’ بلد بیسٹ‘ جدہ کی تاریخی گلیوں میں بین الاقوامی موسیقی لے آیا
ایونٹ کا انتظام سعودی میوزک پلیٹ فارم ’مڈل بیسٹ‘ نے کیا تھا، ( فوٹو: عرب نیوز)
جدہ میں منعقد ہونے والے ’بلد بِیسٹ‘ میوزک فیسٹیول کا چوتھا ایڈیشن اس ہفتے اپنے اختتام کو پہنچ گیا مگر اس نے جدہ میں یونیسکو کے عالمی ورثے کے ضلعے البلد کو میوزک، ثقافت اور تخلیق کی ایسی اوپن ایئر تفریح گاہ میں بدل دیا جس میں دو راتوں کے دوران موسیقی کے شوقین ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
اس فیسٹیول میں، جس کا انتظام سعودی میوزک پلیٹ فارم ’مڈل بیسٹ‘ نے کیا تھا، چار مراحل شامل تھے جن میں 70 مقامی، علاقائی اور عالمی فنکاروں نے شرکت کی اور شرکا کو الیکٹرونک، ہِپ ہاپ، اور گلوبل ساؤنڈ کے ذریعے ایک رنگا رنگ سفر پر لے گئے۔
عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے ’مڈل بیسٹ‘ کے سی ای او احمد العماری نے، جنھیں ڈی جے بلو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ’بلد بیسٹ‘ کے بارے میں کہا کہ یہ ایک طرح کا ’ثقافتی قبضہ‘ تھا۔‘
انھوں نے کہا’ ڈانس فلورز کے لیے درست جگہ ڈھونڈھنا ایک چیلنج تھا ’مگر بلد بیسٹ مستقل بنیادوں پر ترقی کی منازل طے کر رہا ہے اور ہم اس تبدیلی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘
العماری نے کہا کہ ’ہیریٹج کے ایریا میں کام کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں کیونکہ بلد حساس مقام ہے لہذا نقل و حرکت یہاں پر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔‘
’پہلے برس طے شدہ پروگرام کے مقام پر شدید بارش ہوگئی تھی اور پانی جمع ہوگیا تھا اور ہمیں ’سوق سٹیج‘ جانا پڑا تھا جو کافی چھوٹی جگہ تھی۔ لیکن اس مشکل کے باوجود کام ہو گیا اور اب تک ہو رہا ہے۔‘

’یہ ٹھیک ہے کہ گلیاں تنگ ہیں اور ڈسٹرکٹ قدیم ہے لیکن یہ نت نئے خیالات اور آئیڈیاز سے بھرپور مقامات ہیں۔ یہاں پیٹرن پائے جاتے ہیں، رنگ ہیں اور دیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ یہاں کی ہر شے میں جمود کے بجائے ایک بہاؤ ہے۔ فیسٹیول کو دیکھیں تو بلد کے بارے میں بتانا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں پر تخلیقی سوچ خود آپ کے سامنے آ جاتی ہے۔‘
’بلد بیسٹ‘ میں بین الاقوامی فنکاروں نے بھی پرفارمینسز دکھائیں جن میں امریکی ریپر پلیبوائے کارٹی بھی شامل تھے جنھوں نے پہلی مرتبہ سعودی عرب میں اس فیسٹیول میں شرکت کی۔
سعودی الیکٹرونک سے وابستہ دو بھائیوں ڈش، ڈیش نے مقامی فنکاروں پر فیسٹیول کے انتظامی اثر پر بات کی اور کہا کہ ’مڈل بیسٹ‘ ہمیں عالمی نقشے پر لے آیا ہے۔‘

انھوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ’ اس فیسٹیول کی وجہ سے انھیں، اس تقریب کے منتظمین اور پروموٹرز سے ملنے اور ان کو جاننے کا موقع ملا ہے۔جب ہم سفر میں ہوتے ہیں تو لوگ سعودی عرب سے اس سطح کے ٹیلنٹ کی توقع نہیں کرتے خاص طور پر جبکہ ماضی میں اس طرح کا کوئی کام نہ ہوا ہو۔‘
شیگی نے جنھوں نے ہِٹ گیتوں سے بھری پرفارمینس دی، عرب نیوز کو بتایا کہ ’میری قسمت اچھی ہے کہ میرے پاس کچھ بہترین گیت ہیں اور میں میوزک کو ایک تحفہ اور خدمت کا ایک ذریعہ سمجھتا ہوں۔ جب میں سٹیج پر جاتا ہوں تو لوگوں کو تفریح فراہم کرنے کی غرض سے جاتا ہوں۔میرا کام ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں بکھیرنا اور انھیں اچھا محسوس کرانا ہے۔ یہ گانے اب لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن گئے ہیں اور میرے لیے یہ عام بات نہیں بلکہ مجھے اس کا بہت خیال رکھنا ہوتا ہے۔‘

شیگی نے یہ بھی کہا کہ’ وہ لوگ جو پہلے سے اپنے ذہنوں میں سعودی عرب کے بارے میں خیالات لے کر یہاں آتے ہیں، جب وہ لائیو پرفارمینس کرتے ہیں تو خود بھی حیرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔‘
’میں نے سعودی عرب میں ایک سے زیادہ مرتبہ پرفارم کیا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہاں کچھ باتوں کو جو عام روش سے ہٹ کر ہوتی ہیں، ذہن میں رکھنا ضروری ہوتا ہے لیکن میرے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔میری توجہ اس پر ہوتی ہے کہ ایسا فن پیش کروں جو سننے والوں کے دلوں میں گھر کر جائے اور سامعین کا وقت بہترین انداز میں صرف ہو۔‘
’یہاں (سعودی عرب) کے بارے میں لوگوں میں بہت غلط فہمیاں ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو اس سے کہیں زیادہ آزادیاں حاصل ہیں جیسا کہ سعودی عرب سے باہر رہنے والے سمجھتے ہیں۔سعودی عرب میں ہر کوئی آپ کے ساتھ بہت اچھی طرح پیش آتا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ نوخیز فنکاروں کو وہ کیا نصیحت دیں گے تو شیگی کو جواب تھا کہ ’اس بات کو سمجھ لیں کہ جو آپ کو ملا ہے وہ تحفے سے کم نہیں اور خدمت کی ایک صورت ہے۔ لہذا مغرور نہ ہوں، کام کرتے رہیں اور یہ یاد رکھیں کہ آپ جو کچھ کر رہیں ہیں اس کی وجہ کیا ہے۔‘
العماری نے اس موقع پر کہا’ یہ سعودی عرب میں بہت سے ابھرتے ہوئے فنکار ہیں جو مملکت میں اپنا نام بنا رہے ہیں۔ ’ٹیلنٹ ہرجگہ سے پھوٹ رہا ہے اور ہر سطح پر نظر آ رہا ہے۔ لیکن یہ منظر ابھی ایک پُراسرار اور حیران کن مرحلے میں ہے۔ اس کی اصل شکل کو کچھ تراش خراش کی ضرورت ہے۔‘
