Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی سفیر کی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر سعودی عرب کے ’مدبرانہ موقف‘ کی تعریف

ایرانی سفیر نے کہا کہ ’کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جو حالات کو پلٹنا، خطے کے ممالک کے درمیان دراڑیں ڈالنا اور اس کے اندر فتنہ و فساد بھڑکانا چاہتے ہیں۔‘ (فوٹو: ایکس)
ایران کے سعودی عرب میں سفیر علی رضا عنایتی نے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے خطے میں اُن ’مدبرانہ موقف‘ کی تعریف کی ہے جو تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ایرانی سفیر نے کہا کہ بعض قوتیں ’خطے کو آگ میں جھونکنا، اس کی دولت ضائع کرنا، ترقی کے پہیے کو روکنا اور اس پر جنگ مسلط کرنا‘ چاہتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جو حالات کو پلٹنا، خطے کے ممالک کے درمیان دراڑیں ڈالنا اور اس کے اندر فتنہ و فساد بھڑکانا چاہتے ہیں۔‘
ایرانی اور سعودی پرچموں کے ساتھ شائع کی گئی اس پوسٹ میں علی رضا عنایتی نے کہا کہ ’اور پڑوس میں ایسے مدبرانہ موقف بھی موجود ہیں جو ایران کے خلاف کسی بھی معاندانہ اقدام کو مسترد کرتے ہیں، مکالمے کی زبان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور کسی بھی قسم کی ناپسندیدہ مہم جوئی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔‘
ایرانی سفیر کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب نے کشیدگی میں کمی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اُن خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مملکت نے علاقائی کشیدگی کے حوالے سے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔

سعودی عرب کے ایک اعلٰی عہدیدار نے الشرق الاوسط کو بتایا کہ ’سعودی عرب امریکہ اور ایران کے درمیان تمام تنازعات کے سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے پرامن حل تک پہنچنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔‘
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی رواں ہفتے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اسی موقف کا اعادہ کیا۔
انہوں نے ایران کی خودمختاری کے احترام اور علاقائی سلامتی و استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے مکالمے کی حمایت پر زور دیا۔

 

شیئر: