آسام کے 19 لاکھ باشندے شہریت کی فہرست سے باہر

آسام کی کل آبادی تین کروڑ 30 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ فوٹو: دی ہندو
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں حکومت نے انڈین شہریوں اور غیر قانونی بنگلہ دیشی تاریک وطن کی شناخت کے لیے حتمی فہرست (نیشنل رجسٹر آف سیٹزن) جاری کر دی ہے جس میں کم از کم 19 لاکھ باشندوں کو شامل نہیں کیا گیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہفتے کو جاری ہونے والی حتمی فہرست میں کل تین کروڑ 11 لاکھ آسامی باشندوں کو شامل کیا گیا ہے۔
فہرست میں شامل نہ کیے جانے 19 لاکھ باشندوں میں سے بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جنہیں گذشتہ برس جاری ہونے والی عبوری فہرست میں بھی شامل نہیں کیا گیا تھا اور انڈین حکومت نے ان کے بارے میں فیصلہ کرنا تھا کہ وہ 31 اگست کے بعد انڈیا کے شہری شمار ہوں گے یا نہیں۔
اے ایف پی کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جن باشندوں کی شہریت قبول نہیں کی گئی ان میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔
اس اقدام سے ملک میں بسنے والے 17 کروڑ سے زائد مسلمان ہندو قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت میں مزید عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں گے۔ 
انڈین ریاست آسام کئی دہائیوں تک مذہبی اور نسلی تناؤ کا گڑھ رہا ہے۔ یہاں کے باسیوں کی شہریت اور قومیت کا مسئلہ بھی نیا نہیں ہے۔  
ریاست کے کچھ علاقوں میں اجتماعات پر پابندی ہے اور اس کے ساتھ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔ حال ہی میں انڈین حکام نے یہاں 17 ہزار اضافی پولیس اہلکار بھی تعینات کیے ہیں۔
آسام تین کروڑ 30 لاکھ افراد کی آبادی پر مشتمل ہے، برطانوی دور اور 1971 میں بنگلہ دیش بننے کے وقت تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد یہاں آباد ہوئی تھی۔

مسلمانوں کی بڑی تعداد شہریت کی فہرست سے باہر رہ سکتی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

حکام نے کہا تھا کہ صرف ان لوگوں کو شہریت دی جا سکتی ہے جو 1971 سے پہلے انڈیا میں اپنی یا اپنے آباؤ اجداد کی موجودگی کو ثابت کریں گے۔
پہلے ہی توقع کی جا رہی تھی کہ اب کی بار لگ بھگ 20 لاکھ افراد شہریت کے لیے جاری ہونے والی فہرست میں شامل نہیں ہو سکیں گے تاہم یہ افراد 120 دن کے اندر مخصوص فارن ٹریبیونلز میں اپیلیں دائر کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے گذشتہ برس بھی ریاست کے شہریوں کی ایک عبوری فہرست جاری کی گئی تھی۔ اس فہرست میں تقریباً 40 لاکھ مقامی رہائشیوں کو شہریت نہیں دی گئی تھی۔ ان باشندوں نے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے حکومت کو کاغذات جمع کروائے تھے۔
55 سالہ صاحب علی ان 40 لاکھ افراد میں سے ایک ہیں جو گزشتہ برس نیشنل رجسٹر آف سیٹزن کی فہرست میں شامل ہونے سے رہ گئے تھے۔
ان کے بقول ’ہم اصلی انڈینز ہے، میرے آباؤ اجداد یہاں پیدا ہوئے تھے، میری والدہ کا نام 1966 کی ووٹر لسٹ  میں شامل ہے، ہم نے یہ کاغذات فارموں کے ساتھ جمع کروائے تھے لیکن گذشتہ ان کا نام نیشنل رجسٹرڈ آف سیٹزن میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔‘
وہ لوگ جو خود کو آسام کا ’اصل باشندہ‘  قرار دیتے ہیں، ان کی جانب سے اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے۔
آسام میں 1983 میں تشدد کے مختلف واقعات میں دو ہزار کے قریب افراد کا قتل عام ہوا تھا۔

شہریت کے حوالے سے سینکڑوں کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ناقدین کا کہنا تھا کہ نیشنل رجسٹر آف سیٹزن کے عمل سے لگ رہا ہے کہ حکومت ہندوؤں کے لیے کام کرنا چاہتی ہے۔
گذشتہ جنوری میں لوک سبھا میں منظور کئے گئے ایک قانون کے تحت انڈیا میں چھ برسوں سے مقیم بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان کے ان شہریوں کو شناخت دی گئی جو مسلمان نہیں تھے۔
انڈین وزیر داخلہ امیت شاہ نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ وہ غیر قانونی تارکین کی اس ’دیمک‘ کو ختم کر دیں گے اور ملک بھر میں ایک مہم کے ذریعے انہیں واپس بھیجا جائے گا۔
وہ لوگ جن کے شہریت سے متعلق کیسز ٹربیونلز سے مسترد ہو چکے ہیں یا وہ عدالتی کارروائیوں سے تھک چکے ہیں، حکومت نے ان کو قانونی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق ان لوگوں کو یا تو تارکین وطن قرار دیا جاسکتا ہے اور یا پھر حراستی مراکز میں رکھا جا سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے آسام میں بھی 10 حراستی کیمپ بنائے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت کے مطابق ان کیمپوں میں 1135 افراد کو رکھا گیا ہے۔
ایسے ہی ایک حراستی مرکز میں 65 برس کے نور محمد گذشتہ 10 برس سے رہ رہے ہیں۔
اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے نور محمد نے کہا کہ ’میں ان سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرا جرم کیا تھا؟ میں یہاں پیدا ہوا اور ساری زندگی آسام میں گزاری، مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ میرا نام نیشنل رجسٹر آف سیٹزن کے فارم میں ہوگا یا نہیں۔‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل رجسٹر آف سیٹزن میں شامل نہ ہونے کے خوف کی وجہ سے 40 سے زیادہ خودکشیوں کے کیسز بھی سامنے آ چکے ہیں۔
نیشنل رجسٹر آف سیٹزن میں شہریت کے اندراج کے لیے متحرک آل آسام سٹوڈنٹ یونین کے ایک رکن سموجل بچاریہ کہتے ہیں کہ آسام کے مقامی باشندوں کو بچانے کے لیے یہ اندراج ضروری تھا۔
ان کے مطابق ’ہم اپنے آبائی علاقے میں دوسرے درجے کے شہریوں کے طور پر زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں، انڈیا، انڈینز کے لیے ہے، نہ کہ غیر قانونی تاریک وطن افراد کے لیے۔‘

شیئر: