محایل عسیر کا دسترخوان شہد اور روایتی پکوان ’حنیذ‘ کے بغیر نا مکمل
علاقے کی آب و ہوا اور ماحول شہد فارمنگ کے لیے انتہائی موزوں ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے جنوبی علاقے محایل عسیر کا کوئی دسترخوان علاقائی شہد اور مخصوص پکوان ’حنیذ‘ کے بغیر نامکمل تصورکیا جاتا ہے۔
علاقے کی آب و ہوا اور ماحول شہد فارمنگ کے لیے انتہائی موزوں ہے جہاں انواع و اقسام کے شہد کشید کیے جاتے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق عسیر ریجن ماحولیاتی اور زرعی اعتبار سے ذرخیز ہے۔ یہاں کے جنگلات و باغات قدرت کا انمول تحفہ ہیں، اسی وجہ سے یہاں سے حاصل ہونے والا شہد معیاری ہوتا ہے۔
علاقائی شہد کو تقریبات میں پیش کرنے کا رواج عہدِ رفتہ سے چلا آرہا ہے۔ تقریبات میں شہد کے ساتھ خوان پر تازہ گوشت کی ڈشز بھی لازمی ہوتی ہیں جن میں ’حنیذ‘ سرفہرست ہے۔
ثقافتی تقریبات میں لگائے جانے والی نمائش کے دوران شہد کے کارنر کا قیام ایک لازمی عمل ہے۔

نمائش میں انواع و اقسام کے شہد کا تعارف اور اس کا مختلف پکوانوں میں استعمال کے بارے میں بھی وزیٹرز کو آگاہ کیا جاتا ہے۔
جس طرح عسیر کا شہد مشہور ہے اسی طرح وہاں کا مخصوص پکوان ’الحنیذ‘ بھی جنوبی علاقے کے حوالے سے غیرمعمولی شہرت رکھتا ہے۔ شہد اور حنیذ کا ساتھ چولی دامن کا ہے جو ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔
دوسرے حنیذ فیسٹول میں شہد فارمنگ کے ایک ماہر علی بن صمان کا کہنا تھا ’شہد اور حنید کا تعلق علاقے کی ثقافت کا عکاس ہے، گوشت کی ڈش ’حنیذ‘ کے ساتھ شہد پیش کرنا علاقے کی قدیم روایت ہے جو آج بھی جنوبی علاقے کا خاصہ اور میزبانی کا لازمی جزو ہے۔‘

’مہمانوں کی تواضع دسترخوان کے آغاز میں یا کھانے کے بعد شہد سے کرنے کا رواج صدیوں پرانا ہے جس کا مطلب مہمان کی عزت و قدر کرنا ہے۔‘
بن صمان کا مزید کہنا تھا ’دراصل حنیذ (گوشت کی ڈش) کی چکنائی کو جسم سے گلانے کے لیے شہد پیش کیا جاتا ہے، یہ روایت ہمارے آباء اجداد سے چلی آرہی ہے جس پر علاقے کے لوگ آج بھی اسی طرح عمل کرتے ہیں۔ یہاں حنیذ اور شہد کو لازم وملزوم تصور کیا جاتا ہے۔
