ایران: ریکارڈ امیدوار انتخابی دوڑ سے باہر

90 فیصد اصلاح پسند امیدواروں کوالیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔فائل فوٹو: اے ایف پی
ایران کی سخت گیر اسٹیلشمینٹ نے 21 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے کہیں زیادہ امیدواروں کو حصہ لینے سے روک دیا ہے۔
اس کے علاوہ گارڈین کونسل جس میں ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے مقرر کردہ 12 سینیئر دینی اور قانونی سکالرز شامل ہیں نے اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے 90 فیصد اصلاح پسند امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔
90 اراکین پارلیمان سمیت 9 ہزارافراد کو مالی بے ضابطگیاں اور منشیات کے استعمال سے لے کر ’اسلام کے وفادار نہ ہونے‘ کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔

2016 میں اصلاح پسندوں اور اتحادیوں نے 41 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی فائل فوٹو: اے ایف پی

ایران میں 2016 میں اصلاح پسندوں اور ان کے اتحادیوں نے 41 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ اس کے مقابلے میں سخت گیروں کو صرف 29 فیصد ووٹ ملے تھے۔
ایران میں اصلاح پسند امیدواروں پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی سے تنقید کا دائرہ بڑھ گیا ہے۔ اصلاح پسند ہائی ٰ کونسل نے گارڈین کونسل پر اپنے امیدواروں کے خلاف تعصب کا الزام عائد کیا ہے۔
اصلاح پسند ہائی کونسل نے کہا ہے کہ اگر گارڈین کونسل اس راستے پر چلتی ہے تو پارلیمان کی 290 نشستوں میں سے 230 پر اصلاح پسند امیدوار نہیں ہوں گے اور 160 حلقوں میں کوئی مقابلہ نہیں ہو گا۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے گارڈین کونسل کے خلاف اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ’ہم صرف یہ اعلان نہیں کر سکتے کہ 1700 امیدوار منظور ہو گئے ہیں اور اس سوال کو نظر انداز نہیں کریں گے کہ وہ لوگ کتنے سیاسی گروہوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انتخابات کے بارے میں یہی کچھ نہیں ہے۔‘

ایران میں اصلاح پسند امیدواروں پر پابندی سے تنقید کا دائرہ بڑھ گیا ہے۔فائل فوٹو: اے ایف پی

یورپی کونسل برائے امور خارجہ کی پالیسی کے ایک سینیئر ساتھی ایلے جیرانمائح نے کہا کہ اصلاح پسند امیدواروں کے خلاف اس بڑے پیمانے پر امتیازی سلوک کا مطلب ایران جوہری معاہدے کی موت ہے۔
انہوں نے مزید کہا ’ایک قدامت پسند اور سخت گیر وں پر مشتمل پارلیمان کی اکثریت ایران جوہری معاہدے کے باقی حامیوں کے لیے سیاسی زندگی کو مشکل بنائے گا۔‘
’اگر ایران کی گارڈین کونسل نے روحانی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے اصلاح پسندوں کی بڑے پیمانے پر نا اہلی کا سہارا لیا تو اس سے پارلیمانی نظام کے جواز کو مزید نقصان پہنچے گا۔‘
چتھم ہاوس میں مشرقِ وسطیٰ کے پروگرام کے نائب ڈائریکٹر صنم وکیل نے کہا ’ پارلیمنٹ کی محدود طاقت کے باوجود اس کا اثرروٹی اور مکھن کے معاملات پر پڑتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ اگرچہ پارلیمان براہ راست خارجہ پالیسی پر اثرانداز نہیں ہوسکتی تاہم اس سے خارجہ پالیسی کے گرد سخت گیر آبادی والے ماحول میں مدد مل سکتی ہے‘۔ 
مثال کے طور پر یہ صدر کے مواخذے کا مطالبہ کر سکتا ہے اور ماضی میں بھی ہو ا ہے۔
 

شیئر: