کی اس خوبصورت مثال کا تمام تر کریڈٹ مقامی لوگوں کو دیتے ہیں۔ 
وہ کہتے ہیں کہ ناظم آباد اور وارث پورہ سمیت فیصل آباد کے بیشتر محلوں میں مسیحی برادری بڑی تعداد میں آباد ہے لیکن یہاں آج تک کوئی بڑا ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیصل آباد کے لوگ کھلے دل کے مالک ہیں اور دوسروں کی قدر کرنے والے ہیں۔
ابراراحمد کے مطابق مسیحوں اور مسلمانوں کا اکھٹے عبادت کرنا بلاشبہ کسی معجرے سے کم نہیں لیکن اگر لوگ انسانیت سے پیار کرنا سیکھ لیں تو یہ معجزہ ملک کے دوسرے شہروں میں بھی ہو سکتا ہے۔ 

شیئر:

متعلقہ خبریں