Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اونٹ سے قدیم اور گہرا تعلق‘ کیمل فیسٹیول میں سعودی ورثے کی نمائش

مملکت میں اونٹوں کے اس ورثے کو دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔( فوٹو: ایکس اکاونٹ)
مِسک ہیریٹج میوزیم (آسان)‘ اور سعودی کیمل ریسنگ فاؤنڈیشن باہمی اشتراک سے خادمِ حرمین شریفین کیمل فیسٹیول کے تحت ’آرٹ آف ہیریٹج‘ اور (آسان) کے مجموعوں سے متنخب نوادارت کی نمائش منعقد کر رہے ہیں۔
جنادریہ میں اونٹوں کی دوڑ کے میدان میں ہونے والی یہ نمائش، مملکت میں انسانوں اور اونٹوں کے درمیان قدیم، گہرے اور مرغوب تعلق کو واضح کرتی ہے۔
(آسان) مِسک فاؤنڈیشن کا ایک ذیلی ادارہ ہے جو ’سعودی ریسنگ کیمل فیڈریشن‘ کی طرف سے منعقد کردہ اس فیسٹیول میں پہلی مرتبہ شریک ہوا ہے۔
فیسٹیول کی منتظم کمیٹی نے اس مقابلے کو پانچ چکروں (دوڑوں) میں تقسیم کیا ہے، جن میں پانچ کلومیٹر کی تین دوڑیں مردوں کے لیے ہیں جبکہ دو کلومیٹر کی دو دوڑوں میں خواتین شریک ہیں۔
اپنی شرکت سے(آسان)، اس ’مشترک عزم کی اہمیت واضح کر رہا ہے جس کے تحت سعودی عرب میں اونٹوں کے اس دل پسند ورثے کو دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔

 اونٹ مملکت میں ایک ایسا لازمی عنصر ہے جس نے کئی نسلوں سے یہاں کی طرزِ زندگی کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ میوزیم کے اس مشن سے ہم آہنگ بھی ہے جس کے مطابق سعودی میراث کے مالا مال تنوع کو دوسروں تک پہنچانا ہے او مستقبل کی نسلوں کے لیے اس کا تحفظ کرنا ہے۔
یہ نمائش اونٹوں سے متعلق نوادارات کے مجموعے کو لوگوں کے سامنے لا رہی ہے جس کی قدیم روایات کی جڑیں علم، نگہداشت اور برداشت جیسے اقدار میں ملتی ہیں۔

(آسان) کے سی ای او خالد الصقر نے سعودی پریس ایجنسی کو بتایا  ’سعودی معاشرے کی ثقافتی علامتوں میں اونٹ کی جڑیں سب علامتوں سے گہری ہیں۔ ان کا تعلق یہاں کی زمین کے لوگوں کی تاریخ سے ہے۔‘
ان علامتوں نے یہاں کے لوگوں کے زندگی گزارنے کے طریقوں کی تشکیل، معاشی سرگرمیوں، نقل و حرکت اور ان روایتوں کو نسل در نسل منتقل کرنے میں کردار ادا کیا ہے، اور یہ اہمیت آج بھی اتنی ہی مضبوط ہے اور کھیلوں یا ورثے سے متعلق تقاریب میں اس کی جھلک ملتی رہتی ہے جس سے اس وراثت کی تجدید اور تسلسل کا اظہار ہوتا ہے۔‘

سعودی  کیمل ریسنگ فیڈریشن‘ کے سی ای او محمد البلاوی نے کہا کہ ’اصان کے ساتھ اشتراک اہم پیش رفت کا عکاس ہے۔ ’یہ شراکت فیسٹیول کے لیے بہت اہم اور ثقافتی اعتبار سے ایک رنگا رنگ اضافہ ہے۔‘
’یہ عام روایتی نمائش نہیں بلکہ یہاں سے وہ معلومات باہر نکلیں گی جو اونٹوں کی میراث کی بارے میں فہم و ادراک میں گہرائی پیدا کریں گی اور اسے ایک جامع اور جدید انداز میں دنیا کے سامنے پیش کریں گی، اس طرح کی ثقافتی شراکت ’سعودی وژن 2030‘ کے مقاصد کو حقیقت اور عمل میں تبدیل کرنے جیسی ہے جس سے مستقبل کی نسلوں کے لیے یہ ورثہ محفوظ ہو جائے گا۔

اس ایونٹ کا افتتاح سنہ 2024 میں ہوا تھا لیکن اب یہ فیسٹیول، کھیلوں کے ورثے کا ایک عالمی آئیکون بن گیا ہے۔
سنہ 2025 میں اونٹوں کی ریسوں کے اوقات کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے تھے اور اس میں خلیجی ممالک کے دیگر مملکوں سے بھی لوگوں نے شرکت کی تھی۔ اس سال سعودی عرب، یمن، متحدہ عرب امارت، عمان، اردن، بحرین اور ڈنمارک کے شتر سواروں نے فیسٹیول میں شرکت کی۔

 

شیئر: